ماہ رجب کی وجہ تسمیہ، فضائل رجب المرجب، کفن کی واپسی، ضعیف اور من گھڑت احادیث، zaeef hadees, weak and fabricated hadiths

ماہِ رجب المرجب کی وجہ تسمیہ – فضائل رجب

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ :

وَإِنَّمَا سُمِّيَ رَجَبٌ لأنه الْمَلائِكَة تَرْجُبُ فِيهِ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّمْجِيدِ لِلْجَبَّارِ عَزَّ وَجَلَّ.

” ماہِ رجب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں فرشتے بکثرت اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تحمید اور تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔“

(فضائل شهر رجب للخلال: ۱۶)

موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی و من گھڑت روایت ہے، کیونکہ؛

۱: اس کا راوی عثمان بن عبد اللہ الشامی "کذاب” اور "وضاع” ہے، جیسا کہ:

٭امام ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یروي الموضوعات عن الثقات. "وہ ثقہ راویوں سے موضوع روایات بیان کرتا تھا۔” (میزان الاعتدال: ۴۱/۳)

٭امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : "اس نے مالک، لیث اور ابن لہیعہ وغیرہ سے موضوع حدیثیں بیان کی ہیں۔” (ایضاً)

٭امام جوزجانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ : "یہ جھوٹا ہے اور حدیث کا چور ہے۔” (ایضاً)

LEAVE YOUR COMMENTS