عبقری کا رد: عبقری کے خودساختہ وظائف قرآن و سنت کی روشنی میں

عبقری کا رد: عبقری کے خودساختہ وظائف قرآن و سنت کی روشنی میں

محترم قارئین،

عبقری ویب سائٹ اور فیس بک پیجز پر روز بروز نئے سے نیا وظیفہ دکھائی دیتا ہے۔مثلا آیتیں اور وظیفے پڑھ کرپیٹرول کے بغیر گاڑی چلانا تو کبھی بجلی کا میٹر باندھ دینا۔ کبھی بیٹیوں کے رشتوں کیلیے روحانی وظائف، اور کبھی مردوں کو خواب میں ملنے کے وظائف وغیرہ۔آئیے اس قسم کے وظیفوں اور ٹوٹکوں کا قرآن وسنت کی روشنی میں موازنہ کریں ۔ کہ کیا ایسے وظیفوں کی اسلام میں اجاز ت ہے ۔

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف فرما نہیں تھے کہ تین صحابی آپ ﷺ کے گھر آئے اور انہوں نے پردے کے پیچھے سے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کے بارے میں پوچھا ، ان کی خواہش تھی کہ ہماری رات کی عبادت اس کا طریقہ اور اس کا وقت بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ اور وقت کے مطابق ہو ، بالکل ویسے کریں جیسے اللہ کے پیغمبر کیا کرتے تھے ۔ جب انہیں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عبادت کے بارے میں بتلایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو تھوڑا سمجھا ۔

پھر خود ہی کہا کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کے اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ معاف کر دئیے ہیں اور ہم چونکہ گناہ گار ہیں لہٰذا ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے ۔ چنانچہ تینوں نے کھڑے کھڑے عزم کر لیا ۔ ایک نے کہا میں آج کے بعد رات کو کبھی نہیں سوؤں گا بلکہ پوری رات اللہ کی عبادت کرنے میں گزاروں گا ۔ دوسرے نے کہا میں آج کے بعد ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔ تیسرے نے کہا میں آج کے بعد اپنے گھر نہیں جاؤنگا اپنے گھر بار اور اہل و عیال سے علیحدہ ہو جاؤں گا تا کہ ہمہ وقت مسجد میں رہوں ۔

چنانچہ تینوں یہ بات کہہ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ تین افراد آئے تھے اور انہوں نے یوں عزم ظاہر کیا ۔ یہ سن کر نبی علیہ السلام کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا یوں لگتا تھا گویا سرخ انار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نچوڑ دیا گیا ہے اتنے غصے کا اظہار فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو بلا کر پوچھا کہ تم نے یہ کیا بات کی ؟ کیا کرنے کا ارادہ کیا ؟ پھر نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنا عمل بتایا کہ میں تو رات کو سوتا بھی ہوں اور جاگتا بھی ہوں ، نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میرا گھر بار ہے اور میری بیویاں ہیں ۔ میں انہیں وقت بھی دیتا ہوں اور اللہ کے گھر میں بھی آتا ہوں ۔ یہ میرا طریقہ اور سنت ہے جس نے میرے اس طریقے سے اعراض کیا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔

یعنی جس نے اپنے طریقے پر چلتے ہوئے پوری پوری رات قیام کیا ۔ زمانے بھر کے روزے رکھے اور پوری عمر مسجد میں گزار دی اس کا میرے دین سے میری جماعت سے میری امت سے کوئی تعلق نہ ہو گا ۔ وہ دین اسلام سے خارج ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی محنت کا نام نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا نام نیکی ہے ۔ ایک عمل اس وقت تک عمل صالح نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تائید اور تصدیق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا ۔ کیونکہ وہ عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور منہج کے خلاف تھا ۔

یاد رہے کہ کوئی راستہ بظاہر کتنا ہی اچھا لگتا ہو اس وقت تک اس کو اپنانا جائز نہیں جب تک اس کی تصدیق و تائید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں ۔ اس حدیث مبارکہ میں جو اعمال بیان کے گئے ہیں جن کا عزم صحابہ کرام نے کیا تھا -یعنی رات کی عبادت، روزہ رکھنا اور نکاح کرنا وغیرہ – یہ سب سنّت رسول صل الله علیہ وسلم ہیں – لیکن چوں کہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین نے اپنی طرف سے ان کی تعداد کا تعین کرلیا تھا – تو اس پر بھی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظھار فرمایا ۔

تو پھر اپنی طرف سے مخصوص الفاظ کے مخصوص تعداد میں وظیفے کرنا اور مخصوص آیات پڑھنا اور ایسے خود ساختہ وظیفوں کو شہرت دینا کیسے درست اور جائز ہوسکتاہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم تو اپنی امّت پر مہربان تھے -فرماتے تھے کہ “دین میں آسانی پیدا کرو اس کو مشکل مت بناؤ – اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یہ دین تم پر غالب آجائے گا اور تم اس کا حق ادا نہ کر سکو گے ” اور یہ بھی فرمایا کہ “الله کو وہ عمل پسند آتا ہے جو اگرچہ تھوڑا ہو لیکن اس میں دوام (ہمیشگی ہو) ” لہذا اس قسم کی وظیفے جیسے 300 مرتبہ یا 700 مرتبہ لاالہ الا اللہ کا ورد ‘ یا سوا لاکھ آیت کریمہ کا ختم ، اور یاحفیظ یاحفیظ وغیرہ کے ورد ایک مخصوص تعداد میں کرنا اور عوام میں ان وظائف کو شہرت دینا ایک مومن کی شان نہیں – اس کا مطلب تو صاف ظاہر ہے کہ آپ نبی کریم صل الله علیہ وسلم کے نافذ کردہ احکامات پر اپنے بزرگان دین کے اعمال کو فوقیت دے رہے ہیں- اور یہ کھلی منافقت ہے.

نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ صبح و شام کے اذکار بتائے ہیں۔ اور ان اذکار کو پڑھنے کا طریقہ اور تعداد بھی بتائی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں کے خاص فضائل بھی بتائے جیسے سورہ بقرہ جس گھر میں پڑھی جائے وہاں جادو اور جنات وغیرہ کا اثر نہیں ہوتا۔ اسکے علاوہ جمعہ کو سورہ کھف کی فضیلت، ہر رات سونے سے پہلے سورۃ سجدہ اور ملک کی فضیلت۔ ہر نماز کے بعد معوذتین یعنی سورۃاخلاص ،سورۃالفلق اور سورۃ الناس ایک ایک مرتبہ اور فجر اور مغرب کے بعد تین تین مرتبہ پڑھنے کی ترغیب دی۔ سونے کے اذکار بتائے۔ کھانے کے ، پینے کے، قضائے حاجت کیلیے جانے کی دعا، گھر سے نکلنے کی دعا، بازار میں داخل ہونے کی دعا۔ غرض کہ ہر وقت اور ہر کام میں اللہ کا ذکرسنت طریقےسے کرنے کاثبوت ملتا ہے تو کیا ہمیں یہ سب کافی نہیں۔ ؟

عبقری کے خود ساختہ وظائف کا رداس واقعہ میں بھی ملتا ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں قرآن کی مختلف سورتوں کے فضائل و خواص بیان کر رہا تھا. عبداللہ ابن عمر رضی الله عنہم نے اس کو پکڑ لیا اور فرمایا کہ الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تو یہ خواص نہیں بتائے جن کے سامنے قرآن نازل ھوا ھے. تمہیں ان خواص کی اطلاع کس نے دی ھے ؟ اس کے بعد آپ نے اس کو زبردستی مسجد سے نکال دیا اور فرمایا کہ اگر میں نے آئندہ تمہیں مسجد میں یہ کام کرتے دیکھا تو سزا بھی دونگا۔

دیکھا جائے تو عبقری کے عجیب وغریب وظیفوں کا سورس کیا ھے؟ کس وحی نے ان کو آیتوں کے خواص یا فضائل بتائےہیں ۔ یا ان وظیفوں کے بانی حکیم طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب کے پاس فرشتہ آتا ہے ۔ اور انکو یہ وظائف بتاتا ہے یا یہ سمجھتے ہیں کہ نبی علیہ السلام کو ان وظیفوں کو علم نہیں تھا اور انہیں پتہ چل گیا ہے ۔ اور باقاعدہ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں فلاں وظیفہ کرنے کی اجازت حضرت حکیم صاحب کی طرف سے سب کو اجازت ہے۔فلاں وظیفہ صرف تسبیح خانے میں کریں اور فلاں گھر میں نہ کریں وغیرہ وغیرہ۔ ان سے یہ پوچھیں کہ انکو کس نے اختیار دیا اس طرح اجازتیں دینے کا اوراللہ کے ذکر سے روکنے کا؟؟؟

اور مسلمان عبقری کا چورن دھڑا دھڑھ خرید رہے ھیں۔آج کل ہر فرقہ اپنے فرقے کے گرو کا دعوئ نبوت بھی تسلیم کرنے پر تیار بیٹھا ھوا ہے. لیکن یہ سوچنے کی زحمت کوئی نہیں کرتا کہ یہ بات قرآن یا حدیث میں موجود بھی ہے یا نہیں ؟ کہیں ہم بدعت کے مرتکب تو نہیں ہورہے ؟؟؟؟

بات دراصل یہ ہے کہ اس طرح کے کام صوفیت اورطریقت سے منسلک ہیں۔ طریقت کے ہرسلسلے کا ایک شیخ، مخصوص ورد اور وظائف اور رسم و رواج ہوتے ہیں، لیکن ان سب میں مشترک یہ ہے کہ یہ سب کچھ کتاب و سنت کے صحیح فہم سے کوسوں دور ، اور بدعات و خرافات سمیت خود ساختہ عبادات کی ترویج میں خوب مگن ہوتے ہیں اور کچھ غلو کرتے ہوئے اتنا آگے بڑھے ہوئے ہیں کہ نظریاتی یا عملی شرک میں مبتلا ہیں اور اس کی عجیب و غریب وظیفوں والی پوسٹیں اسلام سے استہزاء کے سوا کچھ نہیں۔ اس تناظر میں ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ عقیدہ توحید مضبوط بنائے،کتاب و سنت کو سلف صالحین کے فہم کے مطابق سمجھے، بدعات اور خود ساختہ امور سے بچے، کیونکہ راہِ نجات یہی ہے۔

آخر میں یہ حدیث بیان کرنا مناسب سمجھونگا جو امام احمدرحمہ اللہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ ایک سیدھا خط کھینچا، اور فرمایا: (یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے) پھر اس خط کے دائیں اور بائیں خطوط کھینچے، اور فرمایا: (یہ مختلف راستےہیں، اور ان میں ہر راستے کی طرف دعوت دینے کیلئے شیطان بیٹھا ہوا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ( وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ )[بیشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، چنانچہ تم اسی کی پیروی کرو، اور کسی اور راستے کی پیروی مت کرو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔

اسی طرح ابو داود : (4607) ، ترمذی: (2676) ، اور ابن ماجہ: (44) میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں سے جو بھی میرے بعد زندہ رہےگا تو وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا، پس تم میری ، اور خلفائے راشدین کی سنت پر کار بند رہنا، اسے انتہائی مضبوطی سے تھامنا، اور اپنے آپ کو خود ساختہ امور سے بچانا، کیونکہ [دین] میں ہر خود ساختہ بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔

ہم بہت عزت اور احترام سے حکیم طارق محمود صاحب کو اور انکے پیروکاروں کومیسج دینا چاہتے ہیں کہ حکیم صاحب بے شک آپ ایک اچھے اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔آپ نے حکمت میں امریکہ سے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے اور کوئی شک نہیں کہ آپ اپنے حکمت کے اس شعبے میں ماہر ہیں۔ آپکے حکمت کے نسخے اور دوائیاں بہت فائدہ مند اور کامیاب ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن خدارا دین کے بارے میں کچھ کہنے سے احتیاط کیجیے اور لوگوں کوان خود ساختہ وظیفوں اور ٹوٹکوں پر لگانے کی بجائے قرآن وسنت کی طرف لگائیے اور دین کا حلیہ مت بگاڑیے۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے محبوب ﷺ کی سنت پر چلنے والا بنائے ۔ آمین ۔

از قلم: ابوعبیداللہ

 انتخاب وتحقیق: عمران شہزاد تارڑ

یہ تحریر فاطمه اسلامک سینٹر کے بلاگ سے لی گئی ہے

Zaeef Hadith

عوام اور خواص میں بدعات، باطل عقائد اور نظریات پھیلانے کا سبب بننے والی مشھور ضعیف، موضوع (من گھڑت)، بے سند اور بے اصل روایات، واقعات اور اقوال سے باخبر رکھنے کیلئے سب بہترین ویب سائیٹ۔

ہمارا فیس بک پیج ضرور لائیک کریں۔

جزکم اللہ خیراً

Related Posts
Leave a reply