ناخن تراشنے کی ضعیف حدیث کو ضعیف ماننے پر بعض علماء برص میں مبتلاء ہوگئے

ناخن تراشنے کی ضعیف حدیث کو ضعیف ماننے پر بعض علماء برص میں مبتلاء ہوگئے

 

علامہ شہاب الدین خفاجی مصری الحنفی (رح) اپنی کتاب نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں!

ایک حدیث ضعیف میں بدھ کے دن ناخن کتروانے کے بارے میں آیا ہے کہ یہ مورث برص ہوتا ہے، بعض علماء نے کتروائے کسی نے بربنائے حدیث منع کیا، فرمایا حدیث صحیح نہیں، چنانچہ فوراً برص میں مبتلا ہوگئے، خواب میں حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے، نبی کریم علیہ السلام سے اپنے حال کی شکایت عرض کی، نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا! تم نے سنا نہ تھا کہ ہم نے اس سے نفی فرمائی ہے۔ عرض کی حدیث میرے نزدیک صحت کو نہ پہنچی تھی، ارشاد ہوا : تمہیں اتنا کافی تھا کہ حدیث ہمارے نام پاک سے تمہارے کان تک پہنچی، یہ فرما کر حضور علیہ السلام نے اپنا دست مبارک ان کے بدن پر لگا دیا، فوراً اچھے ہوگئے اور اسی وقت توبہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر مخالفت نہ کروں گا۔ 

(نسیم الریاض، ج 1 بیروت، دارالفکر ص 344)​

تبصرہ: نسیم الریاض شرح شفا سے جس عبارت کا ترجمہ نقل کیا گیا ہے وہ عبارت تو نہ مل سکی  لیکن  یہی بات نسیم الریاض کے مصنف علامہ خفاجی کے ہم عصر اور ہم وطن علامہ عبدالرؤف مناوی نے  فيض القدير شرح الجامع الصغير میں لکھی ہے۔

وفي بعض الآثار النهي عن قص الأظافر يوم الأربعاء وأنه يورث البرص قال في المطامح: وأخبر ثقة من أصحابنا عن ابن الحاج وكان من العلماء المتقين أنه هم بقص أظافره يوم الأربعاء فتذاكر الحديث الوارد في كراهته فتركه ثم رأى أنها سنة حاضرة فقصها فلحقه برص فرأى النبي صلى الله عليه وسلم في نومه فقال له: ألم تسمع نهيي عن ذلك: فقال: يا رسول الله لم يصح عندي الحديث عنك. قال: يكفيك أن تسمع ثم مسح بيده على بدنه فزال البرص جميعا. 

اس عبارت کی دو شقیں ہیں :

پہلی شق:

ایک تو یہ کہ بدھ کے دن ناخن کاٹنے سے منع والی روایت ضعیف ہے ، (اور یہ ضعیف روایت کہاں ہے یعنی اس کا مخرج و مصدر کیا ہے وہ بھی ہمیں پتا نہیں ) 

اور نہ ہی یہ بات معلوم ہے کہ یہ کس درجہ ضعیف ہے ، تو شرعی حکم کیلئے اس کی اسناد کی صحیح حالت معلوم ہونا ضروری ہے۔

دوسری شق:

یہ ایک خواب ہے ، اور خواب سے اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی کوئی بات ثابت نہیں ہوسکتی ، ایسا خواب اگر سچا بھی ہو تو اس کا تعلق صرف دیکھنے والے سے ہوسکتا ہے ، تاہم کوئی شرعی حکم کسی کیلئے خواب سے ثابت نہ ہوگا ۔

اس روایت میں موجود فساد!

 اس روایت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بذریعہ خواب ایک بات منسوب کی جا رہی ہے اور ”فوراً اچھے ہو گئے” کہہ کر اس خواب کو سچا بھی ثابت کیا جارہا ہے!

جبکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات منسوب کی گئی ہے، وہ قرآن کے خلاف ہے۔

ذرا اس روایت کے ان الفاظ پر غور فرمائیں!  ”ارشاد ہوا: تمہیں اتنا ہی کافی تھا کہ حدیث ہمارے نام پاک سے تمہارے کان تک پہنچی،“

جبکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (سورة الحجرات 6)

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو ۔ (ترجمہ احمد علی لاہوری)

یہاں اللہ تعالیٰ نے بغیر تحقیق و اثبات کے کسی خبر پر عمل کرنے سے منع فرمایا ہے!

اور خود نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے :
كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع (صحیح مسلم ،مقدمہ )
”کافی ہے آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ کہ جو سنے اس کو بیان کرے“
دوم کہ اگر کسی حدیث پر عمل کے لئے اس حدیث کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے منسوب ہونا ہی کافی ہو تو بالکل جھوٹی موضوع احادیث بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر بیان کی جاتی ہے، یوں تو ان جھوٹی موضوع احادیث پر عمل کا بھی اثبات ہو جائے گا!
Related Posts
Leave a reply