شب برأت کا روزہ، شعبان کی فضیلت، ضعیف احادیث، من گھڑت احادیث، zaeef hadees

شب برأت کی رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنا

شب برأت کی رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنا

”جب پندرہویں شعبان کی رات ہو تو رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے پر آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے، اور کہتا ہے : ہے کوئی معافی مانگنے والا جسے میں بخش دوں! ہے کوئی روزی مانگنے والا جسے میں روزی دوں! ہےکوئی بیمار جسے میں اچھا کر دوں ! ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ویسا! یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوجاتا ہے۔“

(ابن ماجہ ، اقامۃ الصلاۃ: رقم 1388 ، عن علی رضہ اللہ عنہ)

حدیث موضوع (من گھڑت حدیث): یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے:

* اس کا راوی (ابو بکر بن عبد اللہ بن محمد ) ابن ابی سبرۃ ”کذاب“ اور ”وضاع“ے۔ ( تقریب التہذیب : ۷۹۷۳)

* امام احمد اور یحیٰ بن معین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ :”یہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا.“(میزان الاعتدال 503/4 ، تقریب: رقم 8030)

* شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (سلسلہ الضعیفہ: 2132)

تنبیہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس مفہوم کی دیگر موضوع و مردود روایات بھی مروی ہیں۔

دیکھئے الموضوعات لابن الجوزی (۱۲۷/۲) میزان الاعتدال (۱۲۰/۳) واللآلی المصنوعة (۶۰/۲)

 

یہ روایت بھی پڑھئے:  مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل بارہ سال کی عبادت کے برابر

 

صحیح حدیث:

اللہ تعالیٰ صرف پندرہ شعبان نہیں بلکہ ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

” ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں ۔ “

(صحیح بخاری: ۱۱۴۵)

LEAVE YOUR COMMENTS