نماز میں نظر کا مقام: نماز میں قیام، رکوع، سجدے اور تشہد میں نظر کہاں ہونی چائے؟

نماز میں نظر کا مقام: نماز میں قیام، رکوع، سجدے اور تشہد میں نظر کہاں ہونی چائے؟

سوشل میڈیا پر اکثر لوگ ایک پوسٹ شئیر کر رہے ہوتے ہیں کہ نماز میں نظر قیام کی حالت میں سجدے کی جگہ، رکوع میں پاؤں کے درمیان، تشہد میں گود میں ہونی چاہیے لیکن نماز میں نظر کے مقام کے حوالے سے یہ تقسیم کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ اس کی حقیقیت ذیل میں پڑھئے:

محمد بن علی بن محمد بن علی حصکفی (۱۰۸۸ھ) کہتے ہیں:

”حصول خشوع کیلئے نمازی اپنی نظر قیام میں مقام سجدہ پر، رکوع میں پاؤں کے درمیان، سجدے میں نکوڑی پر، تشہد میں گود پر اور سلام پھیرتے وقت دائیں بائیں کندھے پر رکھے۔“

(الدر المختار شرح تنویر الأبصار، ص ۶۶، باب صفة الصلوة)

اس خود ساختہ خشوع پر کوئی دلیل نہیں، اہل علم نے صدیوں پہلے اس کا رد کردیا ہے۔

٭ امام اندلس، امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:
”اس ساری تقسیم کا حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، نہ نگاہ رکھنے کے متعلق کوئی وجب ہے۔ نمازی کا اپنی نظر مقامِ سجدہ پر رکھنا اس کے لیے سلامتی اور مشغولیت سے بچنا ہے۔“ (التمھید لما فی المؤطأ من المعانی و الأسانید: ۳۹۳/۱۷)

٭ علامہ العز بن عبد السلام رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”یہ قول درست نہیں، کتاب و سنت کے دلائل سے خالی ہے۔ واللہ أعلم!“ (فتاوى العزّ بن عبدالسّلام: ص ۶۸)

نماز میں نظر سجدہ کی جگہ ہونی چاہئے

نماز میں نظر سجدہ کی جگہ ہونی چاہئے۔ دورانِ نماز نظریں سجدے کی جگہ رکھنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ  کی وضاحت بہت سی صحیح احادیث میں موجود ہے، جن میں مکمل نماز کے دوران  یہی کیفیت وارد ہے البتہ حالت تشہد میں انگلی کے اشارے پر ہونی چائیے۔

نماز میں نظر کے مقام سے متعلق ائمہ دین کے اقوال

٭ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے: کسی کی نظر مقامِ سجدہ سے تجاوز نہ کرے، اگر نظر دوبارہ دوسری طرف جائے، تو آنکھیں بند کرلے۔“ (تعظیم قدر الصّلاة لمحمد بن نصر المروزي: ۱۴۳، وسندہ صحیح)
ایک روایت کے الفاظ ہیں:
”صحابی رضی اللہ عنہم مستحب سمجھتے تھے کہ نمازی اپنی نظر مقام سجدہ پر رکھے۔“ (تعظیم قدر الصّلاة لمحمد بن نصر المروزي: ۱۴۵، وسندہ حسن)

٭ مسلم بن یسار رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ نمازی اپنی نظر کہاں رکھے تو فرمایا:
”مقام سجدہ بہتر ہے۔“ (الزّھد لعبد اللہ بن المبارک: ۱۰۸۱، وسندہ صحیح)

٭ حافظ ابن المنذر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”مقامِ سجدہ پر نظر رکھنے میں زیادہ بہتری، سلامتی اور احتیاط ہے۔ نمازی اپنی نظر ایسی چیز کی طرف مرکوز نہ کرے، جو اسے نماز سے غافل کردے۔ اکثر اہل علم کا یہی فتویٰ ہے۔“ (الأوسط في السّنن و الإجماع و الإختلاف: ۲۷۳/۳)

٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”امام اور مقتدی میں فرق یوں کیا جاسکتا ہے کہ دونوں کے لیے مقام سجدہ پر نگاہ رکھنا مستحب ہے، البتہ مقتدی بہ وقت ضرورت امام کو دیکھ سکتے ہے۔ اکیلے نماز کا وہی حکم ہے، جو امام کا ہے۔“ (فتح الباری شرح صحیح البخاری: ۲۳۲/۲)

٭ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
”ظاہر الروایۃ میں منقول ہے کہ نمازی کی نظر محل سجدہ پر ہونی چاہیے۔“ (ردّ المحتار علی الدّر المختار لمعروف به فتاویٰ شامي: ۳۲۱/۱)

تنبیہ: بوقت ضرورت نمازی اپنے سامنے دیکھ سکتا ہے۔ جس طرح بوقتِ ضرورت التفات کرسکتا ہے۔

٭ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
”نماز میں میری نظر اس دھاری دار چادر پر پڑجاتی ہے، خدشہ رہتا ہے کہ یہ نماز سے مشغول نہ کردے۔“ (صحیح البخاری: ۳۷۳، صحیح مسلم: ۵۵۶)

نیز بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”جب آپ نے مجھے مصلےٰ سے پیچھے ہٹتے دیکھا، اس وقت میں نے جہنم دیکھی تھی، اس کا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا تھا۔“ (صحیح البخارر: ۱۱۵۴، صحیح مسلم: ۹۰۱)

٭ ابو معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم ﷺ ظہر و عصر میں قرأت کرتے تھے۔ فرمایا: جی ہاں، پوچھا: آپ کو کیسے پتہ چلتا تھا؟ فرمایا: ”آپ ﷺ کی ڈاڑھی مبارک کے ہلنے سے۔“ (صحیح البخاری: ۷۴۶)

٭ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”کعبۃ اللہ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے، جو نمازی کو مشغول کردے۔“ (مسند الحمیدي: ۵۶۵، سنن أبي داود: ۲۰۳۰، سندہ صحیح)

اس مسئلہ سے متعلق مزید پڑھئے:  رکوع کی حالت میں سجدہ کی جگہ پر نظر رکھنے کی کیا دلیل ہے؟

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .