کیا سورۂ یٰس قرآن کا دل ہے؟

کیا سورۂ یٰس قرآن کا دل ہے؟

اس میں توکوئی شک وشبہ نہیں کہ سورۂ یٰس قرآن کی  ایک عظیم سورۃہے جس میں بہت ہی مؤثر قسم کے قصص اور اثربالغ رکھنے والی عبرتیں پائیں جاتی ہیں، سورۂ یٰس قرآن میں آخرت کی دعوت جس موثر انداز میں دی گئی ہے، اس کے باعث اسے سمجھ کر بار بار پڑھنا چاہیے۔ اس سے واقعی دل پر بڑا اثر ہوتا ہے لیکن سورۂ یٰس کی فضیلت میں اسے قرآن مجید کا دل کہنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے ۔

سورۂ یٰس قرآن کا دل

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ

ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یسین ہے۔ جو اسے ایک مرتبہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا اجر لکھتا ہے

(جامع ترمذی: ۲۸۸۷)

ضعیف: امام ترمذی اس روایت  کو بیان کرنے کے بعد اس کے راوی ہارون ابو محمد کے  بارے  میں  فرماتے ہیں کہ:”وهارون أبومحمد شيخ مجهول‏“

لہٰذا یہ روایت ہارون مذکور کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔

٭  محدث البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ (السلسلۃ الضعیفۃ:ج۱ص۲۰۲ح۱۶۹)

٭ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دے کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس حدیث کا راوی: مقاتل بن سلیمان ”کذاب“ہے۔ (علل الحدیث ج۲ ص۵۶، ۵۵ح۱۶۵۲)

٭ جبکہ سنن ترمذی و سنن دارمی (ج۲ص۴۵۶ح۳۴۱۹) تاریخ بغداد (ج۴ص۱۶۷) میں مقاتل بن حیان (صدوق) ہے۔ واللہ اعلم

Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .