یہ پڑھئے!
  • القرآن: ”اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پیشمانی اٹھاؤ۔“ (الحجرات: ۶)
  • امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ : ”سند دین ہے اگر سند نہ ہوتی تو ہر کہنے والا، جو اس کے جی میں آتا، کہہ دیتا۔“ (مقدمہ صحیح مسلم: ۹/۱)

أنا مدینة العلم، و علي بابھا

”میں علم کا شہر ہوں اور علی (رضی اللہ عنه) اس کا دروازہ ہیں۔“

عوام الناس میں مشہور ہے کہ یہ رسوِ اکرم ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں، کیونکہ اصولِ محدثین کے مطابق یہ روایت پایۂ صحت کو نہیں پہنچتی۔ اس سلسلے میں مروی تمام روایات کی استنادی حیثیت جاننے کیلئے ہماری ویب سائیٹ ملاحظہ کریں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنه دامادِ رسول، خلیفٔہ چہارم اور شیر خدا ہیں۔ زبانِ نبوت سے انہیں بہت سے فضائل و مناقب نصیب ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنه کے بارے میں جو بات رسولِ اکرم ﷺ سے باسند صحیح ہم تک پہنچ گئی ہے، ان کی حقیقی فضیلت اور منقبت وہی ہے۔ من گھڑت، منکر اور ضعیف روایات پر مبنی پلندے کسی طرح بھی فضائل و مناقب کا درجہ نہیں پا سکتے۔

Zaeef Hadith | Managed by Tech Bite Me