• Home
  • تاریخی روایات
  • بابا رتن ہندی (بیرزطن ہندی) ایک ہندوستانی صحابی کا ذکر جماعت صحابہ کرام میں!
بابا رتن ہندی ایک ہندوستانی صحابی

بابا رتن ہندی (بیرزطن ہندی) ایک ہندوستانی صحابی کا ذکر جماعت صحابہ کرام میں!

ایک روایت اکثر سننے کو ملتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت میں کچھ ایسے مسلمانوں کا تذکرہ ملتا ہے جن کا تعلق ہندوستان سے تھا جیسے”حضرت بیرزطن ہندی (بابا رتن ہندی)“۔ لیکن بابا رتن ہندی یا بیر رطَن کا صحابی ہونا قطعاً ثابت نہیں ہے۔ ایسی ہی روایات کی تحقیق ذیل میں پڑھئیے:

بابا رتن ہندی ایک ہندوستانی صحابی

 

”تاریخی روایات میں جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اندر بعض ہندی مسلمانوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ مثلاً حضرت بیرزطن ہندی “

(فرقہ اہلحدیث پاک و ہند کا تحقیقی جائزہ ص۴ بحوالہ الاصابہ ج ۱ ص ۱۷۸)

تبصرہ: عرض ہے کہ چھٹی صدی اور ساتویں صدی کے خواجہ رطن یا رتن کا صحابی ہونا قطعاً ثابت نہیں ہے،;

* بلکہ حافظ ذہبی نے کہا: ”رتن شیخ دجال تھا جو چھٹی صدی کے بعد ظاہر ہوا اور صحابی ہونے کا دعویٰ کیا۔ “ (الاصابہ ج ۱ص ۵۳۷، میزان الاعتدال ج ۲ ص ۴۵ ، نیز دیکھئے نزھۃ الخواطرج ۱ ص ۱۶۸۔۱۶۹)

دوسری روایت: 

”۔۔۔ ہندوستان کے ایک راجہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک زنجبیل (تازہ ادرک یا خشک سونٹھ) کا تحفہ بھیجا۔ جسے آنحضرت ﷺ نے پسند فرمایا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے صحابہ کرام ؓ میں تقسیم فرمایا اور خود بھی تناول فرمایا۔“

(فرقہ اہلحدیث پاک و ہند کا تحقیقی جائزہ ص ۲، بحوالہ مستدرک حاکم ج۴ ص ۳۵)

تبصرہ: عرض ہے کہ مستدرک الحاکم (ج۴ص۱۳۵ح۷۱۹۰) کی یہ روایت کئی وجہ سے ضعیف و مردود ہے:
۱: مثلاً علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے۔ (تقریب التہذیب: ۴۷۳۴)
۲: عمرو بن حکام جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح تھا۔ (لسان المیزان: ج۴ص۳۶۰۔۳۶۱)
* یہ روایت منکر ہے۔ (دیکھئے میزان الاعتدال ج۳ ص ۲۵۴)

چھٹی یا ساتویں ہجری کے بابا رتن ہندی کے بارے میں بہت سی من گھڑت باتیں مشہور ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔

LEAVE YOUR COMMENTS