ضعیف اور من گھڑت احادیث سے متعلق بعض ضروری اصطلاحات

 

ذیل میں اصول حدیث کی صرف ان ضروری اصطلاحات کو شامل کیا گیا ہے جو ہماری وہب سائیٹ کی تحریروں میں آتی ہیں۔ ان اصطلاحات میں ترتیب بھی نہیں رکھی گئی۔ اصول حدیث کی مکمل اور تفصیلی اصطلاحات کیلئے علوم الحدیث کی کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔


 

ضعیف حدیث:  ہر وہ حدیث جس میں صحیح حدیث یا حسن حدیث کی صفات موجود نہ ہوں تو وہ حدیث ضعیف ہوگی۔۔۔ اور اس کی اقسام یہ ہیں مثلاً (ضعیف) موضوع، مقلوب، شاذ، معلل، مضطرب، مرسل، منقطع اور معضل وغیرہ [ملخصاً من مقدمۃ ابن الصلاح: ص۲۰ طبع ملتان]

  •  صحیح حدیث: صحیح حدیث وہ ہوتی ہے جو باسند ہو، عادل ضابط عن عادل ضابط آخر تک متصل ہو (یعنی سند کی ابتداء سے آخر تک عادل ضابط راوی دوسرے عادل و ضابط راوی سے روایت کریں)، شاذ اور معلول نہ ہو۔ اس حدیث کی صحت کے حکم میں اہل الحدیث (محدثین) کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو۔ [مقدمہ ابن الصلاح مع شرح العراقی: ص۲۰]

متصل کا مطلب یہ ہے کہ منقطع، معلق، معضل اور مرسل نہ ہو۔

شاذ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے سے اوثق یا زیادہ ثقات کے خلاف نہ ہو۔

معلول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں علت قادحہ نہ ہو۔

 مرسل: اس منقطع روایت کو کہتے ہیں جو کسی تابعی نے بغیر کسی سند کے (یعنی صحابی کے واسطے کے بغیر) رسول اللہ ﷺ سے بیان کر رکھی ہو۔ مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے۔

منقطع: کسی روایت کی سند میں کسی بھی جگہ سے ایک راوی چھوٹ گیا ہو۔

شاذ: اگر ایک ثقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ راوی یا دوسرے ثقہ راویوں کی مخالفت کرے تو یہ روایت شاذ ہوتی ہے۔

منکر: اگر ضعیف راوی ثقہ راوی یا راویوں کی مخالفت کرے تو یہ روایت منکر ہوتی ہے۔

تدلیس: اگر ایک راوی اپنے استاد سے وہ روایت ”قال“ یا ”عن“ وغیرہ الفاظ سے بیان کرے جو اس نے استاد سے نہیں سنی بلکہ کسی دوسرے سے سنی ہے تو یہ تدلیس ہے۔

مُدَلِّس: تدلیس کرنے والے راوی کو مدلس کہتے ہیں۔ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے بشرطیکہ راوی کا مدلس ہونا ثابت ہوجائے۔

تنبیہ: صحیحن (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں مدلس کی عن والی روایات بھی صحیح ہوتی ہیں۔ اس روایت کے صحیح ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن مین سے چند اہم درج ذیل ہیں۔
۱: وہ روایات سماع پر محمول ہیں۔
۲: وہ روایت متابعات اور شواہد پر محمول ہیں۔
۳:
۴: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے صحیح ہونے پر اجماع ہے۔
پھر بھی اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ صحیحین کی کسی ایک روایت پر تدلیس کا اعتراض کریں ، ہم دندان شکن جواب دیں گے اور روایت مذکورہ کا صحیح ہونا ثابت کریں گے۔ ان شاء اللہ

اختلاط: حافظ کمزور ہونے اور دماغ خراب ہونے کو کہتے ہیں:

مختلط: جو راوی اختلاط کا شکار ہوجائے تو اسے مختلط راوی کہتے ہیں۔ مختلط راوی کی اختلاط کے بعد والی روایت ضعیف ہوتی ہیں۔

مجہول: جس راوی کا ثقہ (قابلِ اعتماد) اور صدوق (سچا) ہونا معلوم نہ ہو وہ مجہول کہلاتا ہے۔ مجہول کی دو قسمیں ہیں۔
۱: مجہول العین
۲: مجہول الحال یعنی مستور
مجہول العین ہو یا جہول الحال دونوں کی بیان کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے۔
٭ جس راوی کی کم از کم دو محدثین توثیق کردیں وہ مجہول نہیں رہتا بلکہ ثقہ و صدوق قرار دیا جاتا ہے۔

توثیق: کسی راوی کو ثقہ و صدوق قرار دینا توثیق کہلاتا ہے۔

موضوع: وہ جھوٹی ‘ من گھڑت اور خود ساختہ بات جسےجسے کسی کذاب راوی نے رسول اللہ ﷺکی طرف منسوب کیا گیا ہو۔

کذاب: ایسا راوی جو عمداً کسی بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردے۔

متہم بالکذب: ایسا راوی جس کا حدیث کے بارے میں جھوٹ ظاہر نہ ہو ہاں البتہ عام باتوں میں اس کا جھوٹ ثابت اور معلوم ہو۔

باطل: بے ثبو ت روایت۔

بے اصل: جس کی سند معلوم نہ ہو۔

Leave a reply