کیا عصر کے بعد سونے سے عقل کم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے؟

کیا عصر کے بعد سونے سے عقل کم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے؟

آپ نےانٹرنیٹ اور سوشل میڈیا وغیرہ پر اکثر سنا یا پڑھا ہوگا کہ عصر کے بعد اور فجر کی نماز کے بعد سونے سے حدیث میں منع کیا گیا ہے۔ لیکن اس طرح کی کوئی بھی روایت صحیح نہیں جن میں ان اوقات میں سونے کی ممانعت ہو۔ ہمارے علم کے مطابق  ایسی روایت جس میں عصر کے بعد سونا منع ہو یا ایسی روایت جس میں عصر کے بعد سونے کے نقصانات بیان ہوئے ہوں باسند صحیح ثابت نہیں لہٰذا اگر سونے کی حاجت ہو تو عصر کے بعد سونا جائز ہے۔

عصر کے بعد سونے سے متعلق ایک روایت کی تحقیق ذیل میں پڑھیے؛

عصر کے بعد سونا  عقل کی کمی کا باعث

من نام بعد العصر فاختلس عقلہ فلا یلومن الا نفسہ

” جوشخص عصر کے بعد سویااور اس کی عقل ميں فتور پیدا ہو جائے (عقل کم کردی جائے)تووہ صرف اپنے آپ کو ہی ملا مت کرے ۔“

سخت ضعیف: یہ حدیث بہت ہی زيادہ ضعیف ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، دیکھیں:

٭ سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃو الموضوعۃ (۳۹)

٭الموضوعات  لابن جوزی ( ۶۹/۳ )

٭ اللآلی المصنوعۃ  للسیوطی(۲۷۹/۲)

٭ اور ترتیب الموضوعات للذھبی ( ۸۳۹ )

عصر کے بعد سونا جائز اور مباح ہے، اس وقت میں سونے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی چیز ثابت نہیں ہے۔

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .