کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنه اپنے آپ کو منافق سمجھتے تھے؟

کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنه اپنے آپ کو منافق سمجھتے تھے؟

تجلیات صداقت کی روایت کی تحقیق

محمد حسین نجفی (شیعہ )نے لکھا ہے:

”عمر صاحب عموماًً جناب حذیفہ سے (جن کو آنحضرت نے بعض منافقین کے نام بتائے تھے اس لئے انکو صاحب السّرِ (راز دارِ رسول) کہا جاتا تھا۔ دریافت کیا کرتے تھے کہ کہیں میرا نام تو مناقوں میں نہیں ہے؟ مگر وہ حکمِ نبوی کے مطابق بتانے سے گریز کرتے۔ بالآخر ایک دن خود ہی کہہ دیا۔ باللہ یا حذیفہ انا من المنافقین۔ اے حذیفہؓ! خدا کی قسم میں منافقوں میں سے ہوں“ (میزان الاعتدال:ج۱ص۳۶۵)

صاحبان انصاف غور فرمائیں جو صاحب خود قسمیں کھا کھا اپنے منافق ہونے کا اعلان کریں (واقرار العقلأ علی انفسہم جائز) تو ہم کیونکر ان کو مومن کامل تصور کرسکتے ہیں؟ یہ مدعی سست، گواہ چست والا معاملہ ہوجائے گا۔ جسے دانشمندانہ معاملہ نہین قرار دیا جاسکتا۔ (تجلیات صداقت ص ۴۵)

تجزیہ: میزان الاعتدال میں یہ روایت بے سند ہے لیکن درج ذیل کتابوں میں یہ اعمش عن زید بن وہب کی سند سے مذکور ہے:

۱: مصنف ابن ابی شیبہ (۱۰۷/۱۵ح۳۷۳۷۹)

۲: السنة للخلال (۱۲۸۸، ۱۶۳۰)

۳: کتاب المعرفة (التاریخ للامام یعقوب بن سفیان الفارسی: ۷۷۹/۲)

۴: مسند مسدد (بحوالہ المطالب العالیہ لابن حجر: ۳۷۳۷ وقال: ”إسناده صحیح“!!)

» یہ روایت سلیمان بن مہران الاعمش کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔

» ان تمام کتابوں میں اس روایت میں اعمش کے زید بن وہب سے سماع کی تصریح موجود نہیں اور سلیمان بن مہران الاعمش ثقہ مدلس تھے۔ اگرچہ حافظ ابن حجر نے اس سند کو اسنادہ صحیح اور اعمش کو طبقات المدلسین کے طبقہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے لیکن اُن کی یہ تحقیق جمہور محدثین اور اصولِ حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔

۱: اعمش کے شاگرد امام شعبہ نے فرمایا: تین آدمیوں کی تدلیس کے لئے میں تمہارے لئے کافی ہوں: اعمش، ابو اسحاق اور قتادہ۔ (مسألة التسمیه لابن طاہر المقدسی ص ۴۷ وسندہ صحیح)

۲: حافظ ابن حبان نے اعمش کو ان مدلس راویوں میں ذکر کیا ہے جن کی عن والی روایت حافظ ابن حبان کے نزدیک حجت نہیں ہوتی، اِلا یہ کہ وہ تصریح سماع کریں۔ (دیکھئے کتاب المجروحین: ۹۲/۱ دوسرا نسخہ: ۸۶/۱، صحیح ابن حبان: ۱۶۱/۱ دوسرا نسخه: ۹۰/۱)

۳: اعمش ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کرتے تھے۔ (مثلاً دیکھئے میزان الاعتدال: ۲۲۴/۲)

» اور جو راوی ضعیف راویوں سے تدلیس کرے تو اس کی عن والی روایت (بالاولیٰ) مردود ہوتی ہے۔ (نیز دیکھئے الموقظة [فی اصول حدیث] للذہبی: ص ۹۹)

۴: اعمش کا مدلس ہونا ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔

اور امام شافعی رحمه اللہ فرماتے ہیں:
” جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہوگیا کہ اُس نے ایک دفعہ تدلیس کی ہے تو اُس نے اپنی پوشیدہ بات ہمارے سامنے ظاہر کردی۔۔۔۔ پس ہم نے کہا: ہم کسی مدلس سے کوئی حدیث قبول نہیں کرتے حتیٰ کہ وہ حدثنی یا سمعت کہے۔ (الرسالة: ۱۰۳۳، ۱۰۳۵)

۵: خود حافظ ابن حجر نے اپنی دوسری کتاب النکت علیٰ ابن الصلاح (۶۴۰/۲) میں اعمش کو طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا، نیز اعمش کی بیان کردہ ایک معنعن روایت کو معلول (ضعیف) قرار دیا اور فرمایا: چونکہ اعمش مدلس ہیں اور انھوں نے عطاء سے اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا۔ (التلخیص الحبیر: ۱۹/۳ح۱۱۸۱)
یعنی خود حافظ ابن حجر کے نزدیک اعمش کثرت سے تدلیس کرنے والوں میں سے ہیں۔

روایت کے ضعیف و مردود ہونے کے بعد عرض ہے کہ اس روایت میں یہ ہرگز نہیں لکھا ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنه اپنے آپ کو منافق سمجھتے تھے بلکہ صرف یہ لکھا ہوا ہے:
فقال: ”أبا الله منهم أنا“ پس عمر (رضی اللہ عنه) نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا میں بھی اُن میں سے ہوں؟ حذیفہ (رضی اللہ عنه) نے فرمایا: ”لا“ نہیں۔ (مطالب العالیہ: ۲۴۰/۸ بحوالہ مسدد)

اس ضعیف روایت سے بھی یہی ظاہر ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنه نے اپنے آپ کو منافق نہیں کہا تھا بلکہ تواضع کے طور پر سوال کیا تھا اور حذیفہ رضی اللہ عنه نے” لا “ کہہ کر یہ فیصلہ کردیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنه منافق نہیں بلکہ سچے مومن ہیں۔

اس بات کو چھپا کر محمد حسین نجفی نے اپنے اسلاف کا منہج و طرزِ عمل تازہ کردیا ہے۔

ہمارے نزدیک تو یہ روایت ضعیف یعنی مردود ہے، لہٰذا اس پر استدلال کی بنیاد رکھنا بھی باطل اور مردود ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنه کے ایمان کی گواہی 

نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے سیدنا عمر رضی اللہ عنه کے ایمان کی گواہی فرمائی ہے۔

» آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے عمر (رضی اللہ عنہ) کے دل و زبان پر حق جاری کر رکھا ہے۔ (صحیح ابن حبان، موار الظمآن: ۲۱۸۴ وسندہ صحیح)

» رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دین کی گواہی دی۔ (صحیح بخاری: ۳۶۹۱، صحیح مسلم: ۳۳۹۰)

» رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے سیدنا عمر رضی اللہ عنه کو جنتی کہا۔ (سنن ترمذی: ۳۷۴۷ سندہ صحیح)

» نبی کریم ﷺ  نے فرمایا:

”میں جنت میں داخل ہوا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) میں جنت میں گیا ، وہاں میں نے ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ محل کس کاہے ؟ فرشتوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ۔“ (صحیح بخاری: ۵۲۲۶، ۷۰۲۴، صحیح مسلم: ۳۳۹۴)

» سیدنا علی رضی اللہ عنه سے پوچھا گیا: رسول اللہ ﷺ کے بعد کون سا شخص لوگوں میں سب سے بہتر ہے؟ انھوں نے فرمایا: ابو بکر۔ پھر پوچھا گیا: ان کے بعد کون ہے؟ انھوں نے فرمایا: عمر۔ (صحیح بخاری: ۳۶۷۱، یہ متواتر روایت ہے)

» اما م ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین الباقر رحمه اللہ نے فرمایا: جس شخص کو ابوبکر اور عمر رضی اللہ کے فضائل معلوم نہیں، وہ شخص سنت سے جاہل ہے۔ (کتاب الشریعة للآجری: ص۸۵۱ح۱۸۰۳، سندہ حسن لذاتہ)

» امام ابو جعفر محمد بن علی الباقر رحمہ اللہ نے اپنی بیماری کی حالت میں فرمایا:
”اے اللہ ! میں ابو بکر اور عمر کو اپنا ولی مانتا ہوں اور ان دونوں سے محبت کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر میرے دل میں اس کے خلاف کوئی بات ہو تو قیامت کے دن مجھے محمد ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو۔ (تاریخ دمشق: ۲۲۳/۵۷ سندہ حسن لذاتہ)

» امام جعفر بن محمد الصادق رحمه اللہ نے فرمایا: اللہ اس شخص سے بری ہے جو ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنهما) سے بری ہے۔ (فضائل الصحابہ للامام احمد بن حنبل: ۱۶۰/۱ح ۱۴۳، وسندہ صحیح)

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، تمام صحابۂ کرام، ازواج مطہرات اوت تمام اہل بیت کی محبت بھردے۔ آمین

تحقیق: محدث زبیر علی زئی رحمه الله

Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .