نبی کریم ﷺ پر امت پیش کی گئی: علم غیب سے متعلق ایک جھوٹی روایت

نبی کریم ﷺ پر امت پیش کی گئی: علم غیب سے متعلق ایک جھوٹی روایت

اسماعیل بن عبد الرحمٰن بن سدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:

”مجھ پر میری امت اپنے خمیر کی صورت میں پیش کی گئی، جیسا کہ سیدنا آدم علیہ السلام پر پیش کی گئی تھی، مجھے بتادیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ منافقوں کو پتا چلا، تو مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگے کہ محمد ﷺ کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کے بھی ایمان و کفر سے متعلق جانتا ہے، جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے، جب کہ ہم تو اس کے پاس ہی ہیں، ہمیں نہیں جانتا۔ آپ ﷺ کو خبر ملی تو فوراً منبر پر براجمان ہوئے، اللہ کی حمد وثنا کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا؟ میرے علم پر انگلیاں اٹھارہے ہیں، اب سے قیامت تک کے کسی معاملے کے متعلق پوچھ لیں، بتاؤں گا۔“

(تفسیر البغوي: ۵۴۶/۱)

تبصرہ: یہ جھوٹ ہے۔

۱: ابو طیب محمد بن عبد اللہ بن مبارک شعیری کے حالاتِ زندگی نہیں ملے۔

۲: سدی تابعی ہیں، براہِ راست (صحابی کے واسطے کے بغیر) نبی کریم ﷺ سے بیان کررہےہیں۔

Related Posts
Leave a reply
Captcha Click on image to update the captcha .