اگر نماز میں والدین پکاریں تو انہیں جواب دینا – من گھڑت حدیث

اگر نماز میں والدین پکاریں تو انہیں جواب دینا – من گھڑت حدیث

رسول اللہ ﷺ سے ایک روایت منسوب ہے کہ: 

لَوٗ أَدٗرَکٗتُ وَالِدَیَّ أَوٗ أَحَدَھُمَا وَ أَنَا فِی الصَّلَاةِ العِشَاءِ وَقَد قَرَأٗتُ فِیھَا فَاتِحَةَ الکِتَابِ یُنَادِیٗ یَا مُحَمَّد! لَأَجَبٗتُهُ: لَبَّیٗکَ

اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پالوں اور میں نماز عشاء پڑھ رہا ہوں، میں نے اس میں سورۂ فاتحہ کی قراءت کرلی ہو اور وہ مجھے پکارے اے محمد! تو میں اسے جواب دوں کہ میں حاضر ہوں۔

(شعب الایمان للبیہقي: ج۶ ص ۱۹۵ ح ۷۸۸۱)

حدیث موضوع (من گھڑت حدیث): یہ روایت من گھڑت ہے:

٭ اس کا راوی یاسین بن معاذ “متروک اور وضع ” ہے، وہ ثقہ راویوں سے موضوع روایات بیان  کرتا تھا۔

٭ امام ابن جوزی، امام شوکانی، علامہ سیوطی، علامہ طاہر پٹنی اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہم اللہ نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔

دیکھئے: الموضوعات لابن لاجوزی: ۸۵/۳، الفوائد المجموعة للشوکانی: ص ۲۳۰، اللآلی المصنوعة: ۲۵۰/۲، تذکرة الموضوعات لفتنی: ص ۲۰۲، السلسلة الأحادیث الضعیفة للالبانی: ۶۲۷۵

 

یہ روایت بھی پڑھئے:  ماں کے نافرمان کو موت کے وقت کلمہ پڑھنا نصیب نہیں ہوتا

Leave a reply
19+21= ? ( 40 )