جمعہ کے دن والدین کی قبروں کی زیارت کا اجر و ثواب

جمعہ کے دن والدین کی قبروں کی زیارت کا اجر و ثواب

قبروں کی زیارت ایک مسنون عمل ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے قبروں کی زیارت کا حکم دیا۔ لیکن قبروں کی زیارت کے بارے میں کسی خاص دن کو معین نہیں کیا ۔  قبروں کی زیارت کسی بھی وقت اور کسی بھی دن کی جاسکتی ہے اس کے لئے جمعہ، غیر جمعہ یا عید کے دن قبروں کی زیارت کے بارے میں کوئی صحیح ثابت دلیل نہیں ملتی۔

اسی سلسلسے کی ایک روایت جمعہ کے دن والدین کی قبروں کی زیارت کے ثواب کے سلسلے میں ملتی ہے۔ اس روایت کی تحقیق ذیل میں پڑھئے؛

جمعہ کے دن والدین کی قبروں کی زیارت کا اجر وثواب

من زار قبر أبو يه أو أحدهما في كل جمعة غفر له وكتب برا
”جو اپنے والدین یا ایک کی قبر پر ہر جمعہ کے دن زیارت کو حاضر ہو ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دےگااور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا لکھا جائے۔“
[بیہقی(شعب الإیمان:۱/۷۹۰۱)، طبرانی (الصغیر:۶۹/۲ح۹۶۹)]
موضوع (من گھڑت): یہ روایت من گھڑت ہے کیونکہ:
۱: اس کا راوی محمد بن النعمان أبو الیمان ”مجہول“ ہے۔ (الجرح و التعدیل: ۱۰۸/۸)
۲: اس کا دوسرا راوی یحی بن العلاء ”متروک“ اور ”متہم“ہے۔
۳:  اور اس کا تیسرا راوی عبد الکریم أبی أمیہ ”ضعیف“ راوی ہے۔
* علامہ سیوطی اور شیخ البانی نے اس روایت کو موضو ع کہا ہے۔ (اللآلی المصنوعۃ : ۳۶۶/۲) ( السلسلۃ الضعیفۃ : ۴۹ )
* امام ہیثمی نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں عبد الکریم ابو امیہ راوی ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد:  ۱۸۹/۳)
* حافظ عراقی نے کہا ہے کہ اس کی سند میں محمد بن نعمان راوی مجہول ہے (تخریج الاحیاء :  ۴۰۲/۹)

LEAVE YOUR COMMENTS