کیا کسی حدیث میں نمازِ فجر کے بعد سونے کی ممانعت ہے؟

کیا کسی حدیث میں نمازِ فجر کے بعد سونے کی ممانعت ہے؟

اس سے قبل کے مطلوبہ روایت سے متعلق بات کی جائے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فجر سے متصل بعد والا وہ وقت ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے بطور دعا فرمایا:

اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا

” اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت فرما۔ “

(صحیح، سنن أبي داود: ۲۶۰۶، سنن الترمذی: ۱۲۱۲، سنن ابن ماجه: ۲۲۳۶، سنن سعید بن منصور: ۲۳۸۲، مسند أحمد: ۴۱۶/۳ وغیره)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبح کے وقت میں برکت ہے، لہٰذا اسے سو کر یا لغویات و فضولیات میں پڑ کر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

نماز فجر کے بعد سونے کی ممانعت

البتہ کسی صحیح حدیث میں نماز فجر کے بعد سونے کی ممانعت نہیں، جن میں ممانعت کا ذکر ہے وہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں، ان کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

پہلی روایت: امالی المحالی (۱۸۹) میں سیدنا علی رضی اللہ عنه سے مروی ہے کہ:

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ۔ ۔ ۔ ۔

” رسول اللہ ﷺ نے طلوع آفتاب سے پہلے سونے سے منع کیا ہے۔ “

تجزیہ: اس روایت کی سند میں تین علتیں ہیں:

۱: نوفل بن عبد الملک

» اسے حافظ ابن حجر نے مَستُور کہا ہے۔ (التقریب: ۷۲۱۵)

» امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ” لیس بشيء“ ( سؤالات ابن الجنید: ۳۵۳)

۲: ربیع بن حبیب

» اس کی روایات کو حافظ ابن عدی نے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ (الکامل: ۹۹۵/۳)

۳: قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ”النَّوم“ تصحیف ہے، جیسا کہ سنن ابن ماجه (۲۲۰۶) میں: ” نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّومِ ۔ ۔ ۔ “ ہے۔

مذکور ہ بالا علتوں سے واضح ہوجاتاہے کہ یہ روایت ضعیف اور ناقابل حجت ہے۔

دوسری روایت: شعب الایمان للبیہقی (۴۴۰۶) میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

دخل رسول اللہ ﷺ علی فاطمة بعد أن صلی الصبح و هي نائمة ۔ ۔ ۔ ۔

” رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے ہاں تشریف لائے، جبکہ آپ صبح کی نماز کے بعد سورہی تھیں، آپ نے فرمایا: ” اے میری بیٹی! غافلوں میں سے مت ہو، طلوع فجر سے طلوع شمس تک لوگوں کے درمیان رزق کی تقسیم ہوتی ہے، لہٰذا (بیدار رہ کر) اس میں شمولیت اختیار کر۔“ 

جائزہ: یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ ؛

» اس کی سند میں عبد الملک بن ہارون بن عنترہ ”متروک و متہم بالکذب“ راوی ہے، دیکھئے کتب جرح و تعدیل وغیرہ۔

ہمارے علم کے مطابق ایسی کوئی حدیث صحیح نہیں جس میں نماز فجر کے بعد سونے سے ممانعت وارد ہو، لہٰذا نماز فجر کے بعد اگر سونے کی حاجت ہو تو سویا بھی جاسکتا ہے، تاہم وقتِ صبح بہترین مصروفیت میں گزارنا باعثِ برکت ضرور ہوگا۔ ان شاء اللہ

تحقیق: حافظ ندیم ظہیر حفظہ الله

فجر کی نماز کے بعد سونا کیسا ہے؟

سوال: کیا فجر کے بعد سونے کے بارے میں کوئی حکم ہے؟

جواب پڑھنے کیلئے یہ لنک دیکھیں۔

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .