علم کا شہر،اس کی بنیاد،دیواریں، چھت اور دروازہ

علم کا شہر،اس کی بنیاد،دیواریں، چھت اور دروازہ

علم کا شہر،اس کی دیواریں اور دروازہ

 
 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أنامدینةالعلم، وأبوبکر و عمر و عثمان سورھا، وعلي بابھا، فمن أراد العلم، فلیأت الباب

” میں علم کا شہر ہوں، ابوبکر، عمر اور عثمان اس کی دیواریں ہیں، علی اس کا دروازہ ہیں۔ اب جو علم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ دروازے سے آئے۔ “

(تاریخ دمشق لابن عساکر: ۳۲۱/۴۵، اللّآلي المصنوعة للسیوطی: ۳۰۸، ۳۰۷/۱)

موضوع(من گھڑت):  یہ باطل (جھوٹی) روایت ہے، کیونکہ:

۱: اس کا راوی حسن بن تمیم بن تمام مجہول ہے، نیز اس کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع بھی مطلوب ہے۔

۲:دوسرے راوی ابو القاسم عمر بن محمد بن حسین کرخی کی بھی توثیق درکار ہے۔

٭اس روایت کے بارے میں حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "منکر جدا إسنادا ومتنا”
اس روایت کی سند اور متن دونوں سخت منکر ہیں۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: ۳۲۱/۴۵)
 

علم کا شہر،اس کی بنیاد،دیواریں، چھت اور دروازہ

نبی اکرم ﷺ کی طرف یہ روایت بھی منسوب ہے :

أنا مدینة العلم، وأبوبکر أساسھا، وعمر حیطانھا، وعثمان سقفھا، وعلي بابھا 

” میں علم کا شہر ہوں، ابوبکر اس کی بنیاد ، عمر اس کی چاردیواری، عثمان اس کی چھت اور علی اس کا دروازہ ہیں۔“

(تاریخ دمشق لابن عساکر: ۲۰/۹)

موضوع(من گھڑت): یہ روایت سفید جھوٹ ہے۔ اس کو گھڑنے والا "اسماعیل بن علی بن مثنی استرا بادی” ہے۔

نوٹ: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں اور اسی طرح کی دوسری روایات کے بارے میں محدثین کرام اور ائمہ دین کی رائے پڑھنے کیلئے اس لنک کو ملاحظہ فرمائیں: انا مدینۃ العلم و علی بابھا کے بارے میں ائمہ دین کی رائے

Related Posts
Leave a reply