کیا سب سے پہلے ماہِ ربیع الاول کی مبارک باد دینے والے پر جہنم حرام ہے؟

کیا سب سے پہلے ماہِ ربیع الاول کی مبارک باد دینے والے پر جہنم حرام ہے؟

رمضان المبارک، ربیع الاول اور صفر کا مہینہ شروع ہوتے ہی چندمن گھڑت اور خود ساختہ روایات سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن ذرائع پر عوام میں پھیلنے لگتی ہیں جن میں اسلامی مہینوں کی  سب سے پہلے اطلاع دینے، مبارک بادینے یا اختتام کی خبر دینے والے کو جنت کی بشارت یا شفاعت کا وعدہ کیا گیا ہوتا ہے۔ اس قسم کی تمام روایات من گھڑت اور خودساختہ ہیں۔ ان میں سے ایک روایت  ربیع الاول کے مہینے کی سب سے پہلے مبارکباد دینے سے متعلق بھی ملتی ہے، جس کی حقیقت ذیل میں پڑھئیے:

سب سے پہلے ربیع الاول کی مبارکباد دینے والے پر جہنم حرام

 ماہِ ربیع الاول کے آتے ہی ایک اس ماہ کی فضیلت میں ایک حدیث سوشل میڈیا پر نشر ہونا شروع ہوجاتی ہے کہ:

“جو بھی اس فضیلت والے ماہ(یعنی ربیع الاول) کی مبارک باد سب سے پہلےدے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی “

موضوع (من گھڑت): یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔

اس روایت کی  سند حدیث کی کتابوں میں نہیں ملی، اور خود ساختہ ہونے کی علامات اس حدیث پر بالکل واضح ہیں، اس لئے اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ آپ کے بارے میں جھوٹ باندھنے کے زمرے میں آتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور امام مسلم رحمہ الله نے اسے اپنی صحیح مسلم کے مقدمہ میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ

“جس شخص نے میری طرف منسوب کوئی حدیث بیان کی، اور وہ خدشہ بھی رکھتا تھا یہ جھوٹ ہے، تو بیان کرنے والا بھی دو جھوٹوں میں سے ایک ہے“

» امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

“اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی سنگینی بیان کی گئی ہے، اور جس شخص کو اپنے ظنِ غالب کے مطابق کوئی حدیث جھوٹی لگی لیکن پھر بھی وہ آگے بیان کر دے تو وہ بھی جھوٹا ہوگا، جھوٹا کیوں نہ ہو؟! وہ ایسی بات کہہ رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی” انتہی (شرح صحيح مسلم : ۱/۶۵)

اورجشن میلاد لانبی ﷺ منانے والوں کی طرف سے پیش کردہ اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ ماہِ ربیع الاول کی جس شخص نے سب سے پہلے مبارکباد دی تو صرف اسی عمل سے اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی، یہ بات حد سے تجاوز، اور مبالغہ آرائی پر مشتمل ہے، جو کہ اس حدیث کے باطل اور خود ساختہ ہونے کی علامت ہے۔

» چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“خود ساختہ احادیث میں اندھا پن ، بے ڈھب الفاظ، اور حد سے زیادہ تجاوز ہوتا ہے، جو ببانگ دہل ان احادیث کے خود ساختہ ہونے کا اعلان کرتا ہے، کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر خود گھڑی گئی ہے” انتہی (المنار المنيف : ص۵۰)

 کسی بھی اسلامی مہینے جیسے صفر، ربیع الاول یا رمضان کی مبارکباد دینے سے جہنم حرام ہونے، جنت کی بشارت یا شفاعت وغیرہ کے واجب ہوجانے سے متعلق کوئی بھی حدیث موجود نہیں ہیں۔ سب من گھڑت باتیں ہیں۔

Zaeef Hadith

عوام اور خواص میں بدعات، باطل عقائد اور نظریات پھیلانے کا سبب بننے والی مشھور ضعیف، موضوع (من گھڑت)، بے سند اور بے اصل روایات، واقعات اور اقوال سے باخبر رکھنے کیلئے سب بہترین ویب سائیٹ۔

ہمارا فیس بک پیج ضرور لائیک کریں۔

جزکم اللہ خیراً

Related Posts
Leave a reply