• Home
  • علمی مضامین
  • قربانی کے جانور کے مکروہ اعضاء: کیا قربانی کے جانور کی اوجھڑی کھانا جائز ہے؟
قربانی کے جانور کی اوجھڑی

قربانی کے جانور کے مکروہ اعضاء: کیا قربانی کے جانور کی اوجھڑی کھانا جائز ہے؟

قربانی کے ایام قریب آتے ہی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں قربانی کے احکام و مسائل سے متعلق طرح کے طرح کےسوالات جنم لیتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک اہم سوال حلال جانور کے حرام اعضاء سے متعلق ( خصوصاً اوجھڑی کھانا کیسا ہے )بھی شامل ہے۔

انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا پر مختلف طرح کی تحریریں شائع کی جاتی ہیں جن میں حلال جانور کی حرام چیزیں اور اعضاء سے متعلق مختلف اقوال اور روایات شامل ہوتی ہیں۔ لیکن کیا قربانی کے جانور میں دم مسفوح (وقت ذبح بہتے ہوئے خون) کے علاوہ بھی کوئی چیزیں حرام یا مکروہ ہیں ؟ اور کیا اوجھری کھانا جائز ھے ؟ اس سے متعلق ایک تحقیقی مضمون ذیل میں پڑھئے:

کیا قربانی کے جانور کی اوجھڑی حلال ہے؟

سوال: اوجھڑی بالعموم اور قربانی کے جانور کی اوجھڑی بالخصوص حلال ہے یا حرام؟

جواب: حلال جانور مثلا گائے،بھینس،اونٹ، بکری اور بھیڑ وغیرہ کو شرائط شرعیہ کے ساتھ ذبح کیا جائے تو اس کی اوجھڑی حلال ہے،چاہے قربانی ہو یا عام ذبیحہ ہو اور اسے حرام کہنا غلط ہے۔

* قربانی کے جانور کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّؕ

پھرجب وہ پشت لگا دیں(یعنی ذبح ہو جاہیں) تو ان میں سے کھاؤ اور امیر و غریب کو بھی کھلاؤ۔(سورۃ الحج آیت نمبر۳۶)

اس آیت کے عموم سے ثابت ہےکہ ذبح جانور کا گوشت،اوجھڑی،دل اور کلیجی وغیرہ حلال ہے

اور یہاں بطور فائدہ عرض ہے کہ جس چیز کی حرمت قرآن،حدیث اور اجماع یا آثار سلف صالحین سے ثابت ہے تو وہ چیز اس آیت کے عموم سے خارج ہے مثلا:

۱: وہ چیز جسے عام اہل ایمان کی طبیعتیں خبیث اور گندی سمجھیں تو آیت: وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ ”اور آپﷺ ان لوگوں پر خبیث چیزیں حرام قرار دیتے ہیں۔“ سورۃ الاعرف آیت نمبر۱۵۷، کی رو سے مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہیں۔ 

اوجھڑی کا خبیث ہو نا نہ تو آثار سلف صالحین سے ثابت ہے اور نہ عام اہل ایمان اس کو گندا یا مکروہ و ناپسند قرار دیتے ہیں۔

۲: وہ چیز جو چوری یا غصب کر کے حاصل کی جائے۔مثلا کسی شخص کی بکری چوری کرکے ذبح کی جائے تو مسلمانوں کے لیے اس کا گوشت حلال نہیں ہے،الا یہ کہ اصل مالک اس کی اجازت دے دے۔

۳: وہ حلال جانور جس کی خوراک ہی گندگی نجاست ہو(یعنی جلالہ جانور) اس کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے۔

۴:زندہ جانو ر کا کٹا ہوا گوشت کھانا حرام ہے۔

اب موضوع کی مناسبت سے چند فوائد پیش خدمت ہیں:

* مفسر قرآن امام مجاہد تابعی رحمہ اللہ سے روایت ہے:

ان النبیﷺ کرہ من الشاۃسبعا: المثانۃ و المرارۃ والغدّۃ و الذکر و الحیاء و الانثیین‘‘

بے شک نبی کریمﷺ بکری کی سات چیزوں کو مکروہ سمجھتے تھے:مثانہ،پتہ،غدّہ،(گوشت کی گرہ جو کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ابھر آتی ہے) آلہ تناسل،کھر اور سم والے جانوروں کی فرج(شرم گاہ) اور دونوں خصیے

(کتاب المراسیل لابی داؤد:۴۶۰،مصنف عبدالرزاق ح۸۷۷۱،السنن الکبری للبیہقی۷/۱۰)

یہ روایت دو دجہ سے ضعیف ہے:

اول: واصل ابن ابی جمیل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

* مثلا امام دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا’ و واصل ھذا ضعیف‘‘ اور یہ واصل ضعیف ہے۔(سنن دارقطنیؒ۷۷/۳ح۳۰۵۹)

دوم: یہ روایت مرسل(یعنی منقطع ) ہے اور مرسل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔(دیکھیے لسان المیزان۳۳۳/۷،دوسرا نسخہ۲۴۱/۵)

* روایتِ مذکورہ کو عمر بن موسیٰ ب نوجیہ نے واصل بن ابی جمیل عن مجاہد عن اب نعباس کی سند سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔

لیکن عمر بن موسیٰ بن وجیہ کذاب منکر الحدیث راوی تھا۔ (دیکھئے لسان المیزان: ۳۳۲/۴۔۳۳۳، دوسرا نسخہ: ۲۴۱/۵)

لہٰذا یہ روایت موضوع ہے۔

* المعجم الاوسط للطبرانی میں اس روایت کا ایک شاہدبھی ہے(۲۱۷/۱۰ح۹۴۷۲)

۱: اس کی سند میں یحییٰ الحمانی چور تھا۔(دیکھیے تقریب التہذیب:۷۵۹۱)

۲: اس کے استاد عبد الرحمٰن بن ابی سلمہ سے مراد عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم ہے اور اس کی روایات اس کے باپ سے موضوع ہوتی ہیں اور یہ روایت بھی اس کے باپ سے ہے، لہٰذا موضوع ہے۔

*  علاء الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی (المتوفی ۵۸۷ھ) نے بغیر کسی سند کے امام ابو حنیفہ سے نقل کیا ہے کہ خون حرام ہے اور میں چھ چیزوں کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ (بدائع الصنائع: ۶۱/۵)

یہ روایت قابلِ اعتماد صحیح و حسن سند نہ ہونے کی وجہ سے صحیح و مردود ہے اور چھ چیزوں سے مراد ضعیف حدیث میں بیان شدہ خون کے علاوہ چھ چیزیں ہیں، جس کی تحقیق تھوڑا پہلے گزرچکی ہے۔

خلاصہ التحقیق: شرائط شرعیہ کے ساتھ حلال جانور کی اوجھڑی حلال ہے بشرطیکہ اسے خوب دھو دھو کر،خوب صفائی کر کے پکایا جائے اور کسی قسم کی نجاست کا کوئی اثر باقی نہ رہاہو۔

ماخذ: (ماہنامہ اشاعۃ الحدیث ،شمارہ نمبر۹۰)​

 

اوجھڑی کھانا جائز ھے

*  مشہور ثقہ تابعی امام محمد بن المنکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے:

”دخلت علیٰ فلانة ۔ بعض أزواج النبي ﷺ قد سماھا و نسیت۔
قالت: دخل علي رسول اللہ ﷺ و عندي بطن معلق فقال:
(( لو طبخت لنا من ھذا البطن کذا و کذا۔)) قالت: فصنعناہ فأکل و لم یتوضأ۔“
میں نبی ﷺ کی بیویوں میں سے فلانی کے پاس گیا۔ انھوں (محمد بن المنکدر) نے نام بیان کیا تھا، لیکن میں (عمارہ بن زاذان) بھول گیا۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس اوجھڑی تھی جو لٹک رہی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر تم اس اوجھڑی میں سے ہمارے لئے کچھ اس طرح اس طرح پکا دو۔ انھوں نے فرمایا: پھر میں نے ایسا ہی کیا (یعنی اوجھڑی) پکالی تو آپ نے (اسے) کھایا، اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔

(شرح معانی الآثار۱۰۳/۱، وسندہ حسن، عمارہ بن زاذان حسن الحدیث ھاھنا و وثقہ الجمھور، نخب الافکار للعینی ۲۵/۲۔۲۶، وقال: ”إسناده صحیح۔“)

ماخذ: (ماہنامہ اشاعۃ الحدیث ،شمارہ نمبر۹۳)​

LEAVE YOUR COMMENTS