رمضان کے عشرے، رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا، ضعیف احادیث، zaeef hadiths

رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا

رمضان کے عشرے کی فضیلت میں ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ ”رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا“ لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ اصول محدثین کی رو سے یہ روایت پایۂ صحت کو نہیں پہنچتی۔ اس روایت کی مکمل تحقیق اور کچھ وضاحت ذیل میں پڑھئے:

رمضان کے پہلے، دوسرے اور تیسرے عشرے کی فضیلت

 

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری روز ہمیں خظاب کرتے ہوئے فرمایا:

أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم، شهر مبارك، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر، جعل الله صيامه فريضة، وقيام ليله تطوعا، من تقرب فيه بخصلة من الخير، كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه، وهو شهر الصبر، والصبر ثوابه الجنة، وشهر المواساة، وشهر يزداد فيه رزق المؤمن، من فطر فيه صائما كان مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار، وكان له مثل أجره من غير أن ينتقص من أجره شيء» ، قالوا: ليس كلنا نجد ما يفطر الصائم، فقال: يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على تمرة، أو شربة ماء، أو مذقة لبن،

وهو شهر أوله رحمة، وأوسطه مغفرة، وآخره عتق من النار

من خفف عن مملوكه غفر الله له، وأعتقه من النار، واستكثروا فيه من أربع خصال: خصلتين ترضون بهما ربكم، وخصلتين لا غنى بكم عنهما، فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم: فشهادة أن لا إله إلا الله، وتستغفرونه، وأما اللتان لا غنى بكم عنهما: فتسألون الله الجنة، وتعوذون به من النار، ومن أشبع فيه صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخلالجنة.


” لوگو تم پر عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، یہ بابرکت مہینہ ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کے روزے فرض کیے ہیں، اور اس مہینے کی راتوں کاا قیام نفلی ہے۔

جس نے بھی اس مہینے میں کوئی خیر و بھلائی کا کام سرانجام دےکرقرب حاصل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اس مہینہ کے علاوہ کوئی فرض ادا کیا، اور جس نے اس مہینہ میں کوئی فرض سرانجام ديا تو وہ ایسے ہی جیسے کسی نے اس مہینہ کے علاوہ ستر فرض ادا کیے۔

 یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، یہ خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں مومن کا رزق زیادہ ہوجاتا ہے۔ 

اور جس کسی نے بھی اس مہینہ مٰیں روزے دار کا روزہ افطارکرایا اس کے گناہ معاف كر دیے جاتے ہیں، اور اس کی گردن جہنم سے آزاد کردی جاتی ہے، اور اسے بھی روزے دار جتنا اجروثواب حاصل ہوتا ہے اور کسی کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی. صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم مین سے ہر ایک کے پاس تو روزہ افطار کرانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ اجر و ثواب ہر اس شخص کو دیتا ہے جس نے بھی کسی کا روزہ کھجور یا پانی کے گھونٹ یا دودھ کے ساتھ افظار کرایا۔

اس ماہ کا ابتدائی حصہ رحمت ہے، اور درمیانی حصہ بخشش اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا باعث ہے

جس کسی نے بھی اپنی لونڈی اور غلام سے تخفیف کی اللہ تعالیٰ اسے بخشتااور اسے جہنم سےآزاد کر دیتا ہے۔

 اس ماہ مبارک میں چار کام زیادہ سے زیادہ کیا کرو: دو کے ساتھ تو تم اپنے پروردگار کو راضی کروگے، اور دو خصلتیں ایسی ہیں جن سے تم بےپرواہ نہیں ہو سکتے: جن دو خصلتوں سے تم اپنے پروردگار کو راضی کر سکتے ہو وہ یہ ہیں: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور اس سے بخشش طلب کرنا. اور جن دو خصلتوں کے بغیر تمہیں کوئی چارہ نہیں: جنت کا سوال کرنا، اور جہنم سے پناہ مانگنا.

 جس نے بھی اس ماہ مبارک میں کسی روزے دار کو پیٹ بھرکر کھلایا اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسے میرے حوض کا پانی پلائیگا وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاس محسوس نہیں کریگا “

( صحيح ابن خزيمة: ۱۹۱/۳ح۱۸۸۷)

 

ضعیف: یہ حدیث ضعیف ہے، کیونکہ:

۱: امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے رمضان کے عشرے کی فضیلت کی اس حدیث پر جو باب قائم کیا ہے وہ کچھ یوں ہے:” اگر یہ حدیث صیحح ہو تو فضائل رمضان کے بارہ میں باب

۲: اس کا راوی علی بن زید بن جدعان ”ضعیف“ہے۔(تقریب التہذیب: ۴۷۳۴)

*جمہور محدثین کرام نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (زوائد ابن ماجہ:۲۲۸)

*امام نسائی اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ نے اسے ”ضعیف“ کہا ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے اسے”لیس بشئ“ اور امام ابو زرعة اور امام ابو حاتم رحمہمااللہ نے اسے ”لیس بقوی“ کہا ہے۔ دیکھئے: (العلل لابن ابی حاتم: ۲۵۱/۱، الکامل لابن عدی: ۳۳۳/۶، تقریب التہذیب: ۴۳/۲، الجرح والتعدیل: ۲۴۹/۶)

۳:امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے کہا :”یہ حدیث منکر ہے ۔“ (العلل لابن ابی حاتم :١/٢٤٩)

۴: علامہ سیوطی نے اسے الدر المنثور میں ذکر کرکے کہا ہے کہ: ”اسے عقیلی نے روایت کیا اور اسے ضعیف کہا ہے۔“

۵:علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری (۲۰/۹) میں اس پر ”منکر“ کا حکم لگایا ہے۔

۶: شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا :”منکر“ (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة :٨٧١)

۷: شیخ ابو اسحا ق الحوینی مصری حفظہ اللہ نے کہا :”یہ حدیث باطل ہے۔“ (النافلۃ فی الاحادیث الضعیفہ والباطلۃ۔١/٢٩١)

رمضان کے عشرے، رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا, ضعیف اور من گھڑت روایات، Zaeef Hadiths, Weak and Fabricated Hadiths,

تنبیہ: ابن عدی (۱۱۵۷/۳) اور العقیلی (۱۶۲/۲) میں اس کا ایک ”سخت ضعیف“ شاہد بھی ہے۔

۱: اس کی سند میں سلام بن سلیمان بن سوار ”منکر الحدیث“ اور سلمة بن الصلت ”غیر معروف“ راوی ہے۔

*امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لأصل له. ”اس کی کوئی اصل نہیں“

 

رمضان کے عشرے سارے کے سارے رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی  کے ہیں

تواس طرح اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اسی طرح اس کی سب کی سب متابعات بھی ضعیف ہیں جس پرمحدثين نے منکر کا حکم لگایا ہے ، اورایسے ہی رمضان کے عشرے کی فضیلت کی حدیث میں ایسی عبارت پائ جاتی ہے جس کے ثبوت میں نظر ہے مثلا :

اسے تین حصوں میں تقسیم کرنا کہ پہلاعشرہ رحمت اوردوسرا مغفرت اورتیسرا آگ سے آزادی کا ہے ، اس کی کوئ دلیل نہیں ملتی بلکہ اللہ تعالی کا فضل وکرم وسیع ہے اوررمضان مکمل طور پر مغفرت کا ہے اورہر رات اللہ تعالی جہنم سے آزادی دیتے ہیں اوراسی طرح عید الفطر کے وقت بھی جیسا کہ احاديث صحیحہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔

اوراسی طرح حدیث میں یہ بھی ہے کہ :

(جس نے بھی اس مہینے میں نیکی کی وہ ایسے ہے جس طرح عام دونوں میں فریضہ ادا کیا جائے ) ۔

تواس کی کوئی دلیل نہیں بلکہ نفل تونفل ہی رہتا ہے اورفرض فرض ہی ہے چاہے رمضان ہو یا رمضان کے علاوہ کوئی اور مہینہ ۔

اورحدیث میں یہ عبارت بھی ہے کہ :

(اور جس نے رمضان میں فرض ادا کیا گویا کہ اس نے رمضان کے علاوہ ستر فرض ادا کیے ) ۔

تواس تحدید میں بھی خلاف ہے کیونکہ رمضان اورمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں نیکی دس سے لیکر سات سو تک ہے تو اس لیے روزے کے علاوہ کسی چيز کی تخصیص نہیں کیونکہ روزے کا اجر بہت زیادہ جس میں مقدار کی تحدید نہیں کی گئ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے کہ : ابوھریرہ رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اللہ تعالی فرماتا ہے ( روزے کےعلاوہ ہرعمل ابن آدم کے لیے ہے اس لیے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دونگا ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔

تو ضعیف احادیث سے بچنا ضروری ہے اوریہ بھی ضروری ہے کہ اسے بیان کرنے سے قبل حدیث کا درجہ معلوم کرلینا چاہیے ، اوررمضان المبارک کی فضيلت میں احادیث کی چھان پھٹک کرکے صحیح احادیث لینی چاہیں ۔

اللہ تعالی سب کو توفیق عطا فرمائے اور روزے اورراتوں کا قیام اورسب اعمال صالحہ قبول فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

واللہ تعالی اعلم .

 

LEAVE YOUR COMMENTS