وضو میں گردن پر مسح کرنا بدعت ہے – ضعیف احادیث

وضو میں گردن پر مسح کرنا بدعت ہے – ضعیف احادیث
زیادہ سے زیادہ شیئر کریں......Share on StumbleUponShare on LinkedInShare on TumblrPin on PinterestShare on Google+Share on RedditTweet about this on TwitterShare on Facebook

وضو میں گردن پر مسح کرنا

 

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل مرفوع روایت میں یہ لفظ ہیں : ”آپ ﷺ نے اپنی گردن کا مسح کیا“

(کشف الأستار للبزار:140/1)

اور طلحہ بن مصرف رضی اللہ عنہ عن ابیہ عن جدہ سے مروی ایک روایت میں بھی نبی ﷺ سے گردن کےمسح کا ذکر ہے۔

(طبرانی کبیر:180/19)

 

ضعیف: یہ ضعیف روایت ہے:

٭ پہلی روایت تین راویوں کی بنا پر ضعیف ہے:

۱-محمد بن حجر: امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے محل نظر کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کیلئے منا کیر ہیں۔(میزان الإعتدال:511/3)

۲-سعید بن عبد الجبار: امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے غیر قوی کہا ہے۔ (میزان الإعتدال:147/2)

۳-اُم عبد الجبار: ابن ترکمانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس کے حال اور نام کا کچھ علم نہیں۔(”الجوھر النقی“ ذیل السنن الکبری للبیھقی:30/2)

جبکہ دوسری روایت بھی تین راویوں کی بنا پر ضعیف ہے:

۱-ابو سلمۃ کندی عثمان بن مقسم البری: امام جوزجانی رحمہ اللہ نے اسے کذاب اور امام نسائی رحمہ اللہ و دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے متروک کہا ہے۔(میزان الإعتدال:56/3)

۲-لیث بن أبی سلیم: صدوق ہے لیکن اسے اختلاط ہوگیا تھا اور اس کی حدیث متمیز نہیں ہے لہٰذا اسے چھوڑ دیا گیا۔(تقریب التھذیب:138/2)

۳-طلحہ بن مصرف: یہ مجہول ہے۔(تقریب التھذیب:380/1)

تنبیہ:  ایک روایت میں ہے”گردن کا مسح خیانت سے امان (کا باعث) ہے۔ “

امام ابن صلاح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ خبر نبی ﷺ سے تو معروف نہیں البتہ بعض سلف کا قول ہے۔ (نیل الأوطار:254/1)

امام نووی رحمہ اللہ نے اس کو موضوع روایت قرار دیا ہے۔ (المجموع: 489/2)

فائدہ :

٭ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ سے وضو میں گردن کے مسح کے متعلق کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں (مجموع الفتاوی: 127/21)

٭ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گردن کے مسح میں نبی ﷺ سے کوئی بھی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔ (زاد المعاد: 195/1)

٭ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گردن کا مسح بدعت ہے۔ (المجموع: 489/1)

٭ امام مالک، امام شافعی، امام احمد (رحمہم اللہ) کے نزدیک گردن کا مسح مسنون نہیں (یعنی بدعت ہے) (الفتاوی الکبری لابن تیمیہ : 418/1)

Leave a reply