یوم عاشوراء کو سرمہ لگانے سے آنکھ کا درد لاحق نہیں ہوگا

یوم عاشوراء کو سرمہ لگانے سے آنکھ کا درد لاحق نہیں ہوگا

 

من اکتحل بالإثمد يوم عاشوراء لم تدمع عينه أبدا

” جس نے یوم عاشوراء کو سرمہ لگایا، اس کوکبھی آنکھ کا درد لاحق نہیں ہوگا”

 

موضوع (من گھڑت):   یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے؛

٭ ابن قیم  رحمہ اللہ نے المنار میں کہا ہے کہ سرمہ اور عطر لگانے والی احادیث کذابین کی اختراع ہیں۔

٭ حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے المقاصد الحسنة میں حاکم اور بیہقی کے اَقوال نقل کئے ہیں۔ حاکم نے کہا کہ یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے۔

٭ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسی سند کے ساتھ ‘موضوعات’ میں اس کا ذکر کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یومِ عاشوراء کو سرمہ لگانانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں بلکہ یہ بدعت ہے جس کو قاتلین حسین نے رواج دیا ہے۔

٭ ملا علی قاری  رحمہ اللہ نے بھی الأسرار المرفوعة میں اسی رائے کی موافقت کی ہے اور سیوطی رحمہ اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس کی ایک اور سند بھی نقل کی ہے جو ضعف پر مبنی ہے۔

٭ امام شوکانی رحمہ اللہ نے الفوائد المجموعة میں حاکم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حاکم کہتے ہیں کہ ابن عباس سے شروع ہونے والی اس حدیث کی سند میں جبیر ہے اور میں جبیر کے معاملے میں براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔

فائدہ:   یومِ عاشوراء کو قسما قسم کے کھانے پکا کر کھنا اور اپنے اہل و عیال وغیرہ کو کھلانا، حلوہ تقسیم کرنا یا اس دن سرمہ ڈالنا وغیرہ، ان کا موں میں سے کوئی کام نہ تو نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ سلف صالحین سے اور نہ ہی کسی مستند عالم نے اسے جائز قراردیاہے اور اس کے استحباب و فضیلت کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ تمام ضعیف وناقابل حجت ہے۔ اسی طرح بہت سی باتیں عاشوراء  سے متعلق جھوٹی اور من گھڑت ہیں  جو عوام میں مشہور ہیں۔

٭ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” اس سلسلے میں نہ نبی ﷺ سے کوئی صحیح حدیث وارد ہے اور نہ کسی صحابی سے، نہ اسے ائمہ مسلمین بشمول ائمہ اربعہ وغیرہم نے مستحب گردانا ہے اور نہ کسی مستند کتاب میں اس کا تذکرہ منقول ہے۔ نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین سے کوئی روایت نہیں، نہ صحیح ، نہ ضعیف ، نہ کتب صحاح میں اس کا ذکر ہے اور نہ کتب سنن میں اور خیر القرون میں سے بھی ایسی کوئی روایت معلوم نہیں۔“

(مجموع الفتاویٰ: ۲۹۹/۲۵)

٭ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

” اور ان (موضوع احادیث) میں سے عاشوراء کے دن سرمہ ڈالنا، زیب وزینت، وسیع خرچ کرنا اور (مخصوص) نمازیں پڑھنا وغیرہ فضیلتوں میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، صرف روزوں کی فضیلت ثابت ہے، ان کے علاوہ سب کچھ باطل ہے۔“

(المنار المنیف: ص۱۱۱)

Related Posts
Leave a reply