حرز ابو دجانہ، جنات کے نام رسول اللہ کا خط، تہدیدی نامہ مبارک، موضوع احادیث، ضعیف احادیث

نبی کریم ﷺ کا جنات کے نام خط – حرز ابو دجانہ کی حقیقت

حرز ابو دجانہ کے حوالے سے جنات کے شر سے حفاظت کے لئے ”عامل حضرات“ کے ہاں تکلیف دہندہ جنات کے نام رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کاایک خط رائج ہے جو کہ تہدیدی نامہ مبارک کے نام سے مشہور ومعروف ہے، بعض اہل علم بھی روایت کی اسنادی حیثیت  سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جنات کے نام اس طرح کا کوئی نامہ مبارک ثابت نہیں۔

اس روایت کو بنیاد بنا کر ہمارے معاشرے میں اس خط کی  تعویذ کو گھروں میں لٹکانے، تکیے کے نیچے رکھنے اور گردنوں میں لٹکانے جیسے اعمال عام ہیں۔ آئیے اس روایت کی تحقیق دیکھتے ہیں جس کی بنیاد پر یہ سب کام کیا جاتا ہے کہ آیا:

حرز ابو دجانہ – نبی کریم ﷺ کا جنات کے نام خط

ایک مرتبہ حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ!

” میں اپنے بستر پر سوتاہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آوا زجیسی آواز سنتاہوں اورشہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ جیسی بھنبھناہٹ سنتا ہوں اور بجلی کی چمک جیسی چمک دیکھتاہوں۔پھر جب میں گھبرا کر اور مرعوب ہوکر سراٹھاتاہوں تو مجھے ایک (کالا) سایہ نظر آتاہے جو بلند ہوکر میرے گھر کے صحن میں پھیل جاتاہے ۔پھر میں اس کی طرف مائل ہوتاہوں اوراس کی جلد چھوتا ہوں تو اس کی جلد سیہہ( ایک جانور ہے جس کے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں )کی جلد کی طرح معلوم ہوتی ہے ۔وہ میری طرف آگ کے شعلے پھینکتا ہے میرا گمان ہوتا ہے کہ وہ مجھے بھی جلادے گا اورمیرے گھر کو بھی ۔ “

تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابو دجانہ !تمہارے گھرمیں رہنے والا برا(جن) ہے۔ رب کعبہ کی قسم !اے ابو دجانہ! کیا تم جیسے کو بھی کوئی ایذا دینے والا ہے ؟‘‘ پھر فرمایا:’’ تم میرے پاس دوات اورکاغذ لے آؤ۔‘‘

جب یہ دونوں چیزیں لائی گئیں تو نبی کریم ﷺ نے ان کو حضرتِ سیِّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا اور فرمایا: ’’اے ابوالحسن! جو میں کہتا ہوں لکھو (یعنی  تہدیدی نامہ مبارک) ۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:’’ کیا لکھوں ؟‘‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

حرز ابو دجانہ، تہدیدی نامہ مبارک، موضوع اور من گھڑت روایات

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے اس خط ( تہدیدی نامہ مبارک) کو لیا اورلپیٹ لیا اوراپنے گھر لے گیا اوراپنے سر کے نیچے رکھ کر رات اپنے گھر میں گزاری تو ایک چیخنے والے کی چیخ سے ہی میں بیدار ہوا جو یہ کہہ رہا تھا: ’’ اے ابو دجانہ !لات وعزی کی قسم ان کلمات نے ہمیں جلاڈالا تمہیں تمہارے نبی کا واسطہ اگر تم یہ خط مبارک یہاں سے اٹھا لو تو ہم تیرے گھر میں کبھی نہیں آئیں گے ۔‘‘

اورایک روایت میں ہے کہ: ” ہم نہ تمہیں ایذا دیں گے نہ تمہارے پڑوسیوں کو اورنہ اس جگہ پر جہاں یہ خط مبارک ہوگا۔“

حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے جواب دیا مجھے میرے محبوب رسول اللہ ﷺ کے واسطہ کی قسم میں اس خط کو یہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا جب تک کہ میں رسول اللہﷺ سے اس کی اجازت نہ حاصل کرلوں ۔“

حضرت ابو دجانہ فرماتے ہیں: ” رات بھر جنوں کی چیخ وپکار اور رونا دھونا جاری رہا ۔جب صبح ہوئی تو میں نے نماز فجر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کی اورنبی کریم ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی جو میں نے رات میں جنوں سے سنی تھی اورجو میں نے جنوں کو جواب دیا تھا ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ اے ابو دجانہ !(وہ خط اب تم )جنوں سے اٹھا لو قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بناکر بھیجا وہ جن قیامت تک عذاب کی تکلیف پاتے رہیں گے۔‘‘

(دلائل النبوۃ،کتاب جماع ابواب نزول الوحی…الخ،ج۷،ص۱۱۸)

 

موضوع (من گھڑت): یہ روایت بہشتی زیور، خصائص کبریٰ للسیوطی اور الجامع الصغیر للسیوطی میں بے سند ہے، لیکن حافط ابوبکر البیہقی رحمه اللہ نے اسے درج ذیل سند کے ساتھ روایت کیا ہے:

”أخبرنا أبو سھل محمد بن نصرويه المروزي قال: حدثنا ابو أحمد علي بن محمد بن عبد اللہ الحبيبي المروزي قال: أخبرنا أبو دجانة محمد بن أحمد بن سلمة بن یحیی بن سلمة بن عبد اللہ بن زید بن خالد بن أبي دجانة ۔۔۔ قال: حدثني أبي أحمد بن سلمة قال: حدثنا أبي سلمة بن یحیی قال: ھدثنا أبي یحیی بن سلمة قال: حدثنا أبي سلمة بن عبد اللہ قال: حدثنا أبي عبد اللہ بن زید بن خالد قال: حدثنا أبي زيد بن خالد قال: حدثنا أبي خالد بن أبي دجانة قال: سمعت أبي أبا دجانة ۔۔“

(دلائل النبوة: ۱۱۸/۷ ۔ ۱۱۹، دوسرا نسخہ ۸۸/۷ ح ۳۱۰۸)

*  یہ روایت لکھنے کے بعد حافظ بیہقی نے فرمایا: وقدروي في حرز أبي دجانة حدیث طویل وھو موضوع، لا تحل روایته، واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔۔۔۔
”اور حرز ابو دجانہ کے بارے میں طویل حدیث مروی ہے اور وہ موضوع (من گھڑت، جھوٹی) ہے، اس کی روایت بیان کرنا حلال نہیں اور اللہ تعالیٰ صحیح کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔“

۱: اس روایت کی سند میں علی بن محمد بن عبد اللہ الحبیبی المروزی کذاب ہے۔

*  اس کے شاگرد حاکم نیشا پوری نے فرمایا: کان یکذب ۔۔۔ ”وہ جھوٹ بولتا تھا۔“ (سوالات مسعود بن علی السجزی للحاکم: ۳۰ص۷۴)

*  امام ابو زرعہ احمد بن الحسین الرازی نے فرمایا: ضعیف جدًا ”وہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔“ (سوالات حمزہ بن یوسف السہمی للدارقطنی وغیرہ: ۴۰۷ ص ۲۷۹)

*  امام دارقطنی نے عبد الرحمن بن محمد الحبیبی المروزی اور علی بن محمد الحبیبی المروزی دونوں کے بارے میں فرمایا:

یحدثان بنسخ و أحادیث مناکیر  ”وہ دونوں (منکر) نسخے اور منکر حدیثیں بیان کرتے تھے۔“ (المؤتلف و المختلف: ۹۵۷/۲۔۹۵۸)

*  حافظ ابو یعلیٰ الخلیلی نے فرمایا: ”وہ معرفت اور حفظ والا تھا لیکن اس نے نسخے اور منکر احادیث بیان کیں جن میں اس کی متابعت نہیں کی گئی اور وہ اس کے ساتھ مشہور ہے۔“ (الارشاد في معرفة علماء الحدیث: ۹۰۶/۳ ت۸۳۱)

۲: حبیبی کذاب کے بعد ابو دجانہ محمد بن احمد سے لے کر خالد بن ابی دجانہ تک تمام راوی مجہول العین اور مجہول الحال ہیں۔

*  حافظ بیہقی نے جس حرز ابو دجانہ والی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے، اسے حافظ ابن الجوزی نے کتاب الموضوعات میں درج ذیل سند کے ساتھ روایت کیا ہے:

”أنبأنا إبراھیم بن عمر البرمکي أنبأنا أبو بکر محمد بن عبد اللہ بن خلف بن بخيت: حدثنا أبو یعلیٰ حمزة بن محمد ابن شھاب العکبري: حدثنا أبي: حدثنا إبراھیم بن مھدي الأيلي: حدثني عبد اللہ بن عبد الوھاب أبو محمد الخوارزمي: حدثني محمد بن بکر البصري: حدثنا محمد بن أدھم القرشي عن إبراھیم بن موسى الأنصاري عن أبیه قال: شکا أبو دجانة الأنصاري۔۔۔۔۔“ (۱۶۸/۳، دوسرا نسخہ: ۴۲۶/۳۔۴۲۷ ح ۱۶۶۰)

*  اس روایت کے بارے میں حافظ ابن الجوزی نے فرمایا: ھذا موضوع بلاشک و إسناده منقطع و لیس فی الصحابة من اسمه موسی أصلاً۔ وأکثر رجاله مجاھیل لایعرفون
یہ روایت بلاشک و شبہ موضوع (من گھڑت) ہے، اس کی سند منقطع ہے اور صحابہ کرام میں موسیٰ نام کا کوئی آدمی سرے سے موجود ہی نہیں، اس روایت کے اکثر راوی مجہول نامعلوم ہیں۔“ (الموضوعات: ۱۶۹/۳، دوسرا نسخه: ۴۲۸/۳)

* غالباً اسی روایت کو بیہقی نے موضوع کہا اور حافظ ذہبی نے فرمایا: و حرز أبي دجانة شئ لم یصح، ما أدري من وضعه

”اور حرز ابو دجانہ ایسی چیز ہے جو صحیح نہیں، مجھے معلوم نہیں کہ کس نے اسے گھڑا ہے۔“ (سیر اعلام النبلاء: ۲۴۵/۱)

* نیز حافظ سیوطی جیسے متساہل نے بھی کہا: موضوع۔ (اللآلی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة: ۳۴۸/۲)

۱:  ابن الجوزی والی روایت کی سند میں عبد اللہ بن عبد اللہ الوہاب الخوارزمی کی روایات میں منکر پن ہے۔ (تاریخ اصبہان: ۵۲/۲، لسان المیزان: ۳۱۳/۳)

* اس سند کا دوسرا راوی ابراہیم بن مہدی الایلی ہے، جس کے بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا: کذبوہ ”انھوں (علماء) نے اسے کذاب کہا ہے۔“ (تقریب التہذیب: ۲۵۷)

۲: اس سند کے باقی راوی مجہول ہیں۔

* مزید دیکھیں تحذیر المسلمین من الاحادیث الموضوعہ علی سید المرسلین (ص ۷۳)،  تذکرۃ الموضوعات از علامہ محمد طاہر پٹنی (ص ۲۱۱، ۲۱۲)، موسوعۃ الاحادیث والآثار الضعیفہ والموضوعہ (۵/۳۶۹، ۳۷۰، رقم ۱۲۷۱۶) اور الوضع فی الحدیث (۳/۲۶)

اس روایت کی دونوں سندیں آپ نے دیکھ لی کہ حرز ابو دجانہ کی حدیث موضوع یعنی من گھڑت (جھوٹی) ہے اور ایسی روایات کو بہت سے خطباء اور واعظین عوام الناس میں پھیلا کر جرم عظیم کا ارتکاب بھی کررہے ہیں اور حدیث  کا مصداق بھی بن رہے ہیں جس میں اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:

مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
” جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“

LEAVE YOUR COMMENTS