چھوٹے بچوں کو مسجد لانا

چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانا: کیا حدیث ”اپنی مساجد کو بچوں سے محفوظ رکھو“ صحیح ہے؟

کسی صحیح حدیث میں بچوں کو مسجد لانے سے منع نہیں کیا گیا، تاہم جس روایت میں ممانعت ہے وہ سند کے اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔

چھوٹے بچوں کو مسجد لانے کی ممانعت

نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ:

جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ۔۔۔۔
”اپنی مساجد کو اپنے بچو ں سے محفوظ رکھو۔۔۔۔“ (سنن ابن ماجہ: ۷۵۰)

سخت ضعیف: یہ روایت کئی وجہ سے ضعیف ہے:

۱: عتبہ بن یقظان ضعیف ہے۔ (التقریب: ۴۴۴۴

۲: الحارث بن نبھان متروک ہے۔ (التقریب: ۱۰۵۱)

۳: ابو سعید الشامی مجہول ہے۔ (التقریب: ۸۱۳۱)

تنبیہ: امام طبرانی رحمہ اللہ نے مسندا لشامیین (۳۰۷/۴) میں وضاحت کی ہے کہ یہ ابو سعید، عبد القدوس بن حبیب ہے اور وہ متروک ہے۔ دیکھئے: دیوان الضعفاء (۲۵۸۶) وغیرہ

* اس روایت کا ایک شاہد السنن الکبریٰ للبیھقی (۱۰۳/۱۰) میں ہے، لیکن وہ بھی علاء بن کثیر الشامی متروک (التقریب: ۵۲۵۴) کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔

درج بالا تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جس روایت میں بچوں کو مساجد میں لے جانے کی ممانعت ہے وہ سند کے اعتبار سے شدید ضعیف ہے۔

چھوٹے بچوں کو مسجد لانا

اس کے برعکس صحیح احادیث کی رو سے ثابت ہے کہ ہر عمر کے بچوں کو مسجد لایا جاسکتاہے۔

*  سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

” ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی نواسی) امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے۔“  (صحیح مسلم: ۵۴۳/ رقم المسلسل: ۱۲۱۵)

امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ باب قائم کیا ہے: ”باب إِدْخَالِ الصِّبْيَانِ الْمَسَاجِدَ“  بچوں کو مساجد میں لے جانے کا بیان۔ (سنن النسائی قبل الحدیث: ۷۱۲)

* ایک طویل حدیث ہےکہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

” ہم خود (عاشوراء کا) روزہ رکھتے اور اگر اللہ چاہتا تو اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم (ان بچوں کے ہمراہ) مسجد کی طرف جاتے تو ان کیلئے اُون کا کھلونا بنالیتے۔ جب ان میں سے کوئی افطار کے قریب کھانے کے لیے روتا تو ہم (اس کی توجہ ہٹانے کے لیے) وہ (کھلونا) اسے دے دیتے۔“ (صحیح مسلم: ۱۱۳۶/۱۳۶)

یہ حدیث دلیل ہے کہ عہد نبوت میں صحابیات و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بچوں کو اپنے ہمرا مسجد لے کے جاتے تھے۔

*اس طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:4

” رسول اللہ ﷺ ماں کے ساتھ (آئے ہوئے) بچے کا رونا سنتے، جبکہ آپ نماز میں ہوتے تو ہلکی سورت، یعنی اسے مختصر کرلیتے (پھر کوئی) چھوٹی سورت پڑھتے تھے۔“  (صحیح مسلم: ۴۷۰/۱۹۱)

* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

” اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب وہ دس برس کے ہوں تو انھیں نماز چھوڑنے پر مارو اور ان کے بستر جدا کردو۔ “ (سنن ابی داود: ۴۹۴، سنن الترمذی: ۴۰۷ وسندہ صحیح)

(درج بالا) صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ بچوں کو مسجد میں اپنے ساتھ لے کر جانا مسنون ہے تاکہ ان کی تربیت ہو اور انہیں نماز کی اہمیت معلوم ہوسکے۔

تحقیق: حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

LEAVE YOUR COMMENTS