کیا محمد علی مرزا شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ کا شاگرد ہے؟

کیا محمد علی مرزا شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ کا شاگرد ہے؟

بعض لوگ ،مخالفت برائے مخالفت کے عادی ہوتے ہیں یا بغض کی آ گ میں جل رہے ہوتےاور یہ آگ اس وقت خوب بھڑکتی ہے جب ان کے مخالف کی کوئی بات ان کے ہتھے چڑھ جائے خواہ جھوٹ ہی ہو۔ اس کی ایک جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی جب مرزا جہلمی نے شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمه اللہ کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو یار لوگوں نے اس پر مرزا صاحب کی گرفت تو نہ کی، البتہ حسبِ عادت محدث العصر زبیر علی زئی رحمه اللہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور سینے کا سارا کینہ زبان و قلم کے ذریعے باہر کیا، باوجودیکہ حافظ زبیر علی زئی رحمه اللہ کئی مواقع اور انداز سے مرزا جہلمی سے برأت کرچکے ہیں۔

ڈاکٹر حافظ عبد الباسط فہیم حفظہ اللہ مدرس مسجد نبوی نے ایک واٹس اپ گروپ میں واضح بھی کیا کہ شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ قبل جب عمرے کی سعادت کے لیے گئے تو وہاں شیخ رحمه اللہ نے مرزا جہلمی سے برأت کا اعلان کیا، وقتاً فوقتاً اپنے تلامذہ سے بھی اس بات کا اظہار کرتے رہتے تھے۔

ہم یہاں دو عمومی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں:

کیا مرزا محمد علی جہلمی محدث العصر زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا شاگرد ہے؟

(۱) مرزا محمد علی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ میں حافظ زبیر علی زئی رحمه اللہ کا شاگرد ہوں اور کئی عام و خاص اس تاثر کو قبول بھی کرلیتے ہیں، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ مرزا موصوف، شیخ رحمه اللہ کا شاگرد ہے۔ اس عارضی تعلق کا پس منظر یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمرا شیخ رحمہ اللہ کی خدمت میں حضرو پہنچا، آپ سے بہت سے سوالات کیے جن کے جوابات سے مطمئن ہوکر مرزا صاحب نے اہل حدیث ہونے کا اعلان کیا۔ جو اس راہ کے راہی ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ نئے راہ حق قبول کرنے والے ساتھیوں کو کس قدر توجی دی جاتی ہے، اسی بنا پر شیخ رحمہ اللہ نے بھی خصوصی توجہ دی اور یاد رہے کہ مرزا ہمیشہ کی طرح ایک سائل ہی ہوتا جس طرح سینکڑوں لوگ روزانہ فون پر یا ملاقات کرکے اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرتے تھے اور ان میں سے کبھی کسی نے شاگرد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ جب تک مرزا محمد علی خود کو اہل حدیث کہتا رہا اور سلف صالحین کا قدردان رہا، شیخ رحمه اللہ نے اس کی اصلاح کی غرض سے رابطہ برقرار رکھ لیکن جب یہ اہل حدیث اور اس کے منہج سے منحرف ہوگیا اور اصلاح کے پہلو معدوم ہوتے گئے تو محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے نہ صرف رابطہ ختم کردیا بلکہ برأت کا اعلان بھی کردیا، کیونکہ شیخ رحمه اللہ غیور اہل حدیث تھے۔ وللہ الحمد

مدارس میں اساتذہ سے باقاعدہ پڑھنے والے اورفارغ التحصیل بھی بغاوت کی راہ اختیار کرلیتے ہیں اور منہج سلف سے منہ موڑ لیتے ہیں، سر سے پاؤں تک غیر اسلامی حلیہ بنالیتے ہیں تو کیا ایسے میں ان مدارس یا اساتذہ کو مطعون کیا جاسکتا ہے؟ بالکل نہیں تو پھر مرزا محمد علی تو فقط ایک سائل تھا، اس کی نسبت محدث العصر کی طرف کرکے انھیں مطعون کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ شیخ رحمہ اللہ اس سےبرأت کا اعلان بھی کرچکے ہوں۔ امید واثق ہے کہ اس وضاحت کے بعد یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی کہ مرزا محمد علی، شیخ رحمہ اللہ کا شاگرد ہے، مزید براں بعد از برأت آپ کا اس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا۔

کیا محدث العصر رحمہ اللہ نے شیخ الاسلام امام ابن تیمیه رحمه اللہ کی توہین کی ہے؟

(۲) اسے غلط فہمی کے بجائے بہتان کہنا ہی درست ہوگا کہ حافظ زبیر علی زئی رحمه اللہ نے شیخ الاسلام امام ابن تیمیه رحمه اللہ کی توہین کی، والعیاذ باللہ۔

ماہنامہ ”الحدیث“ حضرو کے صفحات شاہد ہیں کہ جب بھی کسی غیر اہل حدیث نے شیخ الاسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی کوشش کی تو محدث العصر نے اسے دندان شکن جواب دیا۔ شیخ الاسلام کی اربعین کو اردو ترجمے، عمدہ تحقیق اور علمی فوائد کے ساتھ شائع کیا جو مذکورہ بہتان لگانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ کتاب کے آغاز میں بھر پور محنت اور محبت سے شیخ الاسلام کے حالات و خدمات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا، جسے ہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر ماہنامہ اشاعة الحدیث کے صفحات کی زینت بنارہے ہیں۔ (حافظ ندیم ظہیر)

ماخوذ از: ماہنامہ اشاعة الحدیث: شمارہ نمبر ۱۴۱ صفحہ۳۹ تا ۴۰

شیخ الاسلام امام ابن تیمیه اللہ رحمه اللہ کے حالات و خدمات ، محدث العصر رحمه اللہ کے قلم سے پڑھنے کیلئے ماہنامہ اشاعة الحدیث شمارہ نمبر ۱۴۱ ڈاؤنلوڈ کریں۔

Related Posts
Leave a reply
19+21= ? ( 40 )