ہماری ویب سائیٹ کے بارے میں

موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ضعیف احادیث اور موضوع روایات اوراسی طرح باطل آثار اور مختلف قسم کی حکایت کی بھرمار ہوچکی ہے ، اور لوگوں کی بھی انہیں بلابحث وتحقیق اور حدیث کی صحت کا لحاظ رکھے بغیرآگے پھیلانے کی عادت بن چکی ہے۔

جبکہ امام اعظم محمد رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

مَنْ يَقُلْ عَلَىَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

” جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ (صحیح بخاری: ۱۰۹)

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ موضوع (جھوٹی) روایت بیان کرنا حرام ہے۔

٭ نیز حافظ ابن حجر العسقلانی رحمه اللہ نے بھی لکھا ہے:

”اور اس پر انھوں (علمائے حدیث) نے اتفاق (اجماع) کیا کہ موضوع روایت بیان کرنا حرام ہے اِلا یہ کہ ساتھ ہی اس (کے موضوع ہونے) کی وضاحت کردی جائے۔“ (نزہۃ النظر شرح نخبۃ الفکر مع شرح الملا علی قاری: ص ۴۵۳)

٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موضوع روایت (بطورِجزم) بیان کرنے کو کبیرہ گناہوں میں ذکر کیا ہے۔ (دیکھئے کتاب الکبائر للذہبی: ص۱۵۳، الکبیرة التاسعۃ)

٭ حافظ ابن الصلاح نے فرمایا: ”جان لو! کہ بے شک موضوع حدیث ضعیف احادیث میں سب سے بری ہوتی ہے اور حال معلوم ہونے کے بعد کسی شخص کیلئے اسے روایت کرنا حلال نہیں، چاہے جس معنی میں ہو، ماسوائے اُس کے موضوع ہونے کا ذکر ساتھ بیان کردیا جائے۔“ (مقدمہ ابن الصلاح مع التقیید والایضاح: ص ۱۳۰-۱۳۱، دوسرا نسخہ:ص ۲۰۱)

مگر افسوس ہے ان لوگوں پر جو احادیث نبویہ اور آثارِ صحیحہ کے باوجود جھوٹی اور بے اصل روایتیں مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور آخرت کی پکڑ سے ذرا بھر بھی نہیں ڈرتے۔

٭ ایک طویل حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خواب میں دیکھا: ایک شخص کی باچھیں چیری جارہیں۔ (دیکھئے صحیح بخاری: ۱۳۸۶)

یہ عذاب اس لئے ہورہا تھا کہ وہ شخص جھوٹ بولتا تھا، لہٰذا آپ غور کریں کہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولنے یا جھوٹ پھیلانے والے کو کتنا بڑا عذاب ہوگا؟!

٭ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور (تم سب) جھوٹ سے بچ جاؤ۔ (صحیح مسلم: ۲۶۰۷)

٭ حافظ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی (متوفی ۴۵۶ھ) نے لکھا ہے: ”اس وقت تک وضعِ حدیث (کا فتنہ) باقی رہے گا، جب تک ابلیس اور اُس کے پیروکار رُوئے زمین پر موجود ہیں۔“ (المحلی ج ۹ ص ۱۳ مساَلہ: ۱۵۱۴)

معلوم ہوا کہ شیطان اور اُس کے چیلوں کی وجہ سے جھوٹی روایات گھڑنے اور ان کے پھیلانے کا فتنہ قیامت تک باقی رہے گا، لہٰذا ہر انسان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور اپنی خیر منانی چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹھکانہ جہنم مقرر کردیا گیا ہو اور بندہ اپنے آپ کو بڑا نیک، جنتی، مبلغ اور عظیم اسکالر سمجھتا رہے۔ !

ضعیف اور من گھڑت روایات، Zaeef Hadees, Zaeef Hadiths, Weak and Fabricated Hadiths

اسی مقصد کے تحت ہم نے ابتداء میں ایک فیس بک پیج بنایا تھا (جسے عوام کی طرف سے کافی سراہا گیا جس کا ثبوت آپ قارئین کے تاثرات میں دیکھ سکتے ہیں۔) اور اب اس کام کو مزید توسیع دیتے ہوئے ہم نے یہ ویب سائیٹ بنائی ہے جو کہ الحمد اللہ لوگوں کو ضعیف احادیث سے آگاہ کرنے اور صحیح روایات پھیلانے اور ان پر عمل کرنے کی طرف کافی راغب کررہی ہے۔

ضعیف احادیث کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا پیجز بنانے کا بنیادی مقصد عوام میں پھیلی ہوئی ضعیف اور موضوع (من گھڑت) روایات کو صحیح احادیث سے الگ کرنا ہے تاکہ جو رسول اللہﷺ کا قول و فعل نہیں وہ آپﷺ کی طرف منسوب نہ ہو اور لوگ حدیث رسول ﷺ سمجھ کر اس پر عمل نہ کریں۔ کیونکہ صحیح حدیث دین ہے اور اس پر عمل کرنا واجب (فرض)ہے۔

جبکہ موضوع روایات نہ دین ہے اور نہ ہی کلامِ رسول ﷺ اس لیے ان پر عمل کرنا حرام ہے، اسی طرح ضعیف روایات اصل کے اعتبار سے مشکوک ہوتی ہے اور دین کی بنیاد یقین پر ہے شک پر نہیں، لہذا ضعیف احادیث سے اجتناب ضروری ہے۔

ہمارے ہاں مذہبی جہالت اور اندھی تقلید کا غلبہ ہے اور عوام کی اکثریت میں صحیح اور غیر صحیح میں تمیز کی صلاحیت نہیں ہے وہ بلاتحقیق ہر روایت کو جو رسول مکرمﷺ کی طرف منسوب ہو اسے حدیث سمجھتے ہیں ، چاہے وہ فرمانِ رسولﷺ نہ بھی ہو۔

ضعیف اور موضوع روایات کے پھیلنے سے امت مسلمہ میں بہت سے مفاسد پیدا ہوئے اور صحیح احادیث کی اہمیت باقی نہ رہی۔ اور اب ایسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے کہ اگر کسی (ضعیف اور من گھڑت) روایت کو ضعیف یا من گھڑت کہا جائے تو طرح طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں اور پروپگینڈہ کیا جاتا ہے کہ :

”جو حدیث ہم پیش کرتے ہیں وہابی اسے ضعیف کہ دیتے ہیں اور جو حدیث یہ (وہابی) پیش کرتے ہیں اسے صحیح کہتے ہیں اور یہ لوگ رسول اللہﷺ کے گستاخ ہیں جو رسول اللہﷺ کے فرمان کو ضعیف کہتے ہیں بھلا رسول اکرم ﷺ کا فرمان کیسے ضعیف ہوسکتا ہے؟“

 إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

اس قسم کے غلط پروپگینڈہ سے عوام کو مشتعل کیا جاتا ہے حالانکہ یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ روایت ضعیف ہونے کا تعلق فرمان رسول ﷺ سے نہیں بلکہ اس سند (اور راویوں)سے ہے جس کے ذریعے فرمانِ رسولﷺ تک پہنچا جاتا ہے اس قسم کے غلط پروپگینڈہ کے پیچھے دراصل بدعتی ،سستی شہرت کے خواہش مند اور عوام سے اپنے علم کی داد وصول کرنے کے شوقین پیٹ کے پجاری مولویوں کا ہاتھ ہے۔

ان کو معلوم ہے کہ اگر لوگوں میں ضعیف روایات کے رد کرنے کا شعور بیدار ہوگیا تو ہماری بدعات ختم ہوجائیں گی۔ اہل بدعت و خرافات اپنے عقیدہ و مذہب کی اشاعت میں پوری توانائی صرف کررہے ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت اپنے موقف کی حمایت میں ضعیف اور من گھڑت روایات عوام میں پھیلا رہے ہیں۔

اس کاتقاضا یہی ہے کہ صحیح احادیث کی اشاعت اور اس پر عمل کے لیے اپنی توانائیاں صرف کی جائیں اور عوام کے سامنے ضعیف اور موضوع احادیث کو صحیح سے الگ کر کے رکھ دیا جائے اورعملاً اس مفروضے کو غلط ثابت کیا جائے کہ ضعیف اور من گھڑت روایات دین کا حصہ ہیں یا فرمان رسول اللہﷺ ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح ا ور ضعیف احادیث کو پہچاننے کی توفیق بخشے اور اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی صحیح احادیث پر عمل کرنے اور اسے دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین