رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک، فتاوی علمیہ، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، ضعیف احادیث

کیا کسی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ تھا؟

کم علم خطباء اور اہل بدعت کی جانب سے ایک روایت عوام میں بہت مشہور کی گئی کہ نبی کریم ﷺ کا سایہ مبارک نہ تو سورج کی روشنی میں دکھتا تھا اور نہ ہی چاند کی چاندنی میں لیکن یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے یعنی اصول حدیث کی رو سے اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں۔ جبکہ صحیح احادیث مبارکہ میں ہمیں نبی کریم ﷺ کے سایہ مبارک کا ثبوت ملتا ہے۔

کیا نبی کریم صلی اللہ علیه و سلم کا سایہ تھا؟

سوال: کیا کسی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ تھا؟

جواب: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ کے سایہ کا ثبوت کئی احادیثِ صحیحہ میں ہے اور اس کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔

اول:  طبقات ابن سعد (۱۲۶/۸، ۱۲۷، واللفظ لہ) اور مسند احمد (۱۳۱/۶، ۱۳۲، ۲۶۱) میں امام مسلم کی شرط پر شمیسہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

"فبینما أنا یوماً في منصف النھار، إذا أنا بظل رسول اللہ ﷺ مقبلاً”

دوپہر کا وقت تھا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ آرہا ہے۔

*شمیسہ کو امام ابن معین نے ثقہ کہا ہے۔ (تاریخ عثمان بن سعید الدارمی: ۴۱۸)

*اور ان سے شعبہ نے بھی روایت کی ہے اور شعبہ (حتی الامکان) اپنے نزدیک عام طور پر صرف ثقہ سے روایت کرتے تھے۔ ”کما ھو الأغلب“ (دیکھئے: تہذیب التہذیب:۴/۱، ۵) لہذا یہ سند صحیح ہے۔

دوم: اسی طرح طویل روایت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ جس کا ایک حصہ کچھ یوں ہے:

"فلما کان شھر ربیع الأول، دخل علیھا، فرأت ظله۔۔۔” إلخ

جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو آپ (ﷺ) اُن کے پاس تشریف لائے، انھوں نے آپ کا سایہ دیکھا۔۔۔ الخ

(مسند احمد: ۳۳۸/۶)

*اس کی سند صحیح ہے اور جو اسے ضعیف کہتا ہے وہ خطا پر ہے کیونکہ شمیسہ کا ثقہ ہونا ثابت ہوچکا ہے۔

سوم: صحیح ابن خزیمہ (۵۱/۲ ھ ۸۹۲) میں بھی صحیح سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"حتی رأیت ظلّي و ظلّکم ۔ ۔ ۔ ۔ إلخ”

یہاں تک کہ میں نے اپنا اور تمہارا سایہ دیکھا ۔ ۔ ۔۔ الخ

*اسے حاکم اور ذہبی دونوں نےصحیح کہا ہے۔ (المستدرک للحاکم: ۴۵۶/۴)

کسی صحیح یا حسن روایت سے قطعاً یہ ثابت نہیں کہ نبی ﷺ کا سایہ نہیں تھا۔ علامہ سیوطی نے خصائص کبریٰ میں جو روایت نقل کی ہے وہ اصول حدیث کی رُو سے باطل ہے۔

(محدث زبیر علی زئی رحمہ اللہ: فتاویٰ علمیہ: ج۱ ص ۸۱)

LEAVE YOUR COMMENTS