کھڑے ہوکر جوتے پہننے: کیا کھڑے ہوکر جوتے پہننے حدیث میں منع ہیں؟

کھڑے ہوکر جوتے پہننے: کیا کھڑے ہوکر جوتے پہننے حدیث میں منع ہیں؟

کھڑے ہوکر جوتے پہننے کی ممانعت والی کوئی روایت بھی صحیح نہیں ہے۔ اس کے برعکس بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر جوتے پہننے دونوں طرح سے نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں، لہٰذا ان دونوں میں سے کوئی سا عمل بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ دونوں طرح جوتے پہننے جائز ہیں۔

کیا کھڑے ہوکر جوتے پہننے منع ہیں؟

کھڑے ہوکر جوتے پہننے سے ممانعت کی روایات کی تحقیق ذیل میں پڑھئے:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

نَهَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیٗهِ وَ سَلَّمَ أَنٗ یَنٗتَعِلَ الرَّجُلُ وَ ھُوَ قَائِمٌ.

“رسول اللہ ﷺ نے حالتِ قیام میں جوتے پہننے سے منع فرمایا ہے۔”

(سنن الترمذی: ۱۷۷۵، وقال: “ھذا حدیث غریب”)

سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ؛

۱: اس کا راوی حارث بن نبھان “متروک” راوی ہے۔ (تقریب التہذیب: ۱۰۵۱)

٭ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: “منکر الحدیث” (التاریخ الکبیر: ۲۸۴/۲)

٭ امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ نے “منکر الحدیث” قرار دیا ہے۔ (المعرفة والتاریخ: ۱۴۱/۳)

٭ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: “متروک الحدیث” (الضعفاء و المتروکون: ۱۱۶)

٭ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: “ضعیف” (تاریخ یحییٰ بن معین، روایة الدوری: ۲۲/۴)

٭ امام عجلی رحمہ اللہ نے “ضعیف الحدیث” کہا ہے۔ (الثقات: ۲۴۹)

٭ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا: “متروک الحدیث، ضعیف الحدیث، منکر الحدیث” (الجرح و التعدیل: ۹۲/۳)

تنبیہ: اس روایت کی اور بھی سندیں ہیں جو تمام کی تمام ضعیف ہیں۔ 

دوسری روایت: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:

نَهَى النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا

” نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر جوتے پہننے سے منع فرمایا ہے۔“ (سنن ابن ماجه: ۳۶۱۹)

تجزیہ: اس روایت کی سند میں سفیان الثوری ہیں جو کہ ثقہ متقن ہونے کے ساتھ ساتھ مدلس بھی ہیں اور یہ اصول مسلم ہے کہ مدلس کا عنعنہ مقبول نہیں، لہٰذا یہ روایت سفیان الثوری رحمہ اللہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔

تیسری روایت: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمً

” رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہوکر جوتے پہننے سے منع فرمایا ہے۔“ (سنن ابن ماجه: ۳۶۱۸، وسندہ ضعیف)

تجزیہ: اس سند میں دو راوی مدلس ہیں:
٭ ابو معاویہ الضریر: محمد بن خازم – یہ رواییت عن سے ہے اور سماع کی تصریح نہیں ہے۔
٭ سلیمان بن مہران الاعمش۔ یہ روایت عن سے ہے اور سماع کی صراحت نہیں ہے۔ سو یہ روایت بھی دو راویوں کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔

چوتھی روایت: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ

”رسول اللہ ﷺ نے حالتِ قیام میں جوتے پہننے سے منع فرمایا ہے۔“ (سنن الترمذی: ۱۷۷۶، وقال: ھذا حدیث غریب)

تجزیہ: اس روایت میں قتادہ بن دعامہ السدوسی معروف مدلس ہیں، لہٰذا یہ ان کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے غیر ثابت قرار دیا ہے۔ دیکھیں سنن الترمذی (۱۷۷۶)
نیز دیگر ضعیف روایات اور ان کی اسناد سے متعلق بحث کے لیے ملاحظہ کیجیے فتاویٰ علمیہ (۶۰۵/۱)
خلاصہ یہ کہ یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے۔

کھڑے ہوکر جوتے پہننے جائز ہیں

بعض علماء اس مسئلے میں بڑی شدت اختیار کرتے ہیں کہ جوتے صرف بیٹھ کر ہی پہنے جائیں، کھڑے ہوکر جوتے پہننے قطعاً جائز نہیں۔ جبکہ حالت قیام میں (کھڑے ہوکر) یا بیٹھ کر دونوں طرح جوتے پہننا جائز ہے۔ اور اس کی دلیل درج ذیل ہے:

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر پانی پیتے (نماز میں) اپنی دائیں اور بائیں جانب سے پھرتے، سفر میں روزہ رکھتے اور افطار، جوتے اتار کر اور جوتوں سمیت نماز پڑھتے،کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر جوتے پہنتے ہوئے دیکھا ہے۔“

(إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة: ۳۶۳/۴، ح ۴۹۰، وسندہ حسن)

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر دونوں طرح جوتے پہن لیتے تھے، لہٰذا صرف بیٹھ کر جوتے پہننے پر شدت اختیار کرنا اور کھڑے ہو کر جوتے پہننے کو ناجائز کہنا کسی طرح درست نہیں ہے۔

Zaeef Hadith

عوام اور خواص میں بدعات، باطل عقائد اور نظریات پھیلانے کا سبب بننے والی مشھور ضعیف، موضوع (من گھڑت)، بے سند اور بے اصل روایات، واقعات اور اقوال سے باخبر رکھنے کیلئے سب بہترین ویب سائیٹ۔

ہمارا فیس بک پیج ضرور لائیک کریں۔

جزکم اللہ خیراً

Related Posts
Leave a reply