نماز جمعہ سے قبل ناخن کاٹنے سے ہر بیماری سے شفاء

نماز جمعہ سے قبل ناخن کاٹنے سے ہر بیماری سے شفاء

جمعہ کی فضیلت کی احادیث میں سے ایک  روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ:

من قلم أظافیرہ یوم الجمعة قبل الصلاۃِ، أخرج اللہ منه کلَّ داء، وأدخل مکانَه الشفاء و الرَّحمة

” جس نے جمعہ کے دن نماز جمعہ سے قبل ناخن کاٹے، اللہ اس سے ہر بیماری کو دور فرما دیتا ہے، اور اس کے گھر میں شفا اور رحمت داخل کردیتا ہے۔ “

(أبو نعيم “أخبار أصبھان “: ۲۴۷/۱)

سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے کیونکہ :

۱: اس کا راوی طلحہ بن عمر ” متروک “ ہے۔(تقریب التہذیب: ۳۰۳۰)

٭ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” لا شيء متروک “

٭ ابن معین رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے۔

٭ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے کہا: ” لیس بالقوی لین الحدیث عندھم “

٭امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ نے بھی اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے۔

دیکھئے: (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم:۲۰۹۷)

مزید دیکھئے: ( سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة : ۲۰۲۱)

یہ تحریر بھی پڑھئے:  ناخن تراشنے کی ضعیف حدیث کو ضعیف ماننے پر بعض علماء برص میں مبتلاء ہوگئے

فائدہ: 

٭ حافظ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

لم یثبت في کیفیته، ولا في تعیین یوم له، عن النبي صلی اللہ علیه و سلم شيء
”ناخن تراشنے کی کیفیت اور دن کا تعین نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔“

(المقاصد الحسنة، ص ۴۸۹، تحت الحدیث: ۷۷۲)

٭ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے:

کان یقلم أظفارہ و یقص شاربه في کل جمعة

”آپ رضی اللہ عنہ ہر جمعہ اپنے ناخن اور مونچھیں تراشا کرتے تھے۔“

(السنن الکبریٰ للبیھقي: ۲۴۴/۳، وسندہ صحیح)

 

ناخن کاٹنے سے متعلق صحیح احادیثِ نبوی

 ناخن کاٹنے (تراشنے) سنت ہیں۔ ناخن کاٹنے کے لئے کوئی دن یا مخصوص طریقہ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ جس طرح آسانی ہو آپ تراش سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ چالیس دن مدت ہے۔ اس سے زیادہ دن گزرنے پر ناخن نہ تراشنا گناہ ہے۔

ناخن تراشنا فطرت ہے:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت ہیں؛ ۱: ختنہ ۲: زیر ناف بالوں کی صفائی ۳: مونچھیں ہلکی کرنا ۴: ناخن تراشنا ۵: بغلوں کے بال اکھاڑنا۔ “ (صحیح البخاری: ۵۸۹۱، صحیح مسلم: ۲۵۷)

چالیس دن کے اندر ناخں تراشنا:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” رسول اکرم ﷺ نے ہمارے لیے مونچھیں کاٹنے ، ناخن تراشنے، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور زیر ناف بالوں کی صفائی کا (زیادہ سے زیادہ) وقت چالیس دن مقرر فرمایا۔ “ (صحیح مسلم: ۲۵۸)

چالیس دنوں سے زیادہ ناخن نہ تراشنا حرام و ناجائز ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے حکم اور سنت کی مخالفت ہے، جو سراسر ہلاکت و بربادی کا باعث ہے۔

ناخن تراشنا سنت ہے:

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” مونچھیں کاٹنا، بغلوں کے بال اکھڑنا اور ناخن تراشنا (واجبی) سنت ہے۔ “ (السنن الکبریٰ للبیھقي: ۱۴۹/۱، وسندہ صحیح)

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .