روزہ افطار کرنے کی صحیح اور ضعیف دعا

 روزہ افطار کرتے وقت  ایک دعا  عوا م میں بہت مشہور ہے،  ہر چھوٹے بڑے کو زبانی یاد ہے، اور  تقریباً ہر ٹی وی چینل پر افطار کے وقت چلائی جاتی ہے۔ وہ دعا   ”اللَّهُمَّ اِنِّى لَكَ صُمْتُ وَبِكَ امنْتُ [وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ] وَعَلَى رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ“ ہے،  لیکن یہ دعا ثابت نہیں، خاص طور پر اس دعا  میں موجود الفاظ وَبِكَ امنْتُ  کی کوئی اصل نہیں ہے، یعنی یہ الفاظ روایت احادیث کی کتب میں نہیں ملتے۔ لیکن سنن ابی داؤد میں ایک دعا ملتی ہے جوکہ درج ذیل ہے۔ 

معاذ بن زہرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب افطار کرتے تھے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ.

” اے اللہ! تیرے ہی لیے میں نے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے سے افطار کیا۔“

(سنن أبي داود کتاب الصیام باب القول عند الإفطار: ۲۳۵۸)

 

ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ؛

* علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ضعیف سنن ابو داود ( ۵۱۰) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

۱: اس کا راوی معاذ بن زہرہ مجہول ہے۔

۲: نیز سند مرسل (ضعیف)ہے۔ کیونکہ تابعی ڈائریکٹ نبیٔ اکرم ﷺ سے روایت کررہے ہیں۔

لہذا روزہ افطار کرتے وقت کی صحیح دعا کی موجودگی میں ضعیف  دعا کو پڑھنے کا اہتمام بالکل بھی نہ کریں۔

 

 

روزہ افطار کرنے کی صحیح دعا

ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب نبی ﷺ روزہ افطار کرتے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

”پیاس جاتی رہی، رگیں تر ہوگئیں اور ثواب لازم و ثابت ہوگیا، اگر اللہ نے چاہا۔“

(سنن أبی داود: کتاب الصیام باب القول عند الإفطار: ۲۳۵۷ وسندہ حسن)

روزہ افطار کرتے وقت کی دعا

LEAVE YOUR COMMENTS