ضعیف احادیث سے آگاہی کا بنیادی مقصد

ضعیف احادیث کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا پیجز بنانے کا بنیادی مقصد عوام میں پھیلی ہوئی ضعیف اور موضوع (من گھڑت) روایات کو صحیح احادیث سے الگ کرنا ہے تاکہ جو رسول اللہﷺ کا قول و فعل نہیں وہ آپﷺ کی طرف منسوب نہ ہو اور لوگ حدیث رسول ﷺ سمجھ کر اس پر عمل نہ کریں۔ کیونکہ صحیح حدیث دین ہے اور اس پر عمل کرنا واجب (فرض)ہے۔

جبکہ موضوع روایات نہ دین ہے اور نہ ہی کلامِ رسول ﷺ اس لیے ان پر عمل کرنا حرام ہے، اسی طرح ضعیف روایات اصل کے اعتبار سے مشکوک ہوتی ہے اور دین کی بنیاد یقین پر ہے شک پر نہیں، لہذا ضعیف احادیث سے اجتناب ضروری ہے۔

ہمارے ہاں مذہبی جہالت اور اندھی تقلید کا غلبہ ہے اور عوام کی اکثریت میں صحیح اور غیر صحیح میں تمیز کی صلاحیت نہیں ہے وہ بلاتحقیق ہر روایت کو جو رسول مکرمﷺ کی طرف منسوب ہو اسے حدیث سمجھتے ہیں ، چاہے وہ فرمانِ رسولﷺ نہ بھی ہو۔

ضعیف اور موضوع روایات کے پھیلنے سے امت مسلمہ میں بہت سے مفاسد پیدا ہوئے اور صحیح احادیث کی اہمیت باقی نہ رہی۔ اور اب ایسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے کہ اگر کسی (ضعیف اور من گھڑت) روایت کو ضعیف یا من گھڑت کہا جائے تو طرح طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں اور پروپگینڈہ کیا جاتا ہے کہ :

”جو حدیث ہم پیش کرتے ہیں وہابی اسے ضعیف کہ دیتے ہیں اور جو حدیث یہ (وہابی) پیش کرتے ہیں اسے صحیح کہتے ہیں اور یہ لوگ رسول اللہﷺ کے گستاخ ہیں جو رسول اللہﷺ کے فرمان کو ضعیف کہتے ہیں بھلا رسول اکرم ﷺ کا فرمان کیسے ضعیف ہوسکتا ہے؟“

( إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)

اس قسم کے غلط پروپگینڈہ سے عوام کو مشتعل کیا جاتا ہے حالانکہ یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ روایت ضعیف ہونے کا تعلق فرمان رسول ﷺ سے نہیں بلکہ اس سند (اور راویوں)سے ہے جس کے ذریعے فرمانِ رسولﷺ تک پہنچا جاتا ہے اس قسم کے غلط پروپگینڈہ کے پیچھے دراصل بدعتی ،سستی شہرت کے خواہش مند اور عوام سے اپنے علم کی داد وصول کرنے کے شوقین پیٹ کے پجاری مولویوں کا ہاتھ ہے۔

ان کو معلوم ہے کہ اگر لوگوں میں ضعیف روایات کے رد کرنے کا شعور بیدار ہوگیا تو ہماری بدعات ختم ہوجائیں گی۔ اہل بدعت و خرافات اپنے عقیدہ و مذہب کی اشاعت میں پوری توانائی صرف کررہے ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت اپنے موقف کی حمایت میں ضعیف اور من گھڑت روایات عوام میں پھیلا رہے ہیں۔

اس کاتقاضا یہی ہے کہ صحیح احادیث کی اشاعت اور اس پر عمل کے لیے اپنی توانائیاں صرف کی جائیں اور عوام کے سامنے ضعیف اور موضوع احادیث کو صحیح سے الگ کر کے رکھ دیا جائے اورعملاً اس مفروضے کو غلط ثابت کیا جائے کہ ضعیف اور من گھڑت روایات دین کا حصہ ہیں یا فرمان رسول اللہﷺ ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح ا ور ضعیف احادیث کو پہچاننے کی توفیق بخشے اور اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی صحیح احادیث پر عمل کرنے اور اسے دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a reply