نبی کریم ﷺ کا سایہ مبارک نہیں تھا

نبی کریم ﷺ کا سایہ مبارک نہیں تھا

ایک روایت میں آتا ہے کہ:

أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم لم یکن یُریٰ له ظلّ فی شمس ولا قمر

”نبی کریم ﷺ کا سایہ نہ سورج کی روشنی میں نظر آتا تھا نہ چاند کی چاندنی میں۔“

(الخصائص الکبریٰ للسّیوطی: 71/1)

 

موضوع (من گھڑت): اس روایت کی سند درج ذیل ہے: ”عبد الرحمٰن بن قیس الزّعفرانیّ عن عبد الملک بن عبد اللہ بن الولید عن ذکوان“، یہ روایت جھوٹ کا پلندہ ہے:

٭ اس کا راوی عبد الرحمٰن بن قیس الزعفرانی ”متروک و کذاب“ ہے۔ (تقریب التہذیب: 3989)

٭ عبد الملک بن عبد اللہ کو ملا علی قاری نے ”مجہول“ کہا ہے۔ (شرح الشفاء: 282/3، طبع مصر)

٭ ذکوان تابعی ہیں، اور وہ یہ روایت صحابی کے واسطے کے بغیر بیان کررہے ہیں، لہٰذا یہ ”مرسل“ ہے، اس لیے قابلِ حجت نہیں ہے،۔

٭ نیز یہ روایت صحیح احادیث کے مخالف بھی ہے، جس سے نبی کریم ﷺ کے سایہ مبارک کا ثبوت ملتا ہے۔

 

منکرینِ سایہ یہ کہتے ہیں کہ آپﷺ نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپﷺ کا سایہ اِس لیے نہیں تھا کہ اگر کسی کا آپﷺ کے سایہ پر قد م آجا تا تو آپﷺ کی توہین ہوتی اِس لیے اﷲ نے آپﷺ کا سایہ پیدا ہی نہیں کیا ۔

جہاں تک پہلی بات کا ذکر ہے کہ آپﷺ نور تھے (حالانکہ آپ ﷺ بشر تھے)اور نور کا سایہ نہیں ‘ سراسر غلط ہے۔ نوریوں کا سایہ صحیح حدیث سے ثابت ہے جب سیّد نا جابر رضی اللہ عنہ کے والد عبداﷲ رضی اللہ عنہ غزوۂ اْحد میں شہید ہوگئے تو اْن کے اہل و عیال اْن کے گرد جمع ہوکر رونے لگے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کہ جب تک تم انہیں یہاں سے اْٹھا نہیں لیتے اْس وقت سے فرشتے اِس پر اپنے پرّوں کا سایہ کیے رکھیں گے۔‘‘ (بخاری کتاب الجنائز ۲ / ۱۵)

اور دوسری بات بھی خلافِ واقع ہے کیونکہ سایہ پاؤں کے نیچے آہی نہیں سکتا جب کبھی کوئی شخص سائے پر پاؤںرکھے گا تو سایہ اْس کے پاؤں کے اْوپر ہوجائے گا نہ کہ نیچے ۔ لہٰذا ان عقلی اور نقلی دلائل کہ خلاف یہ بے عقلی کی اور بے سند باتیں حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .