کفن کی واپسی، 27 رجب کی رات ایک نیکی سو سال کی نیکیوں کے برابر، ضعیف احادیث، شبِ معراج، موضوع احادیث

27 رجب کی رات ایک نیکی سو سال کی نیکیوں کے برابر

فِي رَجَبٍ لَيْلَةٌ يُكْتَبُ لِلْعَامِلِ فِيهَا حَسَنَاتُ مِائَةِ سَنَةٍ ، وَذَلِكَ لِثَلاثٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ ، فَمَنْ صَلَّى فِيهَا اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ يَتَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَيُسَلِّمُ فِي آخِرِهِنَّ ، ثُمَّ يَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَيَدْعُو لِنَفْسِهِ مَا شَاءَ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاهُ وَآخِرَتِهِ ، وَيُصْبِحُ صَائِمًا فَإِنَّ اللَّهَ يَسْتَجِيبُ دُعَاءَهُ كُلَّهُ إِلا أَنْ يَدْعُو فِي مَعْصِيَةٍ .

” رجب میں ایک رات ہے کہ ا س میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے ۔ جو اس میں بارہ رکعت پڑھے ، ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور کوئی ایک سورت اور ہر دو رکعت پر التحیات اور آخر میں سلا م پھیرنے کے بعدسو بار سبحان اللہ والحمدللہ و لاالہ الا اللہ واللہ اکبر سو بار درود پاک پڑھے اور اپنی دنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالی اس کی سب دعائیں قبول فرمائے گا سوائے اس دعا کے جو گناہ کیلئے ہو۔“

(کفن کی واپسی ص ۱۰ بحوالہ شعب الایمان للبیہقی : ج۳ ص ۳۷۴ حدیث ۳۸۱۲)

موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور باطل روایت ہے ، کیونکہ؛

۱: اس کی سند میں محمد بن فضل راوی ہے ،جس کی ائمہ نے تکذیب کی ہے ۔

٭امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”اس کی حدیث جھوٹوں والی ہے ۔”

٭امام یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس کی حدیث کو لکھا نہیں جائے گا ۔”

٭امام الفلاس  رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” یہ کذاب راوی ہے ۔”

٭امام ابن ابی شیبہ نے بھی اسے کذاب قرار دیا ہے ۔

٭کئی ایک علماء نے اسے متروک کہا ہے ۔

[دیکھئے: الجرح والتعدیل :۵۶/۸ ، الضعفاء :۱۲۰/۴ ، الکامل :۱۷۰/۶،المیزان :۴/۶ ،تقریب التہذیب :۲۰۸/۲]

LEAVE YOUR COMMENTS