یوم عاشوراء کواہل و عیال پر کھانے میں فراخی کرنے سے پورا سال کشادگی ہوگی

یوم عاشوراء کواہل و عیال پر کھانے میں فراخی کرنے سے پورا سال کشادگی ہوگی

 

یومِ عاشوراء کو قسما قسم کے کھانے پکا کر کھنا اور اپنے اہل و عیال وغیرہ کو کھلانا، حلوہ تقسیم کرنا یا اس دن سرمہ ڈالنا وغیرہ، ان کا موں میں سے کوئی کام نہ تو نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ سلف صالحین سے اور نہ ہی کسی مستند عالم نے اسے جائز قراردیاہے اور اس کے استحباب و فضیلت کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ تمام ضعیف وناقابل حجت ہے۔ اسی طرح بہت سی باتیں عاشوراء  سے متعلق جھوٹی اور من گھڑت ہیں  جو عوام میں مشہور ہیں۔

یومِ عاشوراء کواہل و عیال پر فراخی کرنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:

مَن وَسَّعَ عَلَی عَیَالِهِ یَومَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللہُ عَلَیهِ سَائِرَ سَنَتِهِ

” جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر (کھانے میں) کشادگی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال کشادگی کرے گا۔“

ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے؛ کئی ائمہ و محدثین نے اس روایت کو  ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔

٭ اس حدیث کو امام بیہقی نے کئی سندوں سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی استنادی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : ” یعنی یہ تمام سندیں اگرچہ ضعیف (کمزور) ہیں لیکن ایک دوسرے کو ملانے سے قوی ہو جاتی ہے۔“

٭ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ (کما فی المنار المنیف لابن القیم : ص۱۱۱)

٭ امام شوکانی، علامہ طاہر پٹنی اور علامہ ابن عراق رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں سلیمان راوی مجہول ہے۔ (الفوائد المجموعة: ص۹۸، تذکرۃ الموضوعات: ص۱۱۸، تنزیعه الشریعة: ۱۸۸/۲)

٭ حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی تمام اسناد ضعیف ہیں۔ (المقاصد الحسنة: ص۶۷۴)

٭ شیخ البانی نے اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے اور اس کی وارد تمام سندوں کے بارے میں کہا ہے کہ : ” یعنی اس کی تمام سندیں واہی (کمزور) ہیں اور بعض سندیں ضعف کے اعتبار سے شدید ہیں“  (الضعیفۃ: ۶۸۲۴)

٭ مزید دیکھئے: أسنی المطالب (ص۲۹۲)، العلل المتناھیة (۵۵۳/۲)، الأسرار المرفوعة (ص۴۷۴)، (الآثار المرفوعة فی الأخبار الموضوعة: ص ۱۰۰)

Related Posts
Leave a reply