یہ پڑھئے!
  • اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پیشمانی اٹھاؤ“۔ (الحجرات: ۶)
  • نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر جھوٹ مت بولو ۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہو “۔ (صحیح بخاری: ۱۰۶)
  • نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی اور وہ جانتا بھی ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹوں میں سے ایک ہے“۔(صحیح مسلم،مقدمہ)
  • نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ (صحیح بخاری: ۱۲۹۱)
  • امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اور اس وقت تک وضع ِ حدیث (حدیث گھڑنے کا فتنہ ) باقی رہے گا، جب تک ابلیس اور اُس کے پیروکار رُوئے زمین پر موجود ہیں۔ ‘‘ ( المحلی:۹؍ ۱۳ مسئلہ : ۱۵۱۴)
  • امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”سند دین ہے اگر سند نہ ہوتی تو ہر کہنے والا، جو اس کے جی میں آتا، کہہ دیتا۔“ (مقدمہ صحیح مسلم: ۹/۱)

سیدنا علی رضی اللہ عنه دامادِ رسول، خلیفٔہ چہارم اور شیر خدا ہیں۔ زبانِ نبوت سے انہیں بہت سے فضائل و مناقب نصیب ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنه کے بارے میں جو بات رسولِ اکرم ﷺ سے باسند صحیح ہم تک پہنچ گئی ہے، ان کی حقیقی فضیلت اور منقبت وہی ہے۔ من گھڑت، منکر اور ضعیف روایات پر مبنی پلندے کسی طرح بھی فضائل و مناقب کا درجہ نہیں پا سکتے۔ 

أنا مدینة العلم، و علي بابھا

”میں علم کا شہر ہوں اور علی (رضی اللہ عنه) اس کا دروازہ ہیں۔“

عوام الناس میں یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے حوالے سے کافی مشہور و معروف ہے، لیکن علمی میدان میں یہ روایت اصولِ محدثین کے مطابق پایۂ صحت کو نہیں پہنچتی۔ اس سلسلے میں مروی تمام روایات کی استنادی حیثیت جاننے کیلئے ہماری ویب سائیٹ ملاحظہ کریں۔

Zaeef Hadith | Managed by Tech Bite Me