خلافت وملوکیت: مؤرخین نے جھوٹی روایات کیوں بیان کیں؟ اس میں سید مودودی صاحب کا کیا قصور؟

خلافت وملوکیت: مؤرخین نے جھوٹی روایات کیوں بیان کیں؟ اس میں سید مودودی صاحب کا کیا قصور؟

مؤرخین نے جھوٹی روایات کیوں بیان کیں؟

خلافت وملوکیت میں مودودی صاحب نے ساری روایات اہل سنت کی کتابوں سے نقل کی ہیں، اس میں ان کا کیا قصور؟

 

جب بھی صحابہ کرام پر جھوٹے الزامات لگانے پر سید مودودی صاحب پر تنقید کی جاتی ہے تو بہت ”لکھے پڑھے“ احباب بھی دفاع میں یہی رٹی رٹائی بات دوہراتے سنائی دیتے ہیں کہ :
” مودودی صاحب نے اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا، انہوں نے تو سب کچھ اہل سنت کے مؤرخین کی کتابوں سے نقل کیا ہے، آپ نے اگر مجرم بنانا ہے تو ان لوگوں کو بنائیں، جنہوں نے ایسی روایات درج کیں، مودودی صاحب نے تو صرف نقل کی ہیں۔“

حالانکہ یہ بات کوئی سمجھ دار انسان کر ہی نہیں سکتا، کیونکہ امام طبری رحمہ اللہ وغیرہ مؤرخین نے تاریخی روایات کی بالکل اسی طرح سندیں بیان کی ہیں، جس طرح محدثین کرام احادیث کی سندیں بیان کرتے ہیں۔ 

سند بیان کر دینے سے محدث یا مؤرخ کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے اور ساری ذمہ داری اس سے استفادہ کرنے والوں کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ بل کہ جھوٹی روایات کی سند بیان کرنے کا ایک بڑا سبب یہی ہوتا ہے کہ ان کو گھڑنے والوں سے آگاہی ہو سکے۔

جن مؤرخین نے کچھ بلا اسناد روایات نقل کر دی ہیں، وہ بھی بطور مؤرخ ہی نقل کر گئے کہ اس حوالے سے ان کے علم میں یہ یہ بات بھی آئی ہے اور وہ ایسا کر کے باسند کتابوں میں اس کے وجود کا اشارہ دے رہے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کچھ روایات کی سند بیان کر دیتے ہیں اور کچھ کو بلا سند نقل کر دیتے ہیں، علماء بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا مصدر عموما تفسیر طبری ہی ہوتا ہے، جسے سند کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے، فورا تفسیر طبری سے رجوع کر کے سند حاصل کر لیتا ہے۔ بالکل یہی طرز عمل ان کا اپنی تاریخ کی کتاب ”البدایہ والنھایہ“ میں ہے۔

٭  جس طرح محدثین کرام نے اکثر با سند کتب اپنا موقف بیان کرنے کے لیے نہیں، بل کہ صرف اور صرف ساری روایات جمع کرنے کے لیے لکھی ہیں، اسی طرح اکثر مؤرخین نے تاریخ کی کتابیں صرف تاریخی روایات کو جمع کرنے کے لیے لکھی ہیں۔۔۔

٭ اب جس طرح محدثین کرام سند بیان کر کے یا اس کی طرف اشارہ کر کے بری ہو گئے، اسی طرح مؤرخین بھی سند بیان کر کے یا اس طرف اشارہ کر کے اس سے بری ہو گئے، جیسا کہ امام طبری رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ کے مقدمے میں وضاحت کر دی ہے۔۔۔

٭  اگر کوئی مسند احمد، دیگر مسانید، معاجم طبرانی یا دیگر معاجم سے کوئی جھوٹی حدیث نکال کر اسے دین بنا لے اور ٹوکنے پر کہے کہ اس چیز کے ذمہ دار امام احمد بن حنبل اور امام طبرانی وغیرہ ہیں، انہوں نے کیوں بیان کی؟

یا صحیح بخاری کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ کی کسی اور کتاب سے کوئی ضعیف، منکر یا من گھڑت روایت لے کر یہی کہے تو ایسےشخص کو کوئی عالم یا دانش ور تو کجا، نارمل انسان بھی نہیں سمجھے گا، کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صرف صحیح بخاری میں تمام صحیح روایات جمع کرنے کی شرط لگائی تھی، اپنی ساری کتابوں میں نہیں،اسی طرح صرف صحیح بخاری میں درج تمام احادیث کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ کا عقیدہ وعمل تھا، نہ کہ باقی ساری کتابوں کی ساری روایات کے مطابق!

بعینہ اسی طرح مؤرخین کے طرز عمل کو سمجھ لینا چاہیے۔

اب ہوا یہ کہ امام طبری رحمہ اللہ وغیرہ مؤرخین نے جھوٹی روایات کے ساتھ بیان کرنے والے ابو مخنف، کلبی، واقدی جیسےدشمنان صحابہ اور جھوٹے راویوں کا حوالہ دیا ہوا تھا، مودودی صاحب نے ان سب جھوٹوں کا نام چھپایا اور ان روایات کو سچ بنا کر پیش کر دیا اور انہی جھوٹوں کے مطابق اپنا بھی عقیدہ بنایا اور لوگوں کو بھی اس کی دعوت دی۔۔۔

یہ ہے فرق، امید ہے کہ منصف مزاج احباب کی سمجھ میں بخوبی آ گیا ہو گا؟

اپنے تاثرات سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔۔۔

یہ مضمون، مؤرخین نے جھوٹی روایات کیوں بیان کیں؟،  حافظ ابو یحیی نورپوری حفظہ اللہ کے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔

 

عہد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ: مودودی صاحب کی خلافت وملوکیت کا تحقیقی جائزہ  – پارٹ:1

عہد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ: مودودی صاحب کی خلافت وملوکیت کا تحقیقی جائزہ  – پارٹ:2

Related Posts
Leave a reply