انگوٹھے چومنا: اذان میں أشھد أن محمدا رسول اللہ سننے پر انگوٹھے چومنا ثابت نہیں

انگوٹھے چومنا: اذان میں أشھد أن محمدا رسول اللہ سننے پر انگوٹھے چومنا ثابت نہیں

اذان میں أشھد أنّ محمّدا رسول اللہ سننے پر انگوٹھے چومنا

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق مسند الفردوس از دیلمی میں روایت ہے:

أنّه لمّا سمع قول المؤذّن: أشھد أنّ محمّدا رسول اللہ، قال ھذا، وقبّل باطن الأنملتین السبّابتین، ومسح عینیه، فقال صلّی اللہ علیہ وسلّم: من فعل مثل مافعل خلیلی، فقد حلّت علیہ شفاعتی

”جب آپ رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو أشھد أنّ محمّدا رسول اللہ کہتے سنا تو یہی الفاظ کہے اور دونوں انگشتِ شہادت کے پورے جانبِ زیریں سے چوم کر آنکھوں سے لگائے۔ اس پر نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا، جو ایسا کرے، جیسا کہ میرے پیارے  نے کیا ہے، اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوجائے۔“

(المقاصد الحسنة للسخاوي: ص 384)

حدیث موضوع( من گھڑت حدیث): یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے مردود وباطل ہے۔

٭ اس کے ”صحیح“ ہونے کے مدعی پر سند پیش کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ساتھ راویوں کی توثیق اور اتصالِ سند بھی ضروری ہے۔ یہ بدعتیوں کی شان ہے کہ وہ سندوں سے گریزاں ہیں۔

٭ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ: لا یصح ”یہ روایت صحیح نہیں ہے۔“

بعض بدعتی کہتے ہیں کہ لا یصح  ”یہ روایت صحیح نہیں ہے۔“ سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ ”حسن“ بھی  نہیں ہے، یہ ان کے اپنے منہ کی بات ہے، ہمیں اس روایت کی سند درکار ہے، جسے پیش کرنے سے بدعتی لوگ قاصر رہتے ہیں۔

تنبیہ: احمد یار خان نعیمی بریلوی لکھتے ہیں:

”اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، پھر بھی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف معتبر ہوتی ہے۔“ (جاء الحق: ۴۰۱/۱)

ہمارا مطالبہ  سند کا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کا تعلق فضائل اعمال سے نہیں، بلکہ شرعی احکام سے ہے کہ اذان میں نبیٔ اکرم ﷺ کا نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنا چاہئیں یا نہیں، فضائل کی بات تو بعد میں ہے۔

٭ احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں: ”ضعیف حدیثیں جہاں(فضائل میں) قبول کی جاتیں ہیں وہاں ان کو قبول کرنے میں یہ راز ہے کہ وہاں ضعیف حدیثیں کسی غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرتیں جیسا کہ ہم اپنے رسالہ ”الھاد الکاف فی حکم الضعاف“ میں اس کی تحقیق کردی ہے۔۔۔۔۔“ (فتاویٰ رضویہ: ج۲۹ص۷۲۶-۷۲۷)

قارئین کرام خوب یاد رکھیں کہ دین صحیح روایات کا نام ہے، فضائل کا تعلق بھی دین سے ہے۔ ضعیف روایات دین نہیں ہوسکتیں ہیں۔

٭ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

ولا فرق فی العمل بالحدیث فی الأحکام أو فی الفضائل، أذا لکلّ شرع 

”احکام یا فضائل میں حدیث پر عمل کرنے میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں (فضائل اور احکام) شریعت ہی تو ہیں۔“

(تبیین العجب بما ورد فی شھر رجب لابن حجر: ص 2)

بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ”ائمہ فقہاء بھی اذان میں حضور نبی اکرم ﷺکا اسم مبارک سن کر انگوٹھے چومنا مستحب قرار دیتے ہیں“

یہ صرف پروپیگنڈا ہے کہ ان حضرات کا فتویٰ ”انگوٹھے چومنے کے جواز “کا ہے، جب کہ حقیقت اِس کے برخلاف ہے۔

 

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .