بیٹی کی فضیلت: پہلے بیٹی جننے والی عورت بابرکت اور خوش قسمت ہے!

بیٹی کی فضیلت: پہلے بیٹی جننے والی عورت بابرکت اور خوش قسمت ہے!

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیٹیوں کاذکر بیٹوں سے پہلے فرمایا ہے اور اس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ تمہاری طرف سے نظر انداز کی ہوئی یہ حقیر قسم میرے نزدیک ذکر میں مقدم ہے او ران کی کمزوری کےپیش نظر ان کا خصوصی خیال رکھنے کی تاکید کی خاطر انہیں ذکر میں مقدم کیاگیاہے۔ بیٹیاں ماں باپ کیلئے جہنم سے نجات کا باعث بن سکتی ہیں۔

 تین بیٹیاں اپنے محسن باپ کے لیے دوزخ کی آگ کےمقابلہ میں رکاوٹ ہوں گی۔ اگر کسی کی دوبیٹیاں ہوں تو وہ بھی اپنے محسن باپ کےلیے جہنم کی آگ کےمقابلہ میں رکاوٹ ہوگی۔ صرف بیٹیاں ہی نہیں بلکہ جس شخص کی جس کی تین بہنیں ہوں یا دو بہنیں اور وہ ان کے ساتح اچھا برتاؤ کرے اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرے تو اس کیلئے جنت کی بشارت ہے۔ دیکھئے؛ ترمذی: باب مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْبَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ

لیکن بیٹی کی فضیلت اور بیٹی پر حدیث سے متعلق ایسی کوئی بات باسند صحیح ثابت نہیں کے پہلے بیٹی جننا عورت کیلئے باعث برکت اور رحمت ہے۔ اس معنی کی دو تین ناکارہ اسناد سے منقول روایتیں درج ذیل ہیں؛  

پہلے بیٹی جننے والی عورت کی فضیلت

اس سلسلے کی پہلی روایت امام ابن عدی رحمہ اللہ نے  ”الکامل فی ضعفاء الرجال“ میں نقل فرمائی ہے ک نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

من يمن المرأة أن يكون بكرها جارية

“خوش قسمت اور بابرکت ہے وہ عورت جس کی پہلی اولاد بیٹی ہو”

موضوع (من گھڑت): یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے:

۱: اس روایت کو وضع کرنے کا الزام محمد بن محمد بن الاشعت پر ہے۔

٭ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

” یہ حدیث موضوع ہے ، اور اس کے وضع کا الزام اور تہمت ابن عدی کے شیخ محمد بن محمد بن الاشعث پر ہے ، ابن عدی نے اس کے ترجمہ میں اس کی پندرہ احادیث اسی اسناد سے نقل فرمائی ہیں ، اور ساتھ ہی فرمایا ہے کہ اس کی اکثر روایات منکر ہیں جن کا الزام اسی کے سر ہے “ (سلسلہ احادیث ضعیفہ: ج۹ ص۱۴۲)

دوسری روایت: 

 رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

تبكيرها بالبنات ؛ ألم تسمع الله يقول : (يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور) ، فبدأ بالإناث قبل الذكور

” عورت کی برکت میں سے ہے کہ اس سے پہلی اولاد لڑکی ہو، کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ پاک خود فرماتا ہے ( الله ہی جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے ) تو اللہ نے اولاد عطا کرنے کے بیان بیٹیوں سے ابتدا کی۔ “

موضوع: یہ روایت بھی موضوع یعنی من گھڑت ہے؛

۱: اس کا راوی حکیم بن حزام ”منکر الحدیث“ اور ”متروک الحدیث“ ہے۔

٭ اس روایت کو  علامہ البانی رحمہ اللہ نے موضوع قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں؛

”اسے محمد بن جعفرخرائطی (المتوفیٰ ۳۲۷ھ) نے مکارم الاخلاق میں جس سند سے نقل فرمایا ہے اس میں حکیم بن حزام واقع ہے۔ اسے امام بخاری رحمہ اللہ ”منکر الحدیث“ اور امام ابو حاتم الرازی  رحمہ اللہ ”متروک الحدیث“  کہتے ہیں ، اور امام ساجی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ باطل احادیث نقل کرتا ہے ، اور امام ابن الجوزی  رحمہ اللہ نے یہ مذکورہ روایت اپنی کتاب ”الموضوعات“ میں درج کی ہے ،یعنی ان کے نزدیک بھی یہ موضوع ہے۔“

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .