کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار، ضعیف اور من گھڑت احادیث، zaeef Hadees, weak and fabricated hadiths

کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار – فضائل رجب

” رجب بہت عظمت والا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ اس ماہ نیکیاں دگنی کردیتا ہے، جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا گو یا اس نے ایک سال کے روزے رکھے اور جس نے سات روزے رکھے تو دوزخ کے ساتوں دروازے اس پر بند کردئیے جائیں گے اور اگر کسی نے آٹھ روزے رکھے تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے اور جو دس روزے رکھے لے تو اللہ عزوجل سے جس چیز کو مانگے وہ اسے عطا کرے گا اور جو پندرہ روزے رکھے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے تمہارے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اب اپنے اعمال دوبارہ شروع کرو اور جو اس سے بھی زائد روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ اس پر مزید کرم فرمائے گا اور ماہ رجب ہی میں اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو کشتی میں سوار کروایا تو نوح علیہ السلام نے خود بھی روزہ رکھا اور اپنے ہم نشینوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔”

(کفن کی واپسی: ص ۷ بحوالہ شعب الایمان ج ۳ ص ۳۶۸ حدیث ۳۸۰۱)

موضوع (من گھڑت) : یہ روایت جھوٹی اور باطل ہے، کیونکہ؛

۱: اس میں ایک راوی عثمان بن مطر جو کہ اس روایت کے لیے آفت ہے۔

٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر امت کا اجماع ہے۔” (تبیین العجب: ۹۷)

٭امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے "منکر الحدیث” کہا ہے۔ (تاریخ کبیر: ۲۵۳/۶) مزید دیکھئے: (تھذیب الکمال: ۱۳۸/۵، تاریخ بغداد: ۲۷۸/۱۱، الضعفاء و المتروکین: ۴۰۷)

۲:اس طرح اس کا دوسرا راوی عبد الغفور "کذاب” ہے۔

٭اس پر امام ابن حبان، علامہ یثمی، امام یحییٰ بن معین ، امام ابن عدی رحمہم اللہ نے جروح کی ہیں۔ (دیکھئے: ۴۹۵/۲، الکامل: ۳۲۹/۱)

۳:جبکہ اس کا ایک راوی عبد العزیز بن سعید”مجہول” ہے۔

LEAVE YOUR COMMENTS