یوم عاشوراء (دسویں محرم ) سے متعلق چند ضعیف، من گھڑت اور بے سند روایات

یوم عاشوراء (دسویں محرم ) سے متعلق چند ضعیف، من گھڑت اور بے سند روایات

 

محرم الحرام کے حرمت والے مہینہ کے شروع ہوتے ہے اہل بدعت اور روافض کی جانب سے یوم عاشوراء سے متعلق ٹیلی وژن، اخبارات اور سوشل میڈیا پر طرح طرح کی جھوٹی اور من گھڑت اور بے سند و بے سر و پا روایات اور واقعات بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔  ان رویات کی حقیقت سے عوام الناس بالکل آگاہ نہیں ہوتے اس لیے وہ ان باتوں پر یقین کرکے گمراہ ہونے لگتے ہیں۔

ان روایات میں سے زیادہ تر کا وجود احادیث کی کتابوں میں نہیں ملتا اور کچھ ضعیف اور من گھڑت روایات ہیں جن کے زور پر اہل خرافات اپنے باطل نظریات لوگوں میں عام کرتے ہیں اور اپنی دکانداری چمکاتے ہیں۔  ذیل میں چند ایسی ہی مشہور ضعیف، من گھڑت اور بے سند و بے سر و پا روایات پیش کی گئی ہیں جو کہ ہمارے معاشرے میں اکثر سننے کو ملتی ہیں۔

یوم عاشوراء (دسویں محرم )سے متعلق عوام میں مشہور چند بے سند،
موضوع و من گھڑت باتیں

٭ مسند فردوس اور دیلمی کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ذکر کی جاتی ہے:

” انہوں نے کہا کہ تمام انسانوں کے سردار رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور رومیوں کے سردار حضرت صہیب رومی ہیں اور ایرانیوں کے سردار حضرت سلمان فارسی ہیں اور حبشیوں کے سردار حضرت بلال ہیں ، پہاڑوں کا سردار طورِ سینا ہے ، درختوں کا سردار سدرة المنتہیٰ ہے ،مہینوں کا سردار ماہِ محرم ہے ، دنوں کا سردار جمعہ ہے اور تمام کلاموں کا سردار قرآن کریم ہے ۔قرآن کریم کا خلاصہ سورئہ بقرہ ہے اور سورئہ بقرہ کا مغز آیت الکرسی ہے ۔ آیت الکرسی میں پانچ خصوصی کلمے ہیں او رہر کلمے میں پچاس برکتیں ہیں۔“  

تبصرہ: یہ روایت موضوع ،من گھڑت اور بے سند ہے ۔ کیونکہ دوسری روایاتِ صحیحہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے سردار اور رمضان مہینوں کا سردار ہے۔

٭  بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں محرم (یوم عاشوراء) کے دن سرمہ لگانے سے سال بھر آنکھیں نہیں دکھتیں، دسویں محرم کے نہانے سے سال بھر بیماری نہیں آتی ۔ اس دن کی نماز افضل وبرتر ہے ۔دسویں محرم حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی۔حضرت نوح کی کشتی اسی دن کو ہِ جودی پر ٹھہری ۔ اسی دن حضرت ابراہیم کو آتش نمرود سے نجات ملی ۔ اسی دن حضرت اسمٰعیل کے ذبح کے وقت آسمان سے دنبہ آیا اور فدیہ بنا ۔ اسی دن حضرت یوسف ، حضرت یعقوب کو دوبارہ ملے۔ دسویں محرم کو اپنے بال بچوں پر فراخی کرنے والے کواللہ سال بھر وسعت وفراخی دیتا ہے۔  

تبصرہ: یہ ساری روایات موضوع بے سروپا اور خو دساختہ ہیں۔

٭  ایک حدیث حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کر کے اس طرح روایت کی جاتی ہے:
۱: جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا اس کے لیے اللہ نے ساٹھ سال کی عبادت لکھ دی جس میں نماز، روزے بھی شامل ہیں۔
۲: جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ نے دس ہزار فرشتوں کی عبادت کا ثواب دیا۔
۳: جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ نے ہزار حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کا ثواب دیا۔
۴: جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ دس ہزار شہیدوں کا ثواب دیتا ہے۔
۵: جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ تعالیٰ سات آسمانوں جتنا ثواب دیتا ہے۔
۶: جس نے دسویں محرم کو کسی بھوکے کو کھانا کھلایا گویا اس نے پوری امت ِمحمدیہ کے فقیروں کو کھانا کھلایا ۔
۷: جس نے دسویں محرم کو کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کے ہر بال کے عوض ہاتھ پھیرنے والے کو جنت میں بلند مراتب دیئے جائیں گے ۔
۸: دسویں محرم کو ہی اللہ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا۔
۹: دسویں محرم کو ہی اللہ نے جبریل ،فرشتوں، حضرت آدم اور ابراہیم علیہم السلام کو پیداکیا۔
۱۰: دسویں محرم ہی کو اللہ نے لوح وقلم پیدا کیے۔
۱۱: دسویں محرم کو ہی حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا اور آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی۔
۱۲: دسویں محرم کے دن ہی حضرت اسماعیل کو اللہ کے رستے میں قربان کیا گیا اور اللہ نے دنبے کی شکل میں ان کا فدیہ دیا۔
۱۳: اسی تاریخ کوفرعون کو اللہ نے دریائے نیل میں غرق کیا۔
۱۴: اسی تاریخ کو اللہ نے حضرت اِدریس  کو بلند درجات دیئے۔
۱۵: اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔
۱۶: دسویں محرم کو ہی حضرت داود کی بھول چوک معاف کی گئی۔
۱۷: دسویں محرم کو ہی اللہ تعالی عرشِ معلی پر بیٹھا۔
۱۸:  دسویں محرم کو ہی قیامت آئے گی۔

تبصرہ: یہ تمام مذکورہ احادیث موضوع ، خود ساختہ، بے سند اور افترا پردازی کے مترادف ہیں ۔ علامہ ابن جوزی نے بھی ان کو ‘موضوعا ت’ میں درج کیا ہے۔

٭  کچھ احادیث اس طرح بیان کی جاتی ہیں کہ
۱: سب سے پہلا دن دسویں محرم (یوم عاشوراء) ہے جس میں اللہ نے دسویں محرم کا دن پیداکیا۔
۲: سب سے پہلا دن دسویں محرم ہے جس میں اللہ نے آسمان سے بارش برسائی۔
۳: جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اس نے گویا زمانے کا روزہ رکھا۔
۴:جس نے دسویں محرم کو شب بیداری کی تو اس نے گویا ساتوں آسمانوں کی مخلوق کے برابر اللہ کی عبادت کی ۔
۵: اس دن تمام انبیاء اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا۔
۶: جس نے دسویں محرم کو چار رکعات اس ترتیب سے پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ ایک دفعہ ، سورة اخلاص پچاس دفعہ پڑھی تو اللہ نے اس کے ماضی ومستقبل کے پچاس پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے اور ملاءِ اعلی میں اس کے لیے ایک ہزار نوری منبر بنا دیئے۔
۷: جس نے دسویں محرم کو ایک گھونٹ شربت پلایا تو اس نے گویا اللہ کی ایک لمحے کے لیے بھی نافرمانی نہیں کی۔
۸: دسویں محرم کو جس نے اہل بیت کے مسکینوں کو پیٹ بھر کر کھلایا تو وہ پل صراط سے بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا۔
۹: دسویں محرم کو جس نے کچھ بھی خیرات کی تو گویا اس نے سال بھر اپنے در سے کسی سائل کو واپس نہیں کیا۔
۱۰: دسویں محرم کو جس نے غسل کیا تو وہ مرضِ موت کے سوا کبھی بیمار نہ ہو گا۔
۱۱: دسویں محرم کو جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو گویا اس نے دنیا جہاں کے تمام یتیموں کے ساتھ بھلائی کی ۔
۱۲: دسویں محرم کو جس نے بیمار کی تیماداری کی تو گویا اس نے تمام اولادِ آدم کی تیمار داری کی ۔

تبصرہ: یہ ساری روایات اور احادیث موضوع، خود ساختہ اور بعض لوگوں کی اپنی طرف سے تراشی ہوئی ہیں۔

٭ علامہ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ:

” ان میں بعض روایات کے سلسلہ رواة میں بعض صحیح اور ثقہ راویوں کا نام بھی ملتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ احادیث بنانے والوں نے احادیث گھڑ کر ان کو ثقہ راویوں کے نام منسوب کر دیا ہے تا کہ کچھ لوگ غلط فہمی میں ان کی صحت پر یقین کر لیں۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کہ دسویں محرم (یوم عاشوراء) کے دن سوائے روزہ رکھنے کے اورکوئی کام مسنون نہیں اور دسویں محرم کی فضیلت میں یہ سب روایات خود ساختہ ہیں، ماسوائے ان روایات کے جو مستند ذرائع سے ثابت ہیں۔“

Related Posts
Leave a reply