روایت کل ایام التشريق ذبح (چار دن قربانی کی روایت) کی تحقیق – حافظ محمد طاھر سلفی حفظہ اللہ

روایت کل ایام التشريق ذبح (چار دن قربانی کی روایت) کی تحقیق – حافظ محمد طاھر سلفی حفظہ اللہ

 

قربانی کے تین دن با سند صحیح ثابت ہیں۔ جبکہ بعض اہل علم چار دن قربانی کے قائل ہیں۔ اور وہ اپنی دلیل میں ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں“ (قربانی کا پہلا دن ۱۰ ذوالحجہ کو ہوتا ہے، جبکہ اس کے بعد تین دنون کو ایامِ تشریق کہتے ہیں) لیکن یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے۔ اس روایت کی سندوں کی تحقیق ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

اس روایت کی تحقیق اور تین قربانی کے دلائل کیلئے محدث العصر زبیر علی زئی رحمه اللہ کی تحریر پی ڈی ایف میں ڈاؤنلوڈ کریں

 کل ایام التشريق ذبح 

”تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں“

‘” کل أیام التشریق ذبح “یہ روایت سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مرفوعا کئی ایک طرق سے مروی ہے۔

پہلی سند :
سُوَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ …….
(السنن الکبرٰی للبیہقي : 5/392 ، السنن للدارقطنی :5/511ح : 4756، المعجم الکبیر : 2/138، مسند البزار : 8/363ح : 3443)

یہ سند سوید بن عبدا لعزیز کی وجہ سے ”ضعیف“ہے۔
٭ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَهذَا غَیْرُ قَوِیٍّ؛ لِأَنَّ رَاوِیَه سُوَیْدٌ .
یہ سند بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کا راوی ”سوید“ ہے۔ (حوالہ سابقہ )
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
سُوَیْد بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَهوَ ضَعِیفٌ .
”سوید بن عبدالعزیز ضعیف راوی ہے۔“ (تلخیص الحبیر : 3/128، تقریب التہذیب : 2692)
 ٭ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وقد أَجمعوا علی ضعفه .
اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ (مجمع الزوائد : 1/141)
دوسری جگہ فرماتے ہیں :
ضَعَّفَه جُمْہُوْرُ الْـأَئِمَة .
”اسے اکثر آئمہ نے ضعیف کہا ہے۔“ (مجمع الزوائد : 4/160)
٭ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
سُوَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ضَعِیفٌ .
”سوید بن عبد العزیز ضعیف ہے۔“ (إتحاف الخیرۃ المہرۃ : 6/335)

دوسری سند :
سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ………………… (مسند أحمد : 4/82 ح : 1651، السنن الکبرٰی للبیہقي : 5/392)

یہ سند”منقطع“ہے کیونکہ سلیمان بن موسی کی جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں۔
 ٭ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے”مرسل“(منقطع ) قرار دیا ہے۔(حوالہ سابقہ )
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
سُلَیْمَانُ لَمْ یُدْرِکْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْه وَسَلَّمَ .
”سلیمان نے کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا۔“(العلل الکبیر للترمذي : 176)
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أَخْرَجَه أَحْمَدُ لٰکِنْ فِیْ سَنَدِہِ انْقِطَاعٌ .
”اسے امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند ”منقطع“ہے۔“ (فتح الباری : 10/8)
٭ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ مِنْ طُرُقٍ قَالَ وَهوَ مُرْسَلٌ لِأَنَّه مِنْ رِوَایَة سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الْـأَسَدِیِّ فَقِیه أَہْلِ الشَّامِ عَنْ جُبَیْرٍ وَلَمْ یُدْرِکْه وَرَوَاہُ مِنْ طُرُقٍ ضَعِیْفَۃٍ مُتَّصِلًا .
”اسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے کئی اسناد سے روایت کیا اور فرمایا : یہ مرسل(منقطع)ہے۔کیونکہ یہ شامی فقیہ سلیمان بن موسی الاسدی کی سیدنا جبیر رضی اللہ سے روایت ہے ، اس نے ان کا زمانہ نہیں پایا ۔ اور (امام بیہقی نے)اسے کچھ متصل ضعیف اسناد سے بھی روایت کیا ہے۔“ (المجموع شرح المہذ ب : 8/387)
٭ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رُوِیَ مِنْ حَدِیثِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَفِیه انْقِطَاعٌ.
”یہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ کی روایت ہے جس میں انقطاع ہے۔“ (زاد المعاد : 2/291)
٭ محدث البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أنه منقطع بین سلیمان بن موسی وجبیر بن مطعم .
”یہ سند سلیمان بن موسی اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔“  (السلسلۃ الصحیحۃ : 5/617)

تيسری سند:
سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ (ص:364) مُطْعِمٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال َ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم ………………..  (صحیح ابن حبان : 3854، مسند البزار : 8/363،الکامل لابن عدی : 4/260، السنن الصغرٰی للبیہقي : 1832)

یہ روایت دو وجوہ کی بنا پر ضعیف ہے ۔
۱: ” عبد الرحمن بن ابی سعید “ مجہول ہے۔اس کی ابن حبان رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے توثیق نہیں کی ۔
محدث البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إن عبد الرحمن بن أبی حسین هذا، لم أعرفه، لکن ابن حبان ذکرہ علی قاعدتہ فی الثقات .
”اس عبدالرحمن بن ابی حسین کومیں نہیں جانتا ، لیکن ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے اپنے خاص اصول کے تحت الثقات میں ذکر کیا ہے۔“ (سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 5/618)

اس کے برعکس بعض محققین لکھتے ہیں : ”یہ کہنا غلط ہے کہ اس کی توثیق ابن حبان کے علاوہ کسی اور سے ثابت نہیں کیونکہ ابن حبان کے علاوہ بھی کئی ایک محدثین سے اس کی توثیق ثابت ہے۔“

پھر دوسری توثیق کے نام سے سُرخی لگا کر لکھتے ہیں :
” امام ابن الملقن رحمہ اللہ (المتوفی : 804)نے اپنی کتاب تحفۃ المحتاج میں یہ روایت درج کی ہے۔۔۔۔ اور اس کتاب کے مقدمہ میں آپ فرماتے ہیں : اس کتا ب میں میری شرط یہ ہے کہ میں اس میں صرف صحیح یا حسن حدیث ہی ذکر کروں گا۔۔۔۔“
اس سلسلے میں اولاً : عرض ہے کہ ابن الملقن نویں صدی ہجری کے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ کسی راوی کی توثیق و تضعیف کے حوالے سے متقدمین کے محتاج ہیں،لہذا ان کی توثیق کو بطور ِتائید تو پیش کیا جاسکتا، لیکن بطورِ دلیل نہیں ۔
ثانیا ً :عرض یہ ہے کہ حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ نے صحیح یا حسن روایت کی جو شرط عائد کی ہے اس میں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ ان کے نزدیک صحیح یا حسن کی تعریف کیاہے ؟؟؟ مجاہیل کی توثیق کے لئے ابن الملقن رحمہ اللہصرف امام ابن حبان رحمہ اللہ کی (غیر تفصیلی)توثیق کو ہی کافی خیال کرتے ہیں اور اسی پر اعتماد کرتے ہیں :
اس کی بہت سی مثالیں ان کی کتب میں موجود ہیں مثلا:
١:  فرماتے ہیں :
قلت : شماس بن لبید لیس مجہولـاً ؛ لـأن ابن حبان ذکرہ فی ثقاته.
”شماس بن لبید مجہول نہیں کیونکہ ابن حبان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔“ (التوضیح الرشید لشرح الجامع الصحیح : 27/75)
٢:  اسی طرح فرماتے ہیں :
عبد الرَّحْمَن بن میسرَۃ لَیْسَ بِمَجْہُول ؛ بل هوَ مَعْرُوف ثِقَة، ذکرہ أَبُو حَاتِم بن حبَان فِی ثقاته.
”عبد الرحمن بن میسرہ مجہول نہیں بلکہ معروف و ثقہ ہیں ، انہیں ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔“ (البدر المنیر : 2/209)
٣: ایک جگہ فرماتے ہیں :
بشر بن ثابت بصری بزار ثقة، ذکرہ ابن حبان فی ثقاته . وقال أبو حاتم : مجہول .
”بشربن ثابت بصری بزار ثقہ ہے ،(کیونکہ) ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے، (البتہ ) ابوحاتم نے کہا : مجہول ہے۔“ (التوضیح لشرح الجامع الصحیح : 7/486)
ثالثا ً : عرض ہے کہ حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ کی جس کتا ب سے یہ توثیق ثابت کرنے کی سعی لاحاصل ہے اسی کتاب میں ابن الملقن رحمہ اللہ نے کتنے ہی مجہولین کی روایات صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ کی تصحیح کی بنیاد پر نقل کر رکھی ہیں، اور زیر بحث روایت بھی اسی قبیل سے ہے۔چند مثالیں پیش ِ خدمت ہیں :
١:  حافظ الملقن نے امام بن حبان کی تصحیح پر اعتماد کر کے ایک روایت کو نقل کیا (تحفۃ المحتاج : 39) جبکہ اس میں ایک مجہول راوی ”حصین الحمیری“ موجود ہے ۔اور اسے حافظ ابن حجر و ذہبی رحمہمااللہ نے مجہول قرار دیا ہے۔
٢: اسی طرح سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کوصرف ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق کی وجہ سے نقل کیا ، جبکہ اس میں مجہول راوی موجودہے۔ (تحفۃ المحتاج : 993)
٣:  عتاب بن حنین کی روایت کو صرف ابن حبان رحمہ اللہ کی تصحیح کی وجہ سے نقل کیا۔ (تحفۃ المنہاج : 743)
٤:  ایک سخت ضعیف روایت کے متعلق ابن حبان رحمہ اللہ کو وہم ہوا (الفروسیۃ لابن القیم : 288، ارواء الغلیل : 5/335) لیکن چونکہ انہوں نے اسے اپنی صحیح(4689) میں نقل کیا تھا تو اسی بنیاد پر ابن الملقن رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کر دیا ۔(تحفۃ المحتاج : 1736)
٥: امام ابن حبان رحمہ اللہ نے وہم کی بنا پر ایک مرسل روایت کو نقل کیا (ابن حبان : 4293، الضعیفہ للالبانی : 9/430) تو ابن القطان رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کر دیا ۔(تحفۃ المحتاج : 1532)
معلوم ہوا کہ حافظ ابن المقلن رحمہ اللہ نے تحفۃ المنہاج میں کئی ایک احادیث صرف ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے ذکر کی ہیں اور زیر بحث حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے چونکہ اپنی صحیح میں روایت کیا ہے لہذا اسی کی بنیاد پر حافظ ابن المقلن نے اسے ذکر کر دیا۔

فاضل محقق لکھتے ہیں :
”امام ابن حزم الاندلسی (المتوفی : 456)رحمہ اللہ نے المحلی میں اس راوی کی اس حدیث سے حجت پکڑی ہے۔۔۔۔۔معلوم ہوا کہ امام ابن حزم کے نزدیک بھی ”عبد الرحمن بن ابی حسین “ثقہ ہیں۔“
عرض ہے کہ ابن حزم رحمہ اللہ جس راوی سے حجت پکڑیں وہ ان کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے یہ قاعدہ یا تو ابن حزم کی طرف سے اغلبیت پر محمول ہے یا وہ خود بھی اپنے اس اصول کا التزام نہیں کر سکے۔اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
مثلا :
ناحیة بن کعب کے متعلق فرماتے ہیں :
ناجية بن کعب مجہول . (المحلی :1/472)
پھر اسی راوی کی بیان کردہ روایت کو صحیح قرار دیا ۔ (المحلی : 3/338)
اسی طرح عمارہ بن خزیمہ کے متعلق فرمایا :
عمارۃ بن خزیمة وهو مجہول . (المحلی : 7/229 ، تہذیب التہذیب : 7/416)
پھر دوسری جگہ خود ہی ان کی ایک روایت کو قابل حجت و صحیح قرار دیا۔ (المحلی : 9/221)
ایک جگہ فرماتے ہیں :
أحمد بن خالد الوہبی و هو مجہول .
پھر اسی راوی کی ایک حدیث سے حجت پکڑی ہے ۔ (حجۃ الوداع : 4)
معلوم ہوا کہ ابن حزم کا حجۃ الوداع کے حوالے سے بھی یہ اغلبی قاعدہ ہے ۔

فاضل محقق نے یہ دلیل پیش فرمائی کہ : حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ایک راوی کی توثیق یہ کہہ کر ثابت کی ہے اس کی روایت کو ابن حزم نے صحیح کہا ہے۔(میزان الاعتدال : ٤/٥٥٨)

عرض ہے کہ دعوی تویہ تھا کہ ابن حزم جس راوی سے حجت پکڑیں گے وہ اس کی توثیق شمار ہو گی لیکن دلیل اس راوی کی دی جارہی ہے جس کی حدیث کو حافظ ابن حزم نے صراحتا صحیح کہا۔
لہذا سوال یہ ہے کہ کسی راوی کی روایت کو صراحتا صحیح کہنے اور اس کی روایت سے صرف حجت پکڑنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا؟؟؟
نیز امام ابن حزم خود یوم النحر سے لے کر آخر ذو الحجہ تک قربانی کے قائل ہیں۔ (المحلی : 6/39)
بلکہ قربانی کے ایام کے متعلق فرماتے ہیں :
وَلَا نَصَّ فِی ذَلِکَ وَلَا إجْمَاعَ ِ.
ایام ِ ذبح کو مخصوص کرنے پر نہ تو کوئی نص ہے اور نہ ہی اجماع۔ (المحلی : 6/42)
لہذا معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا حدیث امام ابن حزم کے نزدیک بھی ناقابل حجت ہے۔

۲: اس سند میں دوسری علت یہ ہے کہ یہ منقطع ہے۔
امام بزار رحمہ اللہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وَابْنُ أَبِی حُسَیْنٍ لَمْ یَلْقَ جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ .
”ابن ابی حسین کی جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں۔“

انوکھا اعتراض : بعض محققین نہ جانے کیوں بسا اوقات صحیح اور واضح دلالت کو چھوڑ کر کہیں دور کا کوئی سرا پکڑ کر اپنی بات کو ثابت کرنے کی سعی نامراد فرماتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں : ” امام بزار وہم کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کے ذہن میں بھی اصل بات یہی تھی کہ ابن ابی حسین یعنی ”عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی حسین” کا سماع جبیر بن مطعم سے ثابت نہیں ہے لیکن اپنی سند میں نام کی صراحت پر دھیان نہ دے ۔۔۔۔”

عرض ہے کہ امام بزار رحمہ اللہ کو صرف اپنے ظن و تخمینہ کی بنیاد پر وہم کا شکار کہہ دیا گیا جبکہ تفصیل یہ ہے کہ امام بزار رحمہ اللہ نے سند میں بھی صراحتا ً عبدالرحمن بن ابی حسین کا نام لیا۔ پھر آخر میں فرمایا :​
وَهَذَا الْحَدِیثُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِیه عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیه إِلَّا سُوَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ، وھو رَجُلٌ لَیْسَ بِالْحَافِظِ وَلَا یُحْتَجُّ بِهِ إِذَا انْفَرَدَ بِحَدِیثٍ، وَحَدِیثُ ابْنِ أَبِی حُسَیْنٍ ھَذَا هُو الصَّوَابُ .

”اس حدیث میں ہمارے علم کے مطابق صرف سوید بن عبدالعزیز کے علاوہ کسی نے بھی نافع بن جبیرعن ابیہ نہیں کہا اور وہ(سوید ) حافظ نہیں ،اس کی منفرد روایت قابل قبول نہیں ، اورابن ابی حسین کی حدیث ہی درست ہے۔“  اب امام البزار رحمہ اللہ نے جب یہاں ابن ابی حسین کہا تو ان کی مراد عبد الرحمن تھا ، لیکن صرف چار لفظ کے بعد وہم ہو گیا اور ان کاذہن میں عبدا للہ آگیا اور فرمایا:
وَابْنُ أَبِی حُسَیْنٍ لَمْ یَلْقَ جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ .
”اور ابن ابی حسین نے جبیر بن مطعم کو نہیں پایا ۔“(مسند البزار : 8/363)
اب کوئی پوچھے کہ امام بزار رحمہ اللہ نے ایک ہی جگہ تین دفعہ ابن ابی حسین کا ذکر فرمایا، ایک دفعہ سند میں اوردو دفعہ حدیث کے بعد ، لیکن پہلی دو دفعہ تو وہم نہ ہو لیکن جیسے ہی تیسری دفعہ نام آیا تو وہم ہوگیا اور ذہن میں کسی اور کا نام آگیا۔فیا للعجب
نیز حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کو امام بزار کی جرح کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن انہوں نے کسی وہم کا دعوی نہیں کیا ۔ (جامع المسانید و السنن : 2/112)
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کے متعلق فرمایا :​
لَکِنَّ الْحَدِیثَ مُنْقَطِعٌ لَا یَثْبُتُ وَصْلُه.”لیکن یہ حدیث منقطع ہے، متصل ثابت ہی نہیں ۔“  (زاد المعاد : 2/290)
اب رہا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا امام بزار رحمہ اللہ کے قول میں عبد اللہ کا اضافہ فرمانا ، تو عرض ہے کہ یہاں پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو وہم ہو ا اور یہی بات زیادہ قوی ہے۔ تفصیل یوں ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جانتے تھے کہ سند میں عبد الرحمن بن ابی حسین ہے ، جیسا کہ انہوں نے اسے (إتحاف المہرۃ : 4/24) میں بھی اسی سند سے نقل کیا ہے اب اگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک امام بزارکے قول میں عبدا للہ بن عبد الرحمن مراد ہوتے تو عبد الرحمن بن ابی حسین کی سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ان کے نزدیک متصل ہوتی نہ کہ منقطع ، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بزار کے قول پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اس روایت کو منقطع ہی شمار کیاہے۔
(تلخیص الحبیر : 2/550، الدرایۃ : 2/215)
جس سے معلوم ہوتاہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک ابن ابی حسین سے وہی مراد ہے جو اس سند میں مذکورہیں، اور یہ روایت منقطع ہی ہے۔

چوتھی سند:
أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی الْخَشَّابُ ، نا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَةَ ، نا أَبُو مُعَیْدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ حَدَّثَه ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ….. (السنن للدارقطني : 5/512ح : 4758، السنن الکبرٰ ی للبیہقي : 9/498)
یہ سند سخت” ضعیف ”ہے ۔
”احمد بن عیسی الخشاب سخت ضعیف ہے۔“
(لسان المیزان : 1/240، 241 ت : 755، المغنی فی الضعفاء : 392، میزان الإعتدال : 1/126ت : 508)

حاصلِ کلام : یہ روایت اپنی جمیع اسناد کے ساتھ ضعیف ہے.⁠⁠⁠⁠​

یہ تحقیق حافظ محمد طاھرسلفی حفظہ اللہ (تلمیذ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ) کی فیس بک پوسٹ سے لی گئی ہے۔
Zaeef Hadith

عوام اور خواص میں بدعات، باطل عقائد اور نظریات پھیلانے کا سبب بننے والی مشھور ضعیف، موضوع (من گھڑت)، بے سند اور بے اصل روایات، واقعات اور اقوال سے باخبر رکھنے کیلئے سب بہترین ویب سائیٹ۔

ہمارا فیس بک پیج ضرور لائیک کریں۔

جزکم اللہ خیراً

Related Posts
Leave a reply