ناخن کاٹنے کا دن، ناخن تراشنے کا طریقہ، ناخن کاٹنے کا سنت طریقہ، جمعہ کے دن ناخن کاٹنا

ناخن کاٹنے کی ترتیب اور مخصوص دن سے متعلق کوئی صحیح روایت ثابت نہیں!

ہاتھوں کے ناخن تراشنے کا طریقہ

 

ناخن، ناخن کاٹنا، ناخن کاٹنے کی ترتیب، ناخن کاٹنے کا سنت طریقہ

 

تبصرہ: ناخن کاٹنے کی ترتیب  سے متعلق  ایک روایت اس طرح ملتی ہے :

۱:  الامام السیوطی رحمہ اللہ (المتوفی ۹۱۱)نے :
قال القاضي وقد روى وكيعٌ بإسناده عن عائشةَ رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: إذا أنتِ قلّمتِ أظفارَكِ فابدئي بالوسطى ثمّ بالخنصر ثمّ والإبهام ثمّ البنصر ثمّ السبّابة فإنّ ذلك يورث الغنى.(الإسفار عن قلم الأظفار:ق 7أ)

۲: اسی طرح ایک روایت اس طرح ہے:

 الامام السیوطی رحمہ اللہ (المتوفی ۹۱۱)نے :
وأخرج الديلميّ في "مسند الفردوس” بسندٍ واهٍ عن أبي هريرة مرفوعًا: من أراد أن يأمن الفقر وشكاية العمى والبرص والجنون فلا يقلم أظفاره يوم الخميس بعد العصر وليبدأ بخنصره اليسرى.(الإسفار عن قلم الأظفار: ق 3أ )

تبصرہ: 

* پہلی روایت کی کوئی سند دستیاب نہیں ہے۔
* اور دوسری روایت کی سند کو خود امام سیوطی رحمہ اللہ نے سخت ضعیف کہا ہے۔

یعنی ناخن کاٹنے میں ترتیب(ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ) سے متعلق  ایک بھی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔

ناخن کاٹنے (تراشنے) سنت ہیں۔ اور ان کو کاٹنے کے لئے کوئی دن یا مخصوص طریقہ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ جس طرح آسانی ہو آپ تراش سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ چالیس دن مدت ہے۔ اس سے زیادہ دن گزرنے پر ناخن نہ تراشنا گناہ ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھئے:  ناخن تراشنے کی ضعیف حدیث کو ضعیف ماننے پر بعض علماء برص میں مبتلاء ہوگئے

*حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى 852)نے کہا:
ولم يثبت في ترتيب الأصابع عند القص شيء من الأحاديث
ناخن کاٹتے وقت انگلیوں کی ترتیب سے متعلق کوئی حدیث ثابت نہیں ہے(فتح الباری لابن حجر: 10/ 345)

* حافظ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
لم یثبت في کیفیته، ولا في تعیین یوم له، عن النبي صلی اللہ علیه و سلم شيء
”ناخن تراشنے کی کیفیت اور دن کا تعین نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔“ (المقاصد الحسنۃ، ص ۴۸۹، تحت الحدیث: ۷۷۲)

 

LEAVE YOUR COMMENTS