امام بخاری کی قبر اور مشک کی خوشبو

امام بخاری رحمہ اللہ کی قبر کی مٹی سے مشک کی خوشبو کا آنا

آج کل عوام میں ایسی بہت سی خود ساختہ کہانیاں اور بناوٹی قصے عوام میں مشہور ہیں کہ فلاں میت کو دفنانے کے بعد اس کی قبر کی مٹی سے خوشبو آنے لگتی ہے اور پھر عوام میں اس مرنے والے کو برحق اور شہید ٹھرایا جاتا ہے۔ لیکن ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ 

اسی طرح کی ایک روایت امام بخاری رحمہ اللہ کی سیرت میں ہمیں ملتی ہے جوکہ درج ذیل ہے۔ 

امام بخاری کی قبر اور مشک کی خوشبو

محمد بن ابی حاتم الوراق (وراق البخاری) سے روایت ہے کہ میں نے (ابو منصور) غالب بن جبریل (الختنگی السمر قندی) سے سنا:

”جب ہم نے (امام) بخاری کا جنازہ پڑھا اور آپ کو قبر میں دفن کیا تو مٹی سے مشک (کستوری) کی خوشبو (مہک) آتی رہی اور عرصہ دراز تک لوگ دُور دُور سے آکر قبر کی مٹی کو بطورِ تبرک لے جاتے رہے۔“

(ہدی الساری ص ۴۹۳، تذکرۃ المحدثین از غلام رسول سعیدی بریلوی ص ۱۷۹)

تبصرہ: امام بخاری کی قبر اور مشک کی خوشبو والا یہ سارا قصہ ثابت نہیں ہے کیونکہ؛

* نہ تو محمد بن ابی حاتم الوراق کا ثقہ و صدوق ہونامعلوم ہے.

* اور نہ غالب بن جبریل کی توثیق کہیں ملی ہے۔

* محمد بن ابی حاتم الوراق تک سند بھی نا معلوم ہے۔

تنبیہ: مختلف قبروں کی مٹی اور خوشبو والے بے اصل اور ضعیف قصے آج کل عوام الناس میں بہت پھیلے ہوئے ہیں، جن سے اجتناب ضروری ہے۔ ﴿مقالات ج۳ ص۵۸۰﴾

LEAVE YOUR COMMENTS