انا مدینة العلم و علي بابھا – میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ

انا مدینة العلم و علي بابھا – میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ

میں علم کا شہر ہوں؛ یہ حدیث عوام الناس میں حضرت علی رضی اللہ عنه کے فضائل کے حوالے سے کافی مشہور و معروف ہے۔ حدیث کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: انا مدینۃ العلم و علی بابھا ”میں علم کا شہر ہوں اور علی (رضی اللہ عنه) اس کا دروازہ ہیں۔“ لیکن یہ روایت ضعیف ہے، یعنی اصول محدثین کی رو سے پایۂ صحت کو نہیں پہنچتی۔ اس روایت کی تحقیق اور ائمہ دین کی رائے پڑھئے:

انا مدینۃ العلم و علی بابھا

سیدنا علی رضی اللہ عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أنا مدینة العلم، و علي بابھا،  فمن أراد العلم؛ فلیأت باب المدینة

”میں علم کا شہر ہوں اور علی (رضی اللہ عنه) اس کا دروازہ ہیں۔ لہٰذا جو علم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ شہر کے دروازے سے آئے۔“

(مناقب علي لابن المغازلي: ۱۲۹، تاریخ دمشق لابن عساکر: ۳۷۸/۴۲)

ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند کئی وجوہ سے مخدوش ہے، کیونکہ اس میں؛

۱:شریک بن عبد اللہ قاضی کی ”تدلیس“ ہے۔

۲: سلمه بن کُہیل نے صنابحی سے نہیں سنا۔

۳: سوید بن سعید حدثانی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمه اللہ فرماتے ہیں: ”یہ تدلیس کے ساتھ موصوف ہے، امام دارقطنی اور امام اسماعیلی وغیرہما نے اسے مدلس کہا ہے، نابینا ہونے کے سبب عمر کے آخری حصہ میں حافظہ میں بھی تغیر آگیا تھا، اسی وجہ سے ضعیف قرار پایا۔ (طبقات المدلّسین: ۱۲۰)

اس روایت کی تحقیق بھی پڑھئے: علم کا شہر،اس کی بنیاد،دیواریں، چھت اور دروازہ

 

میں علم کا شہر ہوں اور علی (رضی اللہ عنہ) اس کا دروازہ کے بارے میں ائمہ دین کی رائے

میں علم کا شہر ہوں، اور علی اس کا دروازہ عوام الناس میں رسول اکرم ﷺ کے فرمانِ گرامی سے  مشہور ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں، کیونکہ اصولِ محدثین کے مطابق یہ روایت پایۂ صحت کو نہیں پہنچتی۔

اس کی استنادی حیثیت جاننے کے لیے اس سلسلے میں مروی روایات پر تفصیلی تحقیق ہماری ویب سائیٹ کے زمرے انا مدینۃ العلم و علی بابھا پر ملاحظہ فرمائیں۔

اس روایت کے بارے  میں ائمہ  متقدمین کے  اقوال درج ذیل ہیں:

٭ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  وھو حدیث لیس له أصل

”اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔“ (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم:۹۹/۶، وسندہ صحیح)

نوٹ: امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ  سے اس حدیث کو صحیح کہنا بھی ثابت ہے۔ (تاریخ بغداد للخطیب:۳۱۵/۱۲، طبعة بشّار، وسندہ صحیح)

 ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ پہلے کا ہو اور کسی راوی کی صحیح حالت ظاہر ہوجانے کے بعد یہ رائے بدل گئی ہو۔ واللہ أعلم بالصواب!

٭ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وحدیث أبي  معاویة عن الأعمش، عن مجاھد، عن ابن عباس: ”أنا مدینة الحکمة، وعلي بابھا“ کم من خلق قد افتضحوا فیه۔

”ابو معاویہ سے بیان کی گئی عن الأعمش، عن مجاھد، عن ابن عباس کی سن سے یہ حدیث کہ میں حکمت کا شہر ہوں، علی اس کا دروازہ ہے۔ کتنے ہی اہل علم ہیں، جو اس میں عیب لگاتے ہیں۔“ (سؤالات البرذعي: ۷۵۳/۲)

٭ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ  نے اسے ”منکر“ قرار دیا ہے۔ (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۲۲/۸)

٭ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  ھذا حدیث غریب منکر” یہ حدیث غریب منکر ہے۔“ (سنن الترمذي: ۳۷۲۳)

٭ امام ابن حبان رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:  ھذا خبر لا أصل له  عن النبي صلی اللہ علیه وسلم۔

یہ روایت نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ (المجروحین: ۹۴/۲) 

٭ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  الحدیث مضطرب، غیر ثابت

”یہ حدیث مضطرب اور غیر ثابت ہے۔“ (العلل: ۲۴۷/۳، ح:۳۸۶)

٭ امام عقیلی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:  ولا یصح في ھذا المتن حدیث

”اس مفہوم کی کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔” (الضعفاء الکبیر : ۱۵۰/۳)

٭ امام ابو جعفر مطین رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:  لم یرو ھذا الحدیث عن أبي معاویة من الثقات أحد، رواہ أبو الصلت، فکذبوہ۔

”اس روایت کو ابو معاویہ سے کسی ایک ثقہ راوی  نے بھی بیان نہیں کیا۔ صرف ابو صلت ہروی نے بیان کیا ہے اور اسے محدثین کرام نے جھوٹا قرار دیا ہے۔“ (تاریخ بغداد للخطیب: ۱۷۲/۷)

٭ امام ابن عدی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:  ھذا حدیث منکر موضوع ۔

”یہ حدیث منکر و من گھڑت ہے۔“ (الکامل في ضعفاء الرجال: ۱۹۲/۱)

٭ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:  و کل ھذہ الروایات غیر محفوظة

”اس مفہوم کی تمام روایات منکر ہیں۔“ (تاریخ دمشق: ۳۸۰/۴۲)

٭ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ  نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔ (الموضوعات: ۵۳۳/۱)

٭ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  فحدیث باطل”یہ جھوٹی حدیث ہے۔“ (تھذیب الأسماء واللغات: ۴۹۰/۱)

٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  والحدیث موضوع، راواہ الأعمش ”یہ حدیث من گھڑت ہے، اسے اعمش نے بیان کیا ہے۔“ (تاریخ الإسلام للذھبي: ۱۱۹۱/۵، بتحقیق بشار عواد معروف)

٭ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسے خود ساختہ قرار دیا ہے۔ (منھاج السنة:۵۱۵/۷، أحادیث القصاص، ص:۶۲، مجموع الفتاویٰ:۱۲۳/۱۸)

٭ علامہ ابن طاہر رحمہ اللہ  نے بھی اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔ (تخریج أحادیث الإحیاء للعراقي:۱۸۳۰)

٭ علامہ عبد الرحمٰن معلّمی رحمہ اللہ  نے بھی موضوع کہا ہے۔ (حاشیة الفوائد الجموعة للشوکاني، ص: ۳۴۹)

صرف امام حاکم رحمہ اللہ  نے اسے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔ ان جمہور ائمہ متقدمین و متأخرین کی ”تضعیف“ کے مقابلے میں امام حاکم رحمہ اللہ  کی تصحیح ناقابل التفات ہے، کیونکہ وہ متساہل تھے۔ یہ بات اہل علم پر بخوبی عیاں ہے۔

بعض متأخرین اہل علم، مثلاً؛ حافظ علائی (النقد الصحیح بما اعترض من أحادیث المصابیح، ص: ۵۵)، حافظ ابن حجر (اللّآلي المصنوعة للسیوطي: ۳۳۴/۱)، حافظ سخاوی (المقاصد الحسنة: ۱۸۹) اور علامہ شوکانی (الفوائد المجموعة، ص:۳۴۹) کااس حدیثِ مناقب علی رضی اللہ کو  ”حسن“ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنه کے فضائل کسی ضعیف اور جھوٹی روایت کے محتاج نہیں

سیدنا علی رضی اللہ عنہ دامادِ رسول، خلیفۂ چہارم اور شیر خدا ہیں۔ زبان نبوت سے انہیں بہت سے فضائل و مناقب نصیب ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو بات رسولِ اکرمﷺ سے باسند صحیح ہم تک پہنچ گئی ہے، ان کی حقیقی فضیلت و منقبت وہی ہے۔

من گھڑت، منکر اور ضعیف روایات پر مبنی پلندے کسی بھی طرح فضائل و مناقب کا درجہ نہیں پا سکتے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت ہمارے سر آنکھوں پر، لیکن جھوٹی اور ضعیف سندوں سے مروی روایات کو فضیلت قرار دینا قطعاً صحیح نہیں۔

صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت فضائل ومناقب کی روشنی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اتنی واضح ہے کہ اسے ایسی روایات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی، جن کو محدثین کرام نے قبول نہیں کیا۔ 

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

Related Posts
Leave a reply