سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بہتانِ عظیم: حضرت عمر نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ پر لات ماری

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بہتانِ عظیم: حضرت عمر نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ پر لات ماری

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین پر دشمنان صحابہ اور روافض  تبرا کرنے کیلئے اکثر بے سند اور بے اصل باتیں گھڑ کر عوام میں پھیالتے رہتے ہیں۔ اسی طرح روافض کی جانب سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بہتان لگایا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ پر لات مار کر ان کے پیٹ کا بچہ گرادیا تھا۔ اس بہتان عظیم کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کا ثبوت نہ تو اہل سنت کی کتابوں میں ملتا ہے اور نہ شیعہ روافض کی کتابوں میں۔ اس بہتان کی حقیقت ذیل میں پڑھیے؛

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ پر لات ماری

علامہ ابو الفتح محمد شہرستانی ایک رافضی کذاب ابراہیم بن یسار ابن ہانی النظام (رافضی شیعہ) کا ایک جھوٹ بیان کرتے ہیں کہ اس کذاب نے کہا:

” (سیدنا ) عمر (رضی اللہ عنہ) نے بیعت والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ پر مارا اور ان کے پیٹ کا بچہ گرگیا۔ عمر (رضی اللہ عنہا) پکار کر کہہ رہے تھے کہ اس (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے گھر کو گھر والوں سمیت جلادو۔ گھر میں سوائے سیدنا علی ، سیدہ فاطمہ ، سیدنا حسین اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہم کے کوئی نہ تھا۔ “

(الملل و النحل للشھرستانی : ۵۷/۱ ، الوافی بالوفیات للصفدی:۳۴۸/۵)

بے اصل اور من گھڑت: یہ روایت دنیا کا سفید جھوٹ اور شیطان لعین کی کارستانی ہے۔

٭ اس روایت کی نہ تو ابراہیم بن یسار تک کوئی سند مذکور ہے نہ ابراہیم سے آگے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک کوئی سند دنیا کی کسی معتبر کتاب میں موجود ہے۔ اس طرح کی جھوٹی، بے سند اور بے سرو پا روایات سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف پراپیگنڈہ کرنا ناعاقبت اندیشی ہے۔

٭ ابراہیم بن یسار ابن ہانی النظام گندے عقیدے کا حامل تھا اور یونانی فلسفے سے بہت متاثر تھا۔ معتزلی مذہب رکھتا تھا اور اس کے نام پر فرقہ نظامیہ نے جنم لیا۔

٭ حافظ ذہبی نے احمد بن محمد بن ابی دارم ابوبکر کوفی کے ترجمہ میں ابو الحسن محمد بن احمد کوفی حافظ کے حوالے سے اس کے بارے میں لکھا ہے:

” وہ ساری عمر درست نظریے اور عقیدے پر رہا ، لیکن عمر کے آخری دور میں اس کے پاس عام طور پر صحابہ کرام کے خلاف ہرزہ سرائیاں ہی پڑھی جاتی تھیں۔ میں ایک دن اس کے پاس آیا تو ایک آدمی اس کے پاس یہ روایت پڑھ رہا تھا کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ظلم کیا حتی کہ ان کے پیٹ کا بچہ محسن گرگیا۔ “  (میزان الاعتدال للذھبی :۱۳۹/۱ ، ت: ۵۵۲ أحمد بن محمد بن السری)

٭ اس روایت کو بیان کرنے والے ابن ابی دارم کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکتے ہیں: ” یہ رافضی اور سخت جھوٹا تھا۔ “ (میزان الاعتدال للذھبی : ۱۳۹/۱)

٭ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”یہ شخص رافضی اور غیر معتبر تھا۔“ (میزان الاعتدال للذھبی :۱۳۹/۱)

وہ شخص شیطان ہی ہوسکتا ہے جو اس جھوٹے رافضی کے پاس جھوٹ پڑھ رہا تھا۔ دنیا میں اس کی کوئی سند موجود نہیں ، نہ رافضیوں کی کتب میں نہ اہل سنت کی کتب میں۔

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .