ایک جھوٹی روایت: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے پر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی

ایک جھوٹی روایت: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے پر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی

 

جناب رسالت مآبﷺ کی دو صاحبزادیوں اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی دو سگی خالاؤں سیدہ ام کلثوم اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما کے شوہر نامدار سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ کے فضائل میں اتنی صحیح احادیث وارد ہیں کہ کسی موضوع یا غیر ثابت روایت کو بیان کرنے کی قطعََا کوئی گنجائش ہے نہ ضرورت۔ عمومَا ایک روایت بیان کی جاتی ہے جس سے حال کی ایک جماعت کے تقریبا ننانوے فیصد خطباء استدلال کرتے ہیں کہ جناب رسالت مآبﷺکے سامنے ایک جنازہ لایا گیا لیکن آپ علیہ الصلاة و السلام نے جنازہ کی نماز ادا نہیں فرمائی۔ وجہ پوچھنے پر بتایا کہ یہ شخص عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا اس لیے اللہ کے ہاں یہ مبغوض ہے۔  اس روایت کی حقیقت جانئے: 

 

” نبی ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز پڑھیں ، آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی ، آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ(ﷺ)! ہم نے نہیں دیکھا کہ آپ نے اس سے پہلے کسی کی نماز جنازہ ترک کی ہو؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا: یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا ، اس لیے اللہ نے اس سے بغض رکھا۔“

(سنن ترمذی: ۳۷۰۹)

 

موضوع (من گھڑت): اس روایت کی سند درج ذیل ہے: ”عثمان بن زفر: حدثنا محمد بن زياد عن محمد بن عجلان عن أبی الزبير عن جابر۔۔۔۔ “

٭ یہ روایت بیان کرنے کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس پر جرح بھی کردی ہے: ”یہ غریب روایت ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ محمد بن زیاد میمون بن مہران کا شاگرد ہے ، حدیث میں سخت ضعیف ہے۔“ 

٭ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع کہا ہے۔ (السللة الضعیفة : ۱۹۶۷ ، ضعیف الجامع الصغیر : ۲۰۷۳ ، ضعیف ترمذی: ۴۹۷/۱)

۱: اس روایت کا راوی محمد بن زیاد کذاب اور وضاع(حدیثیں گھڑنے والا) ہے۔

محمد بن زیاد (الیشکری الطحان الاعوار الکوفی المیمونی) محدثین کی نظر میں:

اس روایت کےراوی محمد بن زیاد الاعور کے بارے میں محدثین کرام کی گواہیاں درج ذیل ہیں:

٭امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کذاب خبیث کانا ، وہ حدیث گھڑتا تھا۔“ (العلل و معرفۃ الرجال:۲۹۸/۳ فقرہ : ۵۳۲۲)

٭عمرو بن علی الفلاس الصیرفی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کان کذاباً ، متروک الحدیث“ (الجرح و التعدیل: ۲۵۸/۷ و سندہ صحیح )
نیز فرمایا: ”متروک الحدیث کذاب منکر الحدیث ہے، میں نے اسے میمون بن مہران عن ابن عباس کی سند سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی عورتوں کی مجلسوں کو عاشقانہ غزلوں کے ساتھ مزین کرو۔“ (تاریخ بغداد : ۲۸۰/۵ و سندہ صحیح)

٭ ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ جھوٹ بولتا تھا۔“ (کتاب الضعفاء لابی زرعۃ الرازي : ج ۲ ص ۴۴۷)

٭ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”و کان کذاباً خبیثاً ۔“ (تاریخ ابن معین ، روایۃ الدوری : ۴۹۴۰)
اور فرمایا:”وہ کوئی چیز نہیں ، کذاب ہے۔ الخ“ (سوالات ابن الجنید: 484)
اور فرمایا: ”بغداد میں کچھ لوگ حدیثیں گھڑتے تھے ، ان میں سے محمد بن زیاد بھی ہے جو حدیث گھڑتا تھا۔“ (تاریخ بغداد: ۲۷۹/۵ ت ۲۷۷۸ و سند حسن)

٭ دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ جھوٹ بولتا تھا۔“ (الضعفاء و المترکون : ۴۶۶)

٭: ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ حدیثیں گھڑ کر ثقہ راویوں سے منسوب کردیتا تھا۔“ (کتاب المجروحین: ۲۵۰/۲۰ ، دوسرا نسخہ: ۲۵۹/۲)

٭ حاکم نیشا پوری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ میمون بن مہران وغیرہ سے موضوع روایتیں بیان کرتا تھا ۔“ (المدخل الی الصحیح: ص ۱۹۴ ت ۱۷۰)

٭ ابو نعیم الصبہانی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میمون بن مہران وغیرہ سے موضوع روایتیں بیان کرتا تھا ۔“ (کتاب الضعفاء: ۲۰۹)

٭ ابن شاہین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کان کذاباً خبیثاً۔“ (تاریخ اسماء الضعفاء و الکزابین لابن شاہین : ۵۶۴)

٭امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ”متروک الحدیث “ کہا اور ثقہ ثبت محدث عمرو بن زارہ بن واقد الکلابی النیسابوری رحمہ اللہ سے نقل کیا : ”کان محمد بن زیاد یتھم بوضع الحدیث۔“ (کتاب الضعفاء للبخاری بتحقیقی : ۳۲۷)

٭امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”متروک الحدیث“ کہا۔ (کتاب الضعفاء و المتروکین للنسائی : ۵۴۷)

٭ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”متروک الحدیث“ کہا۔ (الجرح والتعدیل: ۲۵۸/۷)

٭ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کان کذاباً۔۔ إلخ“ (احوال الرجال للجوزجانی : ۳۶۳)

٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ایک روایت کے بارے میں فرمایا: ”یہ طحان (محمد بن زیاد)کی گھڑی ہوئی روایتوں میں سے ہے۔“ (تلخیص المستدرک: ۴۴۱/۴ ح ۸۲۶۴)

سیدنا و مولانا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بے شمار صحیح احادیث موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے ضعیف اور من گھڑت روایات کی کوئی ضرورت نہیں، ایسی روایات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شان بیان کرنے کے بجائے گناہ کا مستحق ٹھرانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

ایسے کذاب راوی کی روایت کو بیان کرنا ان کا ہی کام ہے جن کی کتابیں جھوٹی اور من گھڑت روایات سے بھری ہوئی ہوں۔

Related Posts
Leave a reply