• Home
  • نماز سے متعلق
  • نماز اوابین کی فضیلت: مغرب کے اور عشاء کے درمیان چھ رکعت نوافل کی فضیلت
مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل کی فضیلت، ضعیف احادیث، من گھڑت احادیث، false hadiths, zaeef hadiths, daeef hadiths

نماز اوابین کی فضیلت: مغرب کے اور عشاء کے درمیان چھ رکعت نوافل کی فضیلت

مغر ب اور عشاء کی نماز کے درمیان نماز اوابین یا کسی بھی نماز کا پڑھنا رسول اللہ ﷺ،  خلفاء راشدین اور صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم سےبا سند صحیح  ثابت نہیں۔جبکہ  نماز اوابین ضحی یعنی چاشت کی نماز کا دوسرا نام ہے اور اس کا بہتر وقت سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہونے سے زوال سے تھوڑی دیر پہلے تک ہے۔

نماز اوابین کی فضیلت

مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً

” جس نے مغرب کے بعد چھ رکعات پڑھیں اور ان کے درمیان میں کوئی بری بات نہ کی تو یہ رکعات اس کے لئے بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی۔“

(سنن الترمذی: ۴۳۵)

سخت ضعیف : یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ؛

۱: اس کا راوی عمر بن أبی خثعم ” ضعیف “ ہے۔ (تقریب التہذیب: ۴۹۲۸)

*  امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : ” میں نے محمد بن اسماعیل(امام بخاری رحمہ اللہ) سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم منکر الحدیث ہے۔“

* امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔ (الفوائد المجموعة : ص ۴۳۷)

* امام صغانی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (موضوعات: ص ۵۰)

* حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (تخریج الاحیاء : ۲۶۱/۸)

* علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سخت ضعیف کہا ہے۔(۴۶۹)

LEAVE YOUR COMMENTS