مردوں کا دیکھنا اور سلام سننا: قبر والے نہ زندوں کا سلام سنتے نہ انہیں دیکھتے پہچانتے ہیں

مردوں کا دیکھنا اور سلام سننا: قبر والے نہ زندوں کا سلام سنتے نہ انہیں دیکھتے پہچانتے ہیں

مردوں کا دیکھنا اور سلام سننا

قبر والے نہ زندوں کا سلام سنتے نہ انہیں دیکھتے پہچانتے ہیں۔بعض اہل علم کا یہ کہنا کہ مردے زندوں کا سلام سنتے ہیں اور زائرین کو دیکھتے و پہچانتے ہیں،کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں۔اس قسم کے دلائل اور ان پر تحقیقی تبصرہ ملاحظہ فرمائیں :

پہلی روایت:   سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَا مِنْ رَّجُلٍ یَّمُرُّ بِقَبْرٍ، کَانَ یَعْرِفُہٗ فِي الْدُّنْیاَ، فَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ، إِلَّا عَرَفَہٗ وَرَدَّ عَلَیْہِ 

’’قبر والا دنیا میں جس شخص کا واقف تھا،وہ اگر اس کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے سلام کہتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے ۔‘‘

(مصنّفات أبي العبّاس الأصمّ : 419 (11)، فوائد أبي القاسم تمّام : 139، المعجم الشیوخ لابن جمیع الصیداوي : 333، تاریخ بغداد : 139/7، تاریخ ابن عساکر : 38/10، 65/27، سیر أعلام النبلاء للذھبي : 590/13)

تبصرہ: یہ مو ضوع ومن گھڑت سند ہے ،

۱: اس کاراوی عبدالرحمن بن زیدبن اسلم جمہورکے نزدیک ’’ ضعیف‘‘اور ’’ متروک‘‘ہے۔

٭ اس کے بارے میں حافظ ہیثمی فرماتے ہیں :
 ’’ اکثر محدثین اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔‘‘(مجمع الزوائد : 20/2)

٭ علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں:  ’’ عبد الرحمن بن زید کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام کا اتفاق ہے۔‘‘ (العلل المتناہیۃ : 1523)

٭ اس نے اپنے باپ سے جھوٹانسخہ راویت کیاہے۔مذکورہ روایت بھی یہ اپنے باپ سے کر رہا ہے۔

دوسری روایت:  اس روایت کا ایک موقوف شاہد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یوں مروی ہے:

قَالَ الْإِمَامُ ابْنُ أَبِي الدُّنْیَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَۃَ الْجَوْہَرِيُّ : نَا مَعْنُ ابْنُ عِیسَی الْقَزَّازُ : أَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ : نَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ، قَالَ : [إِذَا مَرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرٍ یَّعْرِفُہٗ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ، وَعَرَفَہٗ، وَإِذَا مَرَّ بِقَبْرٍ لَّا یَعْرِفُہٗ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ] ۔

’’جب کوئی شخص کسی جاننے والے کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے اور اسے سلام کہتا ہے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اور اسے پہچان بھی لیتا ہے،لیکن جب وہ ایسے شخص کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جس سے اس کی جان پہچان نہیں تھی اور اسے سلام کہتا ہے تو وہ اسے سلام کا جواب دیتا ہے۔‘‘

(شعب الإیمان للبیہقي : 8857، الصارم المنکي في الردّ علی السبکي لابن عبد الہادي : 224)

تبصرہ: اس کی سند ’’ ضعیف‘‘ہے،کیونکہ :
۱: اس کا راوی محمد بن قدامہ جوہری ’’ ضعیف‘‘ ہے۔

٭ اس کے بارے میں علامہ ہیثمی لکھتے ہیں:  ’’اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(مجمع الزوائد : 275/1)

٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  ’’اس میں کمزوری ہے۔‘‘ (تقریب التہذیب : 6234)

۲:  یہ سند ’’ منقطع‘‘ہے۔زید بن اسلم کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔

٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  ’’ہمارے علم میں (ایسی کوئی دلیل نہیں) کہ زید نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہو۔‘‘ (سیر أعلام النبلاء : 590/12)

تیسری روایت:   اس کا ایک اور موقوف شاہد یہ ہے :

قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ الْعَلَائِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَیْدِ ابْنِ أَسْلَمَ، قَالَ : مَرَّ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَصَاحِبٌ لَّہٗ عَلٰی قَبْرٍ، فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : سَلِّمْ ! فَقَالَ الرَّجُلُ : أُسَلِّمُ عَلٰی قَبْرٍ، فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : [إِذَا کَانَ رَاٰکَ فِي الدُّنْیَا یَوْمًا قَطُّ، إِنَّہٗ لَیَعْرِفُکَ الْـآنَ] ۔

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ایک قبر کے پاس سے گزرے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھی سے فرمایا : سلام کہیں۔اس نے عرض کیا : کیا میں قبر پر سلام کہوں؟فرمایا : اگر اس قبر والے نے دنیا میں ایک دن بھی تمہیں دیکھا ہو گا تو وہ اب تمہیں ضرور پہچان لے گا۔‘‘

(الصارم المنکي لابن عبد الہادي، ص : 224)

تبصرہ: یہ بھی موضوع(من گھڑت)سند ہے، کیونکہ :
۱:  اس کا راوی یحییٰ بن علاء ’’ کذاب‘‘ اور ’’ وضاع‘‘ہے۔
۲: اس میں محمد بن عجلان کی ’’ تدلیس‘‘بھی ہے۔
۳:  زید بن اسلم کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔

 

اس موضوع سے متعلق تمام روایات کی تحقیق اور تفصیل پڑھنے کیلئے اس لنک کو دیکھیں:  مردوں کا دیکھنا اور سلام سننا

Related Posts
Leave a reply