ضعیف اور من گھڑت احادیث سے متعلق بعض ضروری اصطلاحات

زیادہ سے زیادہ شیئر کریں......Share on StumbleUponShare on LinkedInShare on TumblrPin on PinterestShare on Google+Share on RedditTweet about this on TwitterShare on Facebook

ضعیف حدیث:

ہر وہ حدیث جس میں صحیح حدیث یا حسن حدیث کی صفات موجود نہ ہوں تو وہ حدیث ضعیف ہوگی۔۔۔ اور اس کی اقسام یہ ہیں مثلاً (ضعیف) موضوع، مقلوب، شاذ، معلل، مضطرب، مرسل، منقطع اور معضل وغیرہ [ملخصاً من مقدمۃ ابن الصلاح: ص۲۰ طبع ملتان]

  •  صحیح حدیث:

صحیح حدیث وہ ہوتی ہے جو باسند ہو، عادل ضابط عن عادل ضابط آخر تک متصل ہو (یعنی سند کی ابتداء سے آخر تک عادل ضابط راوی دوسرے عادل و ضابط راوی سے روایت کریں)، شاذ اور معلول نہ ہو۔ اس حدیث کی صحت کے حکم میں اہل الحدیث (محدثین) کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو۔ [مقدمہ ابن الصلاح مع شرح العراقی: ص۲۰]

متصل کا مطلب یہ ہے کہ منقطع، معلق، معضل اور مرسل نہ ہو۔

شاذ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے سے اوثق یا زیادہ ثقات کے خلاف نہ ہو۔

معلول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں علت قادحہ نہ ہو۔

  • مختلط کا اختلاط کے بعد روایت بیان کرنا علت قادحہ ہے۔
  • مدلس کا عن وغیرہ کے ساتھ بدون تصریح سماعت کرنا علت قادحہ ہے۔
  • علل حدیث کے ماہر محدثین کا کسی روایت کو بالاتفاق معلول و ضعیف قرار دینا علتِ قادحہ ہے۔

ضعیف حدیث کی مثال:  روزہ افطار کرتے وقت کی دعا


مزید اصطلاحات ان شاء اللہ بہت جلد شامل کی جائیں گی

Leave a reply