جنتی نہر کا نام رجب، رجب المرجب، کفن کی واپسی، ضعیف احادیث

جنت میں ایک نہر جس کا نام رجب ہے

روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن في الجنة نهرا يقال له : رجب ، ماؤه أشد بياضا من اللبن ، وأحلى من العسل ، من صام من رجب يوما واحدا ، سقاه الله من ذلك النهر.

"جنت میں ایک نہر ہے جس کا نام رجب ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جو ماہِ رجب میں ایک روزہ رکھے اللہ عزوجل اسے اس نہر سے سیراب فرمائے گا۔”

(کفن کی واپسی ، ص ۵ بحوالہ شعب الایمان ج ۳ ص ۳۶۷ حدیث ۳۸۰۰)

ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے ،کیونکہ ؛

٭ اس روایت کی سند میں دو راوی مجہول ہیں، ایک منصور بن زید اور دوسرا موسی بن عمران مجہول ہیں۔

٭ بعض محققین نے اس  کو موضوع روایت قرار دیا ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھئے (الآثار الموضوعة: ۵۹، سلسلة الضعیفة: ۱۸۹۸، المتناهیة: ۹۱۲/۲)

٭ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لا یصح و فیه مجاھیل لا ندری من ھم .
یہ روایت صحیح نہیں اس میں کئی مجہول راوی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں؟ (العلل المتناهیة : ۹۱۲)

٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے بعض طرق کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے ضعیف ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ (تبیین العجب: ۸۰)

LEAVE YOUR COMMENTS