نہار منہ پانی پینے کے نقصانات اور فائدے: کیا نہار منہ پانی پینا حدیث میں منع ہے؟

نہار منہ پانی پینے کے نقصانات اور فائدے: کیا نہار منہ پانی پینا حدیث میں منع ہے؟

طب نبوی ایک مستقل موضوع ہے۔ ائمہ محدثین نے اپنی شاہکار تصانیف میں اسے ایک مستقل کتاب کی صورت میں ذکر کیا ہے۔ اس میں بھی وہی احتیاط ملحوظ رکھی جائے، جو دیگر احکام ومسائل میں رکھی جاتی ہے۔ طب نبوی وہی ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باسند صحیح یا حسن ثابت ہے۔

کیا نہار منہ پانی حدیث میں منع ہے؟ یہ تو ڈاکٹرز اور حکماء واطباء ہی بتا سکتے ہیں، لیکن نہار منہ پانی پینے کے نقصانات کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کی جاتی ہے، اس کی استنادی حیثیت کیا ہے؟ ملاحظہ ہو؛

نہار منہ پانی پینے کے نقصانات

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:​

مَنْ شَرِبَ الْمَاءَ عَلَى الرِّيقِ انْتَقَصَتْ قُوَّتُهُ

”نہار منہ پانی پینا جسمانی قوت کے لیے نقصان دہ ہے۔“

(المعجم الأوسط للطبراني : ۴۶۴۶)

تبصرہ: اس کی سند سخت ضعیف ہے، کیوں کہ

۱:  محمد بن مخلد ابو اسلم الرعینی الحمصی منکر الحدیث ہے۔

٭ امام ابن عدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :​ وَهو منكر الحديث عن كل من يروي عنه ۔

”یہ جس سے بھی روایت کرے، منکر الحدیث ہے۔“ (الکامل في ضعفاء الرجال : ۱۷۳۴)

٭ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ (موسوعة أقوال الدارقطني : ۳۳۴۴)

۲: عبد الرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔

٭ اسے امام علی ابن مدینی، امام احمد بن حنبل، امام یحی بن معین، امام ابو زرعہ، امام ابو داود، امام نسائی، امام ابن حبان، امام ابن عدی، امام ابو حاتم رازی اور امام حاکم وغیرہ نے ضعیف ومجروح قرار دیا ہے۔

۳: عبید اللہ بن محمد بن خنیس ابو علی الدمیاطی نا معلوم افراد (مجہول) میں سے ہے۔

٭ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :​
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

”یہ معجم الاوسط للطبرانی کی روایت ہے، اس میں محمد بن مخلد الرعینی راوی ضعیف ہے۔“ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد : ۸۶/۵)

نوٹ: اس حدیث کا ایک شاہد (المعجم الأوسط للطبراني : ۶۵۵۷، تاريخ دمشق لابن عساكر : ۴۵۶/۲۴) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ لیکن اس کی سند بھی سخت ضعیف ہے۔ محمد بن ابی غسان، ابو نعیم عبد الاول المعلم، ابو امیہ الایلی اور زفر بن واصل کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔

٭ چنانچہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
غريب الإسناد والمتن ۔ ”اس کی سند اور متن عجیب ہیں۔“

٭ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :​
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

” اسے امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے اور اس میں کئی راویوں کو میں نہیں پہچان سکا۔“(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد : ۳۰۲/۱۰)

پس ثابت ہوا کہ نہار منہ پانی پینے کے نقصانات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔​

نہار منہ پانی پینے کے نقصانات کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں نہار منہ پانی پینے کے فائدے بیان کئے گئے ہیں۔   یہاں وہ روایات درج کی جاتی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے طور پر نہار مُنہ یعنی صبح صبح خالی پیٹ پانی پینا  کے فائدے ذکر ہیں۔

نہار منہ پانی پینے کے فائدے

۱:  عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن سے فرمایا:

” اے ابن عباس کیا میں تمہیں تحفے میں وہ (چیز یا بات ) نہ دوں جو مجھے جبرئیل (علیہ السلام ) نے جادُو ہونے کی صورت میں بچاو کے لیے سکھائی ، تم کسی برتن پر زعفران کے ساتھ (سورت)الفاتحہ ، اور دونوں پناہ طلب کرنے والی (یعنی سورت الفلق اور سورت الناس )اور سورت الاِخلاص اور سورت یس اور (سورت) الواقعہ اور (سورت) الجُمعہ اور (سورت)المُلک لکھو اور پھر اس (لکھے ہوئے ) پر زمزم کا پانی یا بارچ کا پانی ڈالو اور اس میں تین مثقال دودھ ملا کر پہار مُنہ پی لو“   

(الفردوس بمأثور الخطاب: ج۵ ص ۳۵۹، ح ۸۴۳۶)

تبصرہ: یہ روایت ایک ایسی کتاب میں ہے جس میں صرف ناقابل حجت ، ضعیف اور من گھڑت یعنی موضوع روایات کو جمع کیا گیا ، یعنی یہ روایت ناقابل اعتماد و نا قابل حجت ہے ، 

 

۲: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:

 شرب الماء على الريق يفقد الشحم

نہار مُنہ پانی پینے سے چربی ختم ہوتی ہے

(الکامل فی ضعفاء الرجال:  باب من اسمہ عاصم کا ترجمہ: ج۵، ص ۲۳۷، رقم: ۶) 

تبصرہ: یہ روایت بھی ایک اسی قسم کی کتاب میں ہے ، جس میں کمزور اور جھوٹے راویوں کی رویات کا ذکر ہے اور اس روایت کو بھی ایک راوی ” عاصم بن سلیمان الکوزی“  کی وجہ سے اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے ، کیونکہ اس راوی کو أئمہ حدیث نے جھوٹا ، روایات گھڑنے والا قرار دیا ہے ۔

حاصل کلام یہ ہوا کہ اس موضوع یعنی "نہار منہ پانی پینے ” کے متعلق رسول اللہﷺ کی طرف سے کسی فائدے یا نقصان کی کوئی خبر بظاہر نہیں ملتی۔ لہذا اسکو شریعت سے جوڑنے کے بجائے طبیعت سے جوڑا جائے اور جس انسان کو اسکے مخصوص مرض کے احوال اجازت نہ دیں وہ نہار منہ پانی سے اجتناب کرے۔

Related Posts
Comments ( 4 )
  1. Omer khalil
    3 اکتوبر, 2017 at 12:20 صبح
    Reply

    Pleas whats app pe share karny ka option bhi deen jazak Allah Khair

    • Zaeef Hadees Urdu
      4 اکتوبر, 2017 at 4:19 شام
      Reply

      ان شاء اللہ کوشش کریں گے کہ واٹس ایپ پر بھی شیئر کرنے کا آپشن شامل ہوجائے۔ اگر نہ ہوسکا تو آپ خودکار طریقہ سے واٹس پر پوسٹ کریں۔

  2. Muhammad omer khalil
    3 اکتوبر, 2017 at 12:16 صبح
    Reply

    As salam Alikom
    Shaikh jazak Allah Khair bohot sare loog social media par daif riwayat phela kar ummat ko gumrah kar rahy heen – Main ny khid ye nahar mo pani pene wali riwayat social media pe parhi
    Jazak Qllah khair ke App ny tafseelan zikar ki

    App se sawalat kis tarhan poochy ja sakty heen wo bhi batay taky deeni masail ham ap ki khidmat main pooch sakeeen
    Ap ke jawab ka muntazir
    As salam alikom
    Warahmatullahi
    Wabarakatuh

    • Zaeef Hadees Urdu
      4 اکتوبر, 2017 at 4:18 شام
      Reply

      وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاته
      احادیث کی تحقیق سے متعلق سوالات کیلئے آپ ہمارے فیس بک پیج پر میسج بھیج سکتے ہیں۔ باقی اس ویب سائیٹ کا رابطہ کا صفحہ بھی موجود ہے لیکن آپ ہمارے فیس بک پیج پر اگر پوچھیں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہماری ویب سائیٹ پر ابھی کام ہورہا ہے۔
      جزاک اللہ خیراً

Leave a reply