میلاد النبی ﷺ پر جھنڈے لگانا: کیا نبی کریمﷺ کی ولادت سے پہلے تین جھنڈے لگائے گئے؟

میلاد النبی ﷺ پر جھنڈے لگانا: کیا نبی کریمﷺ کی ولادت سے پہلے تین جھنڈے لگائے گئے؟

ربیع الاول کے مہینے کےشروع ہوتے ہی اہل باطل کی جانب سے جہاں ماہ ربیع الاول کی مبارک باد کے حوالے سے ایک من گھڑت اور جھوٹا میسج رسول اللہ ﷺ سے منسوب کرکے پھیلایا جاتا ہے وہاں دیگر بہت سی ضعیف، موضوع و من گھڑت اور بے اصل روایات و واقعات بغیر تحقیق و تصدیق کے نبی کریم ﷺ سے منسوب کردی جاتی ہیں۔ انہی روایات میں سے ایک روایت میلاد النبی ﷺ پر جھنڈے لگانے سے متعلق پیش کی جاتی ہے۔ اس روایت کی تحقیق پڑھئیے؛

میلاد النبی ﷺ پر جھنڈے لگانا

حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

وَرَأَيْتُ ثَلَاثَ أَعْلَامٍ مَضْرُوبَاتٍ: عَلَمٌ فِي الْمَشْرِقِ , وَعَلَمٌ فِي الْمَغْرِبِ , وَعَلَمٌ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ
” میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے، ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور اکرم ﷺ کی ولادت ہوگئی۔ “ 

(دلائل النبوة لأبی نعیم الأصبھانی : ج۱، ص۶۱۰ رقم ۵۵۵)

سخت ضعیف: یہ سخت ضعیف  (یاپھر موضوع)روایت ہے، کیونکہ؛

۱:  اس کا راوی یحییٰ بن عبد اللہ  البابلتی ضعیف ہے۔

٭ حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۵۸۵) اور (تہذیب التہذیب: ج۱۱،ص۲۴۰ رقم: ۳۹۳)

۲: یحییٰ بن عبد اللہ کا استاد ابو بکر بن ابی مریم سخت ضعیف راوی ہے ۔

٭  اسے امام احمد ، ابوداود ، ابو حاتم ، ابو زرعۃ ، یحیی بن معین، دارقطنی ، النسائی رحمھم اللہ علیھم اجمعین اور اس کے علاوہ بھی کئی دیگر محدیثین نے ضعیف و مجروح قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۹۷۴) اور دیکھئے: (تہذیب التہذیب: ج۱۲،ص۲۸ رقم: ۱۳۹)

٭ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس روایت کو البدایۃ و النھایۃ ج۶ ص ۲۹۹ میں ذکر کیا ہے اور ان الفاظ کے ساتھ اس کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں (وهو غريب جدا)

یاد رہے دین ثقہ اور معتبر راویوں کی روایات کا نام ہے ضعیف اور غیر معتبر راویوں کی روایات کو دین ماننا اہل بدعت کا شعار ہی ہوسکتا ہے۔ ایسی موضوع اور باطل روایات سے استدلال کرنا انہی لوگوں کا شیوہ ہے جن کا دامن قران و سنت کے دلائل سے خالی ہو ، اللہ ہمیں حق پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین

ویڈیو کا ماخذ: dawahvideos.blogspot.com

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .