روزہ افطار کرنے کی صحیح اور ضعیف دعا

روزہ افطار کرنے کی صحیح اور ضعیف دعا
زیادہ سے زیادہ شیئر کریں......Share on StumbleUponShare on LinkedInShare on TumblrPin on PinterestShare on Google+Share on RedditTweet about this on TwitterShare on Facebook

 

معاذ بن زہرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب افطار کرتے تھے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے ھے:

اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ.

” اے اللہ! تیرے ہی لیے میں نے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے سے افطار کیا۔“

(سنن أبي داود کتاب الصیام باب القول عند الإفطار: ۲۳۵۸)

 

ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ؛

۱: اس کا راوی معاذ بن زہرہ مجہول ہے۔

۲: نیز سند مرسل (ضعیف)ہے۔ کیونکہ تابعی (معاذ بن زہرہ رحمہ اللہ) ڈائریکٹ نبیٔ اکرم ﷺ سے روایت کررہے ہیں۔

تنبیہ: روزہ افطار کرتے وقت کی دعا: ”اللَّهُمَّ اِنِّى لَكَ صُمْتُ وَبِكَ امنْتُ [وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ] وَعَلَى رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ“ جو عوا م میں بہت مشہور ہے اور جو تقریباً ہر ٹی وی چینل پر افطار کے وقت چلائی جاتی ہے۔

اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے، یعنی یہ روایت احادیث کی کتب میں نہیں ملتی۔

روزہ افطار کرتے وقت کی صحیح دعا کی موجودگی میں اس من گھڑت دعا کو پڑھنے کا اہتمام بالکل بھی نہ کریں۔

روزہ افطار کرنے کی صحیح دعا

ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب نبی ﷺ روزہ افطار کرتے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

”پیاس جاتی رہی، رگیں تر ہوگئیں اور ثواب لازم و ثابت ہوگیا، اگر اللہ نے چاہا۔“

(سنن أبی داود: کتاب الصیام باب القول عند الإفطار: ۲۳۵۷ وسندہ حسن)

روزہ افطار کرتے وقت کی دعا

Related Posts
Leave a reply